Saturday, 19 March 2016

زندگی کے بھید


وہ بڑا خوبرو  جوان تھا ۔۔ اللہ پاک نے اسے حسن کی دولت سے مالامال  کیا تھا ۔۔۔ یا یوں کہئیے کہ حسن کی دولت  اس پہ خوب لٹائی تھی ۔  وہ کالج میں  میرا کلاس فیلو تھا ۔   کالج  کی کئی  ماہ پارائیں  اسے ایک نظر دیکھنے کےلئے ترستی تھیں ۔  اور درجنوں  اس  سے  بات کرنے کیلئے  مہینوں  مختلف بہانوں کی پلاننگ  کیا کرتی تھیں ۔ کوئی  نوٹس لینے کا بہانہ کرتی  تو  کسی کو کوئی  علمی نقطہ بھی اسی سے ہی سمجھنا  ہوتا تھا ۔   چنچل لڑکیاں   اپنے جاننے والی سہیلیوں کو اسکا نام لیکر چڑاتی تھیں ۔ اور اگر کوئی  کسی دن ذیادہ  بن ٹھن کر آگئی تو  اسے   اسکی سہیلیاں   اس حسن کے پیکر پر جادو  کرنے  کا انداز بتاتی تھیں ۔ کئی  شوخ  لڑکیاں   تو اسے دیکھ کر سرد آہیں بھرتیں ۔  اور اپنی قسمت کو صلواتیں سناتیں ۔ غرض  اس نوجوان کےحسن کا چرچا  زبان زد عام تھا۔ 
وہ  میرا کلاس  فیلو تھا ۔۔ ہم ایک ہی ہاسٹل میں رہتے تھے ۔  اور خدا نے  اسکے خاندان کو  مال و ثروت  سے بھی خوب  نوازا تھا ۔ مجحے یاد ہے ، جب ہمیں  والدین کی طرف سے مہینے بھر کے خرچے  کیلئے  پچاس روپے ملتے تھے ۔ اس وقت بھی  وہ ہزاروں  میں کھیلتا تھا ۔  ہاسٹل میں رہتے ہوئے   گرمیوں میں جب کبھی آم کا موسم آتا ہم لوگ   پندرہ بیس  دن میں  کوئی ایک  کلو آم بمشکل خرید  پاتے  اور   اسکے ہاں روزانہ  آموں کی پارٹی ہوتی   اور کو لر  بھر بھر کر آم کا جوس بنایا جاتا  ،  وہ  اور اسکے تمام  دوست خوب  سیر ہو کر  آموں کے مزے اڑاتے ۔ اور  میرے جیسے  کم آمدنی والے لوگ اسے دیکھ کر  اسکی قسمت پر رشک کرتے  تھے ۔ 
لیکن پھر  زندگی نے کئی  موڑ کاٹے اور  پیٹ کا جہنم بھرنے کیلئے ہم سب اپنی اپنی   نوکری کی  غلامی میں جت گئے،   سارے کلاس فیلوز  ملک کے کونے کونے میں تنکوں کی طرح بکھر گئے ۔ میں نے اپنے لئے صحافت کا میدان  منتخب کیا اور اللہ  نے  اپنے کرم سے  جیو جیسے ادارے میں پہنچایا ۔  میں اسی  ادارے میں اپنی ڈیسک پہ موجود تھا کہ 22 سال بعد  ایک مانوس   سی آواز میرے موبائل کےاسپیکر  سے نکل  کر میری سماعتوں سے ٹکرائی ۔  کہنے والے نے کہا  ، مجھے پہچانا میں آپکا کلاس  فیلو  ۔۔۔۔۔ بول رہا ہوں  ، بہت مجبور ہوں  آپ سے  مدد چاہئے  آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں ۔  میں نے اسے   آفس  بلوا لیا ۔ 

لیکن جب  وہ میرے سامنے آیا   تو حیرت و استعجاب کے مارے  میرا منہ  کھلے کا کھئلا رہ گیا ، وہ خوبرو جوان  جس پر  لڑکیاں مرتی تھیں ، ہڈیوں کا ڈھانچہ   بن چکا تھا ،  چہرے کی شگفتگی    پر مایوسی   کے سایوں  کی چادر تن گئی تھی ۔۔۔ میں  نے بڑے تپاک سے  ا سے   گلے لگایا ۔۔۔۔  اور  گلو گیر  آواز میں پوچھا کہ یہ سب کیا ہے ۔ تو  اس  نے جو کچھ بتایا   وہ سن کر  میں چند لمحوں  کیلئے   مبہوت ہو گیا ۔  رندھی ہوئی  آوا میں رقت سے گویا ہوتے ہوئے اس نے بتایا  کہ وہ   جگر کے عارضے میں مبتلا ہے ۔ اور اسکے جگر  نے کام چھوڑ دیا ہے ۔۔۔۔۔، اسکے بقول   کبھی  کبھی مجھ پہ  ایسےدورے پڑتے ہیں کہ  بس بستر پر ہی گر جاتا ہوں ، کچھ علاج کرواتا ہوں تو کچھ   چلنے پھرنے کے قابل ہوتا ہوں ، یہاں میرا علاج نہیں مجھے علاج کیلئے بھارت جانا پڑیگا ۔ جس پر  اندازا   60 لاکھ روپے کے اخراجات آئینگے ۔ دو بچوں اور ایک جوان گھر والی کا ساتھ ہے ، نوکری بھی کوئی خاص نہیں تھی ۔۔۔۔  جو تھی وہ بھی  بیماری میں اسپتالوں کے چکر میں  چھوٹ گئی ۔  آپ میری مدد کریں ۔  اسکی روداد سن کر مین سوچنے لگا  کہ  میں وہ حوصلہ کہاں سے لاوں کہ ا سکے مجروح جزبات پر  دلاسوں کے پھائے رکھ سکوں ، اتنی  ہمت کہاں سے لاوں  کہ اسکی  مایوسی میں بدلتی زندگی میں  امید کی کوئی چنگاری ، کوئی کرن اور کوئی  آس جگا  سکوں  ۔ ایسے جملے کہاں سے لاوں  جو اسکی  زندگی میں نئی روح پھونک دیں ، اسے جینے کا حوصلہ دیں ۔۔۔۔۔۔۔   میں نے چند رابطہ کار لوگوں سے علاج کی غرض  ے بھارت جانے کیلئے  اسکا رابطہ کرایا ، ۔۔۔۔

آج مجھے نہیں معلوم  کہ اسکی زندگی کس حال میں ہے کہ اسکے کنٹیکٹ نمبرز بھی مسلسل بند ہیں ۔  لیکن میں سوچتا ہوں کے  میرے ملک   میں ایسے  کتنے حسین و خوبرو جوان ہیں جو  اس مٹی کی ترقی میں اپنا خون پسینہ شامل کرنے کے بجائے    مختلف  بیماریوں سے  لڑتے لڑتے اپنی زندگیاں ہار دیتے ہیں ۔ کہ اس ملک کے حکمراں 68  سالوں میں   میری قوم کو نہ تو پینے کا صاف پانی فراہم کر سکے  اور نہ ہی بیمایوں کے چنگل سے انہیں چھڑا سکے  ہیں ۔علاج اتنا مہنگا اور نا پید ہے کہ میری قوم کے  فرزند ایڑیاں رگڑ کر مر جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ میرے ذہن میں آیا کہ ریاست تو ماں ہوتی ہے ، وہ اپنی گود میں پلنے والے بچوں کی چار۔بنیادی ضرورتوں   کی ذمہ دار ہوتی ہے ، تعلیم ، صحت ، روزگار اور چھت دینا  تو اسکا  فرض ہوتا ہے ۔ لیکن آج میری ریاست نے ،  میری ماں  نے    یہ سارے فرض اتار کر این جی اوز کے کندھوں پہ ڈال دئے ہیں اور اپنے بیٹوں کو  خیراتی اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔۔۔۔۔۔   اور میں  سوچنے  لگا  کہ وہ جوانی ، وہ حسن ، وہ  پیسہ جسے انسان سب کچھ سمجھتا ہے ، وہ کس طرح لمحوں میں  ہاتھوں سے پھسل کے نکل جاتا ہے ،  کہ انسان صرف ہاتھ ملتا  رہ جاتا ہے ۔ جسے وہ سب کچھ سمجھتا ہے ،  وقت کا پہیہ  اسے کچل کر رکھ دیتا ہے ، ساری جوانی خاک میں مل جاتی ہے ۔ اور جب انسان  پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے  تو  شاہراہ حیات پر صرف   قدموں کے  نقوش۔۔۔۔ نشان راہ   کے طور پر نظر آتے ہیں ۔