Monday, 23 May 2016

ملا اختر منصور کی ہلاکت ۔۔۔۔ افغانستان میں پاکستانی مفادات کو خطرہ


  2013 میں     ریکوڈک    کے حوالےسے  میں  ایک تحقیقاتی  رپورٹ کے  سلسلے میں دالبدین کے ایئرپورٹ پر اترا ۔۔۔۔ میں  جیسے ہی   دالبندین ایئرپورٹ  سے  نکلنے لگا تو   دیکھا کہ چھوٹے سے شہر کی   گلیوں  کے ایک ایک کونے پر ایف سی کے جوان پہرہ دے رہے تھے ۔   پوچھنے پر معلوم ہوا کہ چونکہ اس ائرپورٹ  پر امریکیوں  کی نقل و حرکت ذیادہ ہے ۔ انکے طیارے یہاں دن رات  اترتے اور افغانستان کیلئے اڑان بھرتے  ہیں لہذا انکی سکیورٹی کیلئے   یہ نفری ضروری ہے ۔  اور پھر  دالبندین سے ریکوڈک اور  وہاں سے  تافتان بارڈر تک  کا سفر  انتہائی  اکیلے  پن کا سفر تھا  ، 300 کلومیٹر کی پوری سڑک پر  کہیں کہیں آپ کو کوئی گاڑی نظر  آئے گی ، یا کوئی بس یا کوچ  جسکی چھت پر ایران سے آنے والا سامان لدا ہوتا تھا نظر آتی تھی ۔واپسی  کے سفر  میں جب  میں دالبدین ایئرپورٹ پہنچا تو  ایئرپورٹ حکام نے میرے سامان میں موجود  ایک  بیٹری ٹارچ پہ اعتراض  کیا کہ آپ یہ  جہاز میں نہیں لے جاسکتے ، بیٹری سے کوئی دھماکہ ہو سکتا ہے ۔  لیکن وہیں میں نے    امریکیوں کو بھی  اسی جہاز مین سوار ہوتے دیکھا  جو  شاید وہاں   جاسوسی مشن پر تھے ، ۔۔۔۔ اور  وہ  ائرپورٹ سیکیورٹی کا عملہ جو ایک ٹارچ  کی بیٹری پہ مجھے روک رہا تھا ، امریکیوں کو بغیر  چیکنگ  کئے۔۔ جہاز پہ سوار کرا رہا تھا ، اور  یہی حال ایک بار میں نے سکھر ائر پورٹ پر بھی دیکھا ۔

خیر بات ہورہی تھی   تافتان بارڈر کی ۔۔۔ تافتان بارڈر    تک کا سفر  بہت یادگار  تھا ، کہ ایک طرف صحرا  میں لمبی کالی لکیر کی مانند  سرکتی  ہوئی سڑک  تھی   اور اس سڑک کی  دوسری جانب   تافتان تک جاتی انگریز کے  زمانے کی بچھائی ہوئی   ایک ریلوے لائن تھی ۔ اور اس سڑک پر سفر کرتے وہ منظر میں کبھی نہیں بھول سکتا ۔ کہ اگرچہ   اس ریلوے لائن پر ریل تو اب نہیں چلتی تھی  لیکن  ایک بوڑھا پاکستانی لائن مین  سخت گرمی میں   اس ریلوے لائن  کی مرمت کر رہا تھا ۔ ریلوے لائن پہ جہان جہاں ریت آگئی تھی وہ اسے ھٹا رہا تھا ۔  اور میں سوچنے لگا کہ اس صحرا  میں یہ بوڑھا کس ایمانداری  سے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا ہے ۔ جہاں اسے پوچھنے  یا جواب طلبی  کرنے  والا کوئی اعلیٰ  افسر  نہیں ۔ 

خبروں کے مطابق    تافتان بارڈر سے  آنے والی اسی سڑک پر  احمد وال   ٹاون  کے قریب  طالبان   رہنما ملا اختر منصور  کو امریکہ  نے ایک   ڈرون حملے  کے زریعے  ہلاک کردیا  ۔  جو ا 21  مئی کو  ایران سے واپس آرہے تھے  ، اور وہ     ولی محمد  ولد شاہ محمد   کے فرضی نام سے سفر کر رہے تھے ۔ اور میں سوچنے لگا کہ امریکیوں کیلئے یہ ٹارگٹ کتنا آسان تھا کہ اس سڑک پر اکا دکا   گاڑیاں  کہیں نظر آتی ہیں ۔  اور  پھر سیٹلائٹ کے زریعے  اس اکیلی گاڑی کے اندر بیٹھے ہوئے لوگوں  کو شناخت بھی کیا جساسکتا ہے ۔  اور  مخبری تو    اس امیگریشن نظام نے کر ہی دی ہوگی  جو مشرف کے زمانے میں  ہمارے ایئرپورٹس پر لگایا گیا  اور جو ڈائریکٹ  امریکی  انٹیلی جنس  ایجنسیوں  کی نگرانی میں کام کرتا ہے ۔ اور امیگریشن کرانے والے ہر شخص کا ریکارڈ امریکہ تک  جہاز اڑنے سے پہلے پہنچ جاتا ہے ۔  اور ویسے بھی  بلوچستان کے اس علاقے   میں برسوں  امریکہ  کے سیکیورٹی اہلکار  اپنی خدمات  انجام دیتے رہے ہیں ۔ اور اس عرصے  میں   انہیں کتنے ہی  ضمیر فروش بھی مل گئے ہونگے ۔  اور وہ  اب  بھی  انکی خدمات سے مستفید  ہوتے ہونگے ۔

پاکستان  اور چین کی اس وقت افغانستان میں  یہ حکمت عملی ہے کہ  کسی طرح     افغا نستان سے امریکہ کا مکمل انخلا   ہو جائے  تاکہ    خطے میں   چینی اور پاکستانی مفادات  کے حصول آگے بڑھا یا  جا سکے ۔  جس میں سر فہرست تاپی گیس  پائپ لائن  منصوبہ ہے جس کے  زریعے    ترکمانستان سے براستہ افغانستان   گیس کو پاکستان تک  پہنچایا جائے  گا ۔ جبکہ  دوسرا  بجلی کی ٹرانسمیشن لائن   بچھانے کا منصوبہ کاسا ہے (  سینٹرل  ایشیا  اینڈ ساوتھ ایشیا  الیکٹرسٹی ٹراسمیشن لائن )  جسکے زریعے پاکستان 1000 میگاواٹ  بجلی حاصل کریگا ۔ اور ظاہر ہے جب تک  افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا ۔ ان منصوبوں تک   رسائی   ناممکن رہے گی ۔ ۔ اور تیسری جانب افغانستان  سے بھارتی  اثرو  رسوخ کا خاتمہ   ہے ، کیونکہ افغانستان میں  بڑھتا  ہوا  بھارتی اثرو رسوخ نہ صرف پاک چین اقتصادی راہداری  کیلئے خطرہ ہے بلکہ   بلوچستان کی  سلامتی کیلئے بھی ایک بڑا چیلنج ہے
 دوسری جانب  امریکہ کی یہی کوشش ہے کہ اب افغانستان میں کسی  بھی طرح امن  قائم نہ ہو پائے ۔ ورنہ پاکستان  اور افغانستان کے زریعے  چین اس خطے میں  اپنے قدم مضبوطی سے  جما لے گا ، اور اپنے منصوبوں کو آگے بڑھائے گا ۔ اس مقصد  کیلئے  امریکہ کی  افغانستان میں موجودگی ضروری ہے اور  اسی  وجہ سے وہ طالبان کو مزاکرات سے دور  رکھنے کی کوشش کر ررہا ہے ۔

پاکستان  کی حکمت عملی  اس سلسلے میں دو جہتی  ہے ۔ ایک طرف  کابل حکومت  کو  طالبان  کے زریعے  بڑھتے ہوئے   حملوں  کے زریعے   دباو میں لینا  ہے  ، تاکہ وہ غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا  کی بات چیت شروع  کرے اور یہی طالبان کی  پہلی شرط ہے  کہ  افغانستان سے غیر ملکی افواج کا  مکمل  انخلا  ہو  ۔   دوسری جانب پاکستان نے حکمت یار  کو کابل حکومت کا حصہ بناکر اندرونی طور پر  حکومت کو  دباو میں لینا شروع کر دیا ہے  کہ افغانستان سے غیر ملکی  انخلا   کیلئے بات چیت شروع کی جائے ۔ اور حکمت یار نے اپنی کابل  آمد  کو بھی اسی وجہ سے موخر کیا ہے کہ  غیر ملکی افواج کے انخلا ٗ   کا کوئی ٹائم  ٹیبل  مل جائے تو   کابل   میں قدم رکھا جائے ۔  اس دو جہتی حکمت عملی  کا  یک نکاتی ایجنڈا    افغانستان سے مکمل امریکی انخلا ہے ۔ کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ  افغانستان میں امریکی موجودگی    خطے میں اور خصوصا  افغانستان میں بھارتی  موجودگی اور اس کے  اثرو رسوخ  کو بڑھا وا دے گی ۔

اس  دو رجہتی پاکستانی حکمت عملی کو ذہن میں رکھتے ہوئے  یہ  کہا جا سکتا ہے  کہ  ملا اختر منصور  کی ہلاکت خطے میں پاکستانی  مفادات کو ٹھیس  پہنچانے کا سبب  بنے گی  اور طالبان کو مذاکرات سے مزید دور لے جائے گی ۔ کہ ملا اختر منصور  بلاشبہ ایک فیلڈ کمانڈر تھے ، جو  نجیب ، روس  اور  پھر مابعد    روس  کے زمانے میں  پوری طرح    جنگوں میں برسر  پیکار رہے ۔  اور حال ہی میں   ملا عمر کی   ہلاکت کے بعد   کابل حکومت   پر حملوں  کے زریعے اپنا  دباو بڑھانے کی  کامیاب حکمت عملی   پر گامزن تھے ۔
 دوسری جانب   ملا اختر   منصور  کی  ہلاکت  سے ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں   کو  نئے سرے سے   اپنے  سیکیورٹی میکنزم کو جانچنے کی ضرورت ہے ۔   کہ ھمارے سسٹم  سے کس  طرح  امریکیوں کو معلوم ہوا  کہ   ملا اختر منصور  کوئٹہ میں ہے  اور وہ   ولی محمد کے کور   میں موجود ہے ۔  کیا  یہ انفارمیشن نادرا  کے سسٹم سے لیک ہوئی ہے  یا  ہمارے  امیگریشن سسٹم کی امریکہ کے ساتھ کولبریشن کی   مرہون منت ہے ۔   دوسری جانب   ان  خدشات سے بھی صرف  نظر نہیں  کا جا سکتا  کہ   کیا ایران سے ان کی واپسی   کی خبر  ایران یا وہاں موجود   بھارتی لابی کی مخبری کی  کارستانی ہے۔ بہر حال پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیوں کو ایک بار پھر  اپنے  سیکیورٹی قدامات اور اپنی حکمت عملی    کا  از سر نو جائزہ  لینے کی ضرورت ہے ۔ ۔