Saturday, 5 September 2015

لٹیرے ۔۔1

یہ کہانی ہے  سندھ  دھرتی کی جسے لوٹنے والوں نے  دونوں ہاتھوں سے لوٹا ، اور نوازنے والوں  نے  بانٹنے میں کوئی تمیز نہیں کی ، دوست تو دوست ، دوست کی بیٹی ، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ،  سی ای او کے بیٹے ،  اور ملازمین تک کو نواز  دیا گیا ۔  یہ کہانی شروع ہوتی ہے  مکلی  کے تاریخی قبرستان سے  ۔۔۔ جی ہاں یہ کہانی ہے مکلی   کے اس قبرستان سے ملحقہ 500 ایکڑ قیمتی زمین کی ۔ جسے کوڑیوں  کے مول   ایک لٹیرے نے دوسرے کے حوالے کردیا ۔  ۔ اور لٹیرے  کوئی غیر نہیں ۔۔۔۔اسی سندھ دھرتی کے بیٹے  ہونے کے دعوے دار ہیں ۔  دھرتی ماں کو بیچ بیچ کر جن کے پیٹ پھول گئے ہیں ۔ لیکن جب بھی انکی کرپشن پہ انگلی اٹھائی جاتی ہے ۔ سندھ کا درد انکے پیٹ میں مروڑیں لینے لگتا ہے ۔ یہ کہانی ہے سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کی  جسے   غریب  کی جورو  سمجھ کر  نوچا گیا ۔  اس کہانی   کے دو مرکزی  کرادر ہیں ایک   ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری   اور دوسرے  ان کے دوست  لال جی  ۔۔۔۔ جی  ہاں ریاض  لال جی کی ۔ جو نہ صرف  انکے کارو باری پارٹنر ہیں بلکہ پارٹنر بن کے ہی انہوں نے ترقی کی منازل طے کی ہیں ۔  90 کی دہائی میں چاول کی خریدو فروخت کرنے والا ریاض لال جی  آصف زرداری کی دوستی  میں آج ارب پتی ہے ۔ اور چارکمپنیوں کا مالک  ہے ۔  90 کی دہائی میں جب  چاول کی ایکسپورٹ میں   کرپشن  میں انکی قابلیت  اور خصوصیات   زرادری صاحب کی نظر  میں آئیں ۔  تو جوہری کی نظر رکھنے والے آصف زرداری  سے ۔۔  اس دوست     میں کرپشن  کی بہترین  خصلتیں  بھلا کیسے چھپ سکتی تھیں
اور پھر  ریاض لال جی کی قسمت بدل گئی ۔ کراچی میں  برطانیہ کے  ڈپٹی  ہائی کمیشن کی دیوار سے ملحق   کلفٹن بلاک  5 کی گلی نمبر 8 میں انکی 128 نمبر کوٹھی کے گارڈ اور چوکیدار بھی  واکی   ٹاکی اور وائر لیس  سیٹ استعمال کرتے ہیں ۔ اور  اس گھر میں  بی ایم ڈبلیو ، لینڈ کروزر اور دوسری   مہنگی ترین گاڑیوں کی لائن  آصف زرداری کی دوستی میں   انکی ترقی کے واضح  ثبوت ہیں ۔ جبکہ  تاریخی  مہتہ پیلس کے عقب میں ھزاروں گز پر انکا کاروباری دفتر بھی بہت کچھ کہتا دکھائی دیتا ہے ۔ 90 کی دہائی  میں جب   انکے سکینڈلز آنے لگے تو انہوں  نے  صحافیوں کو خریدنے کی کوشش کی ، اور اسی کوشش میں ملک کے ایک معروف  اخباری گروپ کے سینئر تحقیقاتی صحافی  کو جب خریدنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے  نوٹوں کی گڈی  لال جی کے  منہ پہ  دے ماری  ، اور انکے قیمتی سوٹ پر چائے کا کپ الٹ گیا ۔ اس واقعے کی تصدیق  موصوف نے خود   راقم  کے ساتھ ایک ملاقات میں کی ۔  لیکن لال جی اب صحافیوں کو نہیں خریدتے  اب  میڈیا مالکان کو خریدتے ہیں ۔  تازہ کہانی یہ ہے کہ ریاض لال جی نے  سندھ کے ضلع ٹھٹہ   میں 500 ایکڑ  زمین اپنی بیٹی ، کمپنی کے سی ای او ، سی ای او کے بیٹے  اور سابق  ملازم کے نام الاٹ  کروالی ۔31 مئی  2012 میں   مکلی قبرستان  کے قریب الاٹ کی گئی اس زمین  کو حیرت انگیز طور پر 200 روپے فی ایکڑ  کے حساب  سے 30 سالہ لیز پر الاٹ کی گیا ۔  راقم  کے  پاس   موجود دستاویزات کے مطابق   ریاض  لال جی نے یہ زمین حکومت سندھ  کے   لینڈ یوٹیلائیزیشن  ڈپارٹمنٹ     کے افسران کی ملی بھگت سے حاصل کی ہے ۔ ریاض لال جی کی بیٹی سبین سکینہ   کے نام  پر منتقل  کی گئی  100 ایکڑ زمین   جاری کرنے کیلئے   لینڈ  ریونیو ڈپارٹمنٹ  نے 28 مارچ 2012  کو  منظوری دی ۔ جس پر عمل کرتے ہوئے  اسسٹنٹ  کمشنر ٹھٹہ  عمران بھٹی  نے  صرف 33 دن بعد 31 مئی 2012 کو زمین الاٹ کردی ۔ زمینوں کے کھاتوں کے ریکارڈ  کے فارم 7  کے مطابق   یہ زمین سرکار کی ملکیت ہے اور سرکار نے  یہ زمین  ریاض لال جی کی بیٹی کے نام  کیٹل فارمنگ کیلئے  30 سالہ لیز پر  الاٹ کی ہے ۔
اسی طرح  100 ایکڑ زمین  عباس اسٹیل گروپ کے سی ای او خالد خان  کے نام پر ، 100 ایکڑ زمین  خالد خان کے بیٹے  محمد عدیل  خان کے نام پر ، 100ایکڑ زمین عباس اسٹیل گروپ کے سابق  ملازم  محمد اشرف ولد محمد سلمان کے نام پر  اور  100 ایکڑ زمین   عنبرین عمر  زوجہ  حاجی عمر کے نام پر الاٹ کی گئی ۔
 زمین کی الاٹمنٹ  میں  بھی  فی ایکڑ  200 روپے کی کم قیمت  لگانے کیلئے 1992  کی اس پالیسی  کا سہارا لیا گیا  جس کے تحت  کیٹل فارمنگ کیلئے رعایتی نرخوں پر  حکومتی  زمین  دی  جاتی ہے ۔ الاٹمنٹ 2012 کی اور قیمت  1992 کی یعنی 20 سال  پرانے ریٹ ۔  اس طرح 500 ایکڑ زمین  اپنے دوست کی کمپنی اسکے رشتہ داروں اور ملازمین میں بانٹ دی گئی ۔
راقم الحروف  کے پاس موجود دستاویزات کے  مطابق    یہ تمام 500 ایکڑ زمین ایک ہی دن الاٹ کی گئی۔   بعد ازاں  یکم اکتوبر 2012 میں  محمد عدیل خان اور  محمد اشرف خان کے نام   پر الاٹ کی گئی  زمین  کو سلک بینک کے پاس مورگیج  کروایا    گیا اور  عباس اسٹیل گروپ کیلئے  7 ایل سی   کھولی گئیں ۔ 30 سالہ  زمین پر قانونی لحاظ سے کوئی شخس نہ قرضہ لے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی مالی فوائد سمیٹ سکتا ہے ۔ لیکن  آصف زرداری  کے دوست ہونے کے ناطے  سلک بینک  یہ سارے قانون  بالائے طاق رکھ دیتا ہے  ، کیونکہ  وہاں شوکت ترین بیٹھے تھے ۔ جو آصف علی زرداری  کے فرنٹ میں اور اومنی گروپ کے  سربراہ  انور مجید کے سمدھی ہیں ۔ اس طرح چار کاروباری   پارٹنرز کا ایک کارٹیل وجود میں آگیا اور ایک دوسرے کو سپورٹ کیا جانے لگا ۔  
دوسری جانب  یکم اکتوبر 2012 ہی کو    سبین لال جی ، عنبرین عمر  اور خالد خان کے نام پر  الاٹ کی گئی  300 ایکڑ  زمین  کو   نیشنل بینک آف پاکستان  کے پاس مورگیج کرونے کی کوشش کی گئی ۔ تاکہ  ریاض لال جی کی عباس اسٹیل گروپ اور   اسکی 3  سسٹر کمپنیز   عباس اسٹیل   انڈسٹریز  پرائیویٹ لمیٹڈ   ، العباس اسٹیل پرائیوٹ  لمیٹڈ  اور عباس انجینیئرنگ   انڈسٹریز  لمیٹڈ   کیلئے   اربوں روپے  فائنانس کی سہولت حاصل کی  جا سکے ۔ لیکن نیشنل بینک میں شائد  کسی ایماندار افسر سے پالا پڑگیا ۔ اور اس اراضی  کو   رہن نہیں رکھا گیا ۔ بلکہ  کراچی میں نیو   امریکی قونصلیٹ   کے سامنے والی پراپرٹی کو  نیشنل بینک کے پاس رہن رکھوایا گیا ۔ جس پر حبیب بینک  کی ایک عمارت  قائم ہے ۔ یہ قیمتی جگہ  بھی ریاض لال جی نے کیسے حاصل کی اسکی ایک الگ کہانی ہے ۔     
 راقم الحروف  کے پاس موجود  دستاویزات کے مطابق    مختیار کار ٹھٹہ  نے 9 ستمبر 2013 کو  قومی احتساب بیورو  کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کے نام   اپنے لیٹر  نمبر اے ایم 2013/562 میں  سبین سکینہ  بنت لال جی ،  عنبرین عمر ، اور عباس اسٹیل گروپ  کے سی ای او محمد خالد خان کے نام  الت کی گئی 300 ایکڑ زمین کو  اپنے ریکارڈ  میں  نیشنل بینک کے پاس رہن رکھی ہوئی ملکیت  ظاہر کیا ہے ۔ ۔  دوسری جانب خود  ریاض  لال جی نے   راقم الحروف  کے سامنے   سلک بینک سے  ان زمینوں کے  بدلے 7 ایل سی کھلوانے  کی تو تصدیق کی ہے تاہم   نیشنل بینک  سے لون لینے کی تردید  کی ہے ۔
سپریم کورٹ ا ٓف پاکستان نے سندھ کی زمینوں کی اس بندر بانٹ  کا نوٹس لیتے ہوئے     تحقیقات کا   حکم دیا ۔ اور ایف ا ٓئی اے   کراچی  کے کمرشل بینکنگ سرکل  نے تحقیقات کا  آغاز کیا ۔  لیکن باخبر زرائع کے مطابق   ایف  آئی اے کے  تحقیقاتی  افسر بھی   ریاض لال جی  کے ساتھ مل گئے ۔
اس بات کا ثبوت یہ ہے  اس رپورٹر نے ایف ا ٓئی اے کی۔۔ سی ایف آر  ( کنفیڈینشل   فائنل رپورٹ )  ریاض لال جی  کے پاس دیکھی اور اسکو پڑھا بھی ۔ اس رپورٹ کے مطابق     ایف  آئی اے  کے اسسٹنٹ لیگل آفیسر   اپنے افسران کو لکھتے ہیں
(  کہ ہمارے انویسٹی گیشن  آفیسر نے   اسسٹنٹ  کمشنر ٹھٹہ  سے  زمینوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں لیٹر لکھ کر پوچھا ، اور  متعلقہ  اتھارٹی نے تحریری طور پر ایف ا ٓئی اے کو بتایا کہ زمینوں کی الاٹمنٹ  صحیح  ہے ۔ اس لیٹر کی بنیاد پر ریاض لال جی کے خلاف   انکوائری کو  کلوز کردیا جائے ) ۔
ٹھٹہ  کے وہ   افسران جو اس زمین کی ھہیر پھیر  اور کھاتوں کی تبدیلی میں شریک کار رہے ،  ایف  آئی اے انہی سے لیٹر لکھوا کر ان کھاتوں کی تصدیق  کر رہی ہے ، اور  انہی کے لیٹر کو بنیاد بنا کر انکوائری ہی کو  کلوز  کرنے  کا کہا گیا ۔  اسطرح  سرمائے نے تحقیقاتی اداروں کو بھی خرید لیا ۔  اور نتیجتا   یہ تحقیقات سرد خانے کی نظر کر دی گئیں ۔
دوسری جانب ریاض  لال جی نے دعویٰ  کیا ہے کہ  یہ زمین  انکی  آبائی زمین ہے ۔  اور یہ انہیں 2006 میں الٹ کی گئی ۔ اس سلسلے  میں ریاض  لال جی ن نے راقم الحروف کو  جو دستاویزات فراہم کی ہیں انکے مطابق  12 اکتوبر 2006  کو  نو شاد  مر        چنت
ولد  رمضان مرچنت،  آسو ولد سگھاں ،   کرشن ولد آسو  ۔۔  ناز نین  ولد لال جی ۔،۔ خالد خان ولد غازی خان  اور سبین سکینہ   بنت  ریاج  لال جی نے  288 ایکڑ زمین   ریاض لال جی کے نام28 لاکھ 80 ہزار روپے کے عوض  منتقل کی ۔  
ان دستاویزات کے مطابق  حیرت انگیز طور پر  یہ زمین ریاض لال جی کی  زوجہ ، انکی  بیٹی  اور انکے سی ای او       خود یاض لال جی   کو یہ زمین  فروخت کر رہے ہیں ۔  اور پھر ریاض  لال جی  اپنی ہی زمین   2012   میں دوبارہ  30لاکھ کے عوض خریدتے ہیں ۔   اور اس مرتبہ  یہ زمین  اپنے آپ سے نہیں بلکہ    سرکار سے خریدتے ہیں ۔ اور حیرت انگیز طور پر  یہ زمین 288 ایکڑ  سے بڑھ کر  500 ایکڑ میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ یعنی زمین انڈے اور بچے بھی دیتی ہے  ۔ لیکن یہ صرف  سندھ دھرتی پر ہوتا ہے ۔ اور یہ کارنامہ صرف سندھ کا محکمہ ریونیو  ہی انجام دے سکتا ہے ۔ راقم الحروف کو  با وثوق  زرائع نے بتایا کہ اس زمین کی ڈیمارکیشن کیلئے اویس مظفر ٹپی نے  اپنے کارندوں کو استعمال کیا ۔ اور زمینوں کے  ان قبضوں کیلئے    ضلعی پولیس  افسر  اور ضلعی ریونیو افسر بھی اپنی  ہی مرضی کے  لگائے گئے ، تاکہ کہیں  بھی  کوئی رکاوٹ  کھڑی نہ ہو ۔  سندھ  کی زمینوں کی اس بندر بانٹ  پر   کچھ لوگوں نے جب سپریم کورٹ  پہنچ کر آواز  بلند کرنے کی کوشش کی تو ان پر جعلی مقدمے بنوا کر  انہین گرفتار کروا لیا گیا  اور کچھ کو 2  ماہ تک اغوا بھی کیا گیا ۔ تاکہ آئندہ کسی میں  ایسی  آواز بلند کرنے کی جرات  پیدا نہ ہو سکے ۔
سندھ کی زمینوں کی اس بندر بانٹ  کی دوسری کہانی  اگلی قسط میں  ملاحظہ کیجئے گا ۔