Tuesday, 10 May 2016

پیپلز پارٹی کا انتقام


وہ بدھ کی شام تھی ، اور میں  ٹھٹہ سے کراچی آ رہا تھا ۔ راستے میں مجھے جگہ جگہ  پاکستان  پیپلز پارٹی کے انتقام   کا شکار لوگ نظر آئے  اور میں خود  بھی  اپنے آپ  کو ان میں سے ایک محسوس کرنے لگا ۔  پیپلز پارٹی   سے جب ریاست   نے انتقام لیا تو بھٹو کا پورا خاندان ہی ختم کر ڈالا ، ذوالفقار علی بھٹو ، انکی بیٹی بے نظیر بھٹو ،  بے نظیر کے بھائی  میر مرتظیٰ   بھٹو ،  یہ سب اس ریاستی انتقام کا شکار ہوئے  جو  انیس سو ستر کی دہائی کے آخر میں  شروع ہوا ۔ لیکن پیپلز پارٹی نے ریاست کے بجائے  یہ انتقام عوام سے لیا ۔
آپ سوچ رہے ہونگے کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں  رہ کر کیسے کسی سے انتقام لے سکتی ہے ۔ تو جناب والا ، جب کسی کا بس کسی اور پہ نہیں چلتا تو وہ اپنے ہی لوگوں سے انتقام لیتا ہے ۔ اور جب اپنے اپنوں سے انتقام لیں  تو وہ بہت ہی بھیانک انتقام ہو تا ہے ۔
نیشنل ہائی وے سے  سفر کرکے کراچی  آتے ہوئے میں نے  پاکستان اسٹیل مل سے  ملیر  ہالٹ کے برج  تک 13 کلومیٹر  کا سفر  دو گھنٹے  میں طے کیا ، اسکی وجہ یہ نہیں کہ شاہراہ پر رش تھا  وجہ یہ تھی کہ  پوری سڑک  میں اتنے بڑے گڑھے ہیں جس نے  ٹریفک کی روانی کو متاثر کیا ۔  یہ سارے گڑھے اس علاقے میں ہیں   جو ملیر کا علاقہ کہلاتا ہے اور جہاں سے ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی انتخابات جیتتی ہے ۔ اور حال ہی کے بلدیاتی انتخابات میں یہاں سے  پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے عبدللہ مراد   جیتے ہیں ۔ لیکن پیپلز پارٹی   اپنے ہی ووٹرز اور اپنے ہی ہمدردوں  سے اس طرح انتقام لے رہی ہے کہ ، 13 کلومیٹر کی اس سڑک پر سفر کرنے والا ہر شخص دو گھنٹے  تک پیپلز پارٹی کو گالیاں دیتا ہے ۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین اگر پارٹی  کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانا چاہتے ہیں اور اسکی  وجوہات معلوم کرنا چاہتے ہیں ۔
  تو ایک  دن بغیر کسی کو بتائے نئی گاڑی  لیکر  وہ یہ 13 کلومیٹر کا سفر کریں ، مجھے یقین ہے کہ انکی نئی گاڑی کے چیچز سے آوازیں آناشروع ہو جائیں گی ۔ اور اگر  اے سے کے بغیر  گاڑی کی کھڑکیاں کھول کر سفر  کرینگے  تو دھول اور مٹی میں انکے بال اسطرح  سفید ہو جائینگے  جیسے سینیٹر اعتزاز احسن کے ہیں ۔ اور انکی یہ شکل دیکھ کر شاید پیپلز پارٹی کے کارکن بھی بلاوال   بھٹو کو پہچان نہ پائیں ۔   اور اس سفر کے دوران میں یہ سوچنے لگا کہ آخر پاکستان پیپلز پارٹی کے  گذرشتہ آٹھ سالوں میں کس نے ہاتھ روکے کہ وہ ان سڑکوں کی تعمیر نہ کرے ۔ یہہی  وہ سڑک  ہے جس کے زریعے  بیرون ممالک سے آئے ہوئے سرمایہ کار تھر کے کوئلے تک  کا سفر طے کرتے ہیں ۔  پیپلز پارٹی نے اپنے حال کے آٹھ سالہ اقتدار کے دور میں  اپنے ووٹرز سے وہ انتقام لیا ہے ، کہ اب انکی چیخیں نکل گئی ہیں ، سارے ترقیاتی کاموں کا پیسہ   منتخب نمائندوں نے اپنی تجوریوں میں بھرا ہے ۔ اور نواب شاہ کو چھوڑ کر پورے سندھ  کو کھنڈر بناکررکھ چھوڑا ہے   اور مجھے ڈر ہے کہ اگلے انتخابات میں  اگر عوام  اپنے انتقام پر اتر آئے تو وہ بہت برا ہو گا ۔  
پیپلز پارٹی کے اس انتقام کی مختلف شکلیں اور مختلف جہتیں ہیں ۔  یہ انتقام   مجھے ، تھر کے صحراوں میں بھوک سے بلکتے اور غذا کی قلت کا شکار ان بچوں میں بھی نظر آیا جو بلک بلک کر   ہر روز  باری باری اپنی جان کی بازی ہار رہے ہیں ۔  یہ انتقام مجھے   ٹھٹہ  کی  محکمہ جنگلات کی ان زمینوں پہ بھی نظر آیا ، جو ھزاروں  ایکڑ کی تعداد میں  سابق صدر  آصف علی زرادری کے فرنٹ مین  انور مجید   کو الاٹ کر دی گئیں ۔۔۔ یہ انتقام   مجھے کراچی سے لیکر ٹھٹہ تک کی اس ساحلی پٹی پہ بھی نظر آیا جو مظفر ٹپی کے زریعے لاٹ کر دی گئیں ۔ اور جہاں شاید مستقبل میں  کراچی جیسا ایک اور شہرا ٓباد کیا جائے ۔ اور ملک ریاض بحریہ ٹاون  ٹو شاید وہیں آباد کریں ۔  پیپلز پارٹی کا یہ انتقام مجھے ، مکلی کے تاریخی قبرستان سے متصل اس پانچ سوا یکڑ زمین  پر بھی نظر ٓآیا  جو   صدر زرداری کے قرییبی   ساتھی  ریاض لال    جی ان    کی بیٹی   سبین  سکینہ  اور انکے خاندان اور ڈائریکٹرز کے نام پر جعلی کاغذات پر الاٹ   کردی گئیں ۔ شاید پیپلز پارٹی نے یہ سوچا ہو کہ ریاستی انتقام کا بدلہ ریاستی زمین کی بندر بانٹ سے  ہی لیا جا سکتا ہے ۔
پیپلز پارٹی کا انتقام مجھے بدین شہر کے کل  ڈھائی کلومیٹر کی ان شہری  سڑکوں پر بھی نظر آیا ۔ جو کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں ۔ اور یہی حال مجھے دادو شہر کی سڑکوں پر نظر آیا ۔
 پیپلز پارٹی کا یہ انتقام مجھے  کندھکوٹ سے لیکر   بخشاپور گیس فیلڈ کی 18 کلومیٹر کی اس قومی شاہراہ پر بھی نظر آیا جسکا ٹھیکہ موجودہ اپوزیشن لیڈر کے بھائی کو 40 کروڑ روپے میں دیا گیا ۔ اور سڑک  اپنے بننے کے صرف دو ماہ  بعد ہی ٹوٹ  پھوٹ کا شکار ہو گئی ، اور تارکول کے بجائے   سڑکوں پر پھیرا جانے والا کالا آئل    ایک بارش کے بعد ہی  ترقیاتی کاموں  میں کرپشن کو بے نقاب کر دیتا ہے ۔
 پیپلز پارٹی کا یہ انتقام مجھے  سندھ کے گاوں دیہات میں سڑکوں  کے نام پر بننے والی ان پگڈنڈیوں پر بھی نظر آیا  جہاں صرف پتھر بچھائے جاتے  ہیں ، اوراس پر بجری ڈال کر اوپر کالے آئل  کا چھینٹا مار دیا جاتا ہے ہے  اور ٹھیکیڈار اپنے بل کلیئر  کرالیتا ہے ۔ کہ ان بلوں میں اوپر والوں کا بھی حصہ ہو تا ہے ۔  بدین مین  ٹنڈو باگو  سے  نندو شہر تک  بننے والی پگڈنڈی  میری  شعوری عمر سے آج تک  گذرشتہ پچیس سال سے بن رہی ہے ،  اور اب تک سرکاری فائلوں  میں  یہ 14 کلومیٹر کی سڑک  آٹھ  بار بن چکی ہے ۔ اور بننے کے بعد  6 ماہ میں ہی ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے ۔ مجھے سمجھ نہیں  آتا کہ پیپلز پارٹی نے ایسے انجینیئر کہاں  سے درآمد کئے ہیں    جو تار کول کے بجائے سڑکوں پر کالا آئل  ڈال کر   پوری  قوم کا منہ کالا کرتے ہیں ، اور یہ کیسے انجینیئر ہیں جنکی  بنائی گئی سڑکیں  دو   چار ماہ میں ہی مکمل طور پر  ٹوٹ  پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں ۔  اور سندھ کے سالانہ بجٹ میں ذکر کی گئ   ھزاروں کلومیٹر سڑکیں صرف بل بناکر سرکاری خزانے سے پیسہ نکالنے کیلئے ہی ڈالی جاتی ہیں ، جن کا زمین پر کوئی وجود ہی  نہیں ہوتا  ۔ 
عوام سے پیپلز پارٹی کا یہ انتقام   مجھے لاڑکانہ شہر میں بھی نظر آیا  جہاں اربوں روپے کے ترقیاتی پروجیکٹس کا  پیسہ مٹی میں ملا دیا گیا اور زمین پر ان پروجیکٹس کا کوئی وجود ہی نہیں ۔    دادو   ، بدین ٹھٹہ  ، اور لاڑکانہ وہ شہر ہیں جن کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی   کو ووٹ دئے اور ہمیشہ  ان حلقوں سے پاکستان پیپلز پارٹی  کے لوگ ہی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے منتخب ہوئے ۔ لیکن  پیپلز پارٹی نے ان شہروں کو کھندر بنا کر ، ان  شہروں کے فنڈز کھا کر  اپنے عوام اور اپنے ہی ووٹرز سے انتقام لیا ہے ۔
میں تو سندھ کا چپہ چپہ گھومتا ہوں ۔  تو سندھ کے عوام سے پیپلز پارٹی کا انتقام مجھے نظر آتا ہے ، اور میں کانپ جاتا ہوں  کہ جس دن عوام اپنے انتقام پہ اتر آئے تو پیپلز پارٹی کا کیا ہوگا ۔