Wednesday, 25 April 2018

بدین سے زرداری کیلئے ٹیلیفون ۔۔۔۔۔


بدین سے   زرداری کیلئے   ٹیلیفون ۔۔۔۔۔



کل  رات  بدین سے ایک کال موصول ہوئی ۔۔۔ کال کرنے والا رو رہا تھا ، اور اسکی ہچکی بندھی تھی ۔۔۔ کہنے  لگا بڑے ظالم ہو آپ لوگ ۔۔۔۔  یہ سن کر مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی ۔ خوف  میرے اندر اترنے لگا ۔۔۔کہ یا خدا خیر  مجھ سے کیا ظلم  ہو گیا ۔۔۔۔ اسکی کچھ ہمت بندھائی  تو اسکی ہچکیاں  ماند پڑیں  کہنے لگا ۔۔ آپ میڈیا والے بہت ظالم ہو ۔۔۔۔ میں نے کہا تفصیل سے  اور کھل کے بتاو کیا بات ہے  ۔۔۔ کہنے لگا   سائیں بات یہ ہے  ۔۔۔۔ ہم لوگ  پانی کیلئے ترس رہے ہیں ۔۔۔ ہمارے ہاں  پینے کا پانی بھی نہری نظام سے آتا ہے ۔۔ لیکن حکومت نے  دسمبر سے ہمارا پانی بند کیا ہوا ہے اور اب اپریل بھی  ختم ہو رہا  ہے شدید  گرمی  میں  ہم غریب لوگ  پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔۔۔ اور حالت یہ  ہے کو اب تو جانور بھی مر رہے ہیں ۔۔۔پیاس  کی شدت سے انکی آنکھوں   سے بھی اب آنسوں بہتے رہتے ہیں ۔۔۔  کہنے لگا   ہم نے  جانور بیچ کے نلکے لگائے  ، کنویں کھودے  ۔۔۔ اسکے علاوہ ہم غریب لوگ اور کیا کر سکتے ہیں ۔ لیکن    زیر زمین  پانی کی سطح   کم ہونے  سے    کنویں بھی سوکھ چکے ۔۔۔نلکوں نے بھی پانی دینا بند کر دیا ہے ۔۔۔۔۔

میں نے  کہا  بابا  اس میں ہمارا کیا قصور ہے ۔۔۔۔ ہم کیسے ظالم ہو گئے  ۔۔کہنے لگے  بیٹا   آپ لوگ   بڑے بڑے  میڈیا چینلز میں کام کرتے ہو ۔ اسمبلیوں  اور وزیروں تک آپ کی رسائی ہے ۔۔۔ لیکن آپ لوگ بھی ہمیں مرتا دیکھ کر کوئی آواز نہیں اٹھا رہے ۔۔۔ ہمیں تو ٹی وی پہ ایسے لگتا ہے کہ  اس قوم کے سارے  مسئلے ختم ہو چکے ہیں صرف سیاستدانوں  کی بیان بازی   جاری  رہتی ہے ۔۔۔۔ خدا کے بندو   ۔۔ میڈیا والو  ۔۔ لوگ مر رہے ہیں ۔۔۔ ہمارے مویشی  ہلاک ہو رہے ہیں ۔۔۔۔ ہماری کچھ تو داد رسی کرو ۔۔۔۔۔ میں نے  پوچھا   ،، چاچا یہ بتاو    پانی گیا۔۔ کہاں     ؟ جو آپ کو نہیں مل رہا ۔۔۔۔ کہنے لگا  بیٹا  ہم سے کیا پوچھتے  ہو ۔۔ آپ میڈیا  والوں کو تو سب پتہ  ہوتا ہے ۔۔۔۔ میں  نے اصرار  کیا تو کہنے لگا ۔۔۔۔۔ بیٹا    زرداری نے میر پورخاص  میں ھزاروں ایکڑزرعی  زمینیں لی ہیں ۔۔۔۔جن کو غلام قادر چانڈیو سنبھالتا  ہے ۔۔۔ 25 ھزار ایکڑپہ تو صرف آموں کے باغ  ہیں  اس کے  ۔  لگتا  ہے سندھ کی ساری زمینیں  وہ خرید لے گا ۔۔۔حیدرآباد سے   میر پور خاس   تک ایک الگ خصوصی  نہر نکال کر     بدین کا سارا پانی وہاں دے دیا گیا ہے ۔۔۔۔  باقی جو تھوڑا  بہت پانی تھا ۔۔۔ وہ مظفر ٹپی نے   ٹھٹہ  میں جو زمینیں  قبضہ  کی ہیں  ان کو سیراب کرنے کیلئے  ادھر دے دیا ہے ۔۔۔ اور جو بچا۔۔۔ وہ سنا   ہے  کوئی ملک ریاض ہے  کراچی میں  ۔۔۔کوئی بہت   بڑے ھزاروں بنگلے بنا  رہا ہے   اسکو دے دیا ہے ۔۔۔۔۔۔ بیٹااس طرح   بدین کا سارا پانی   کہیں اور دے دیا ہے   ظالموں  نے اور ہم لوگ   پیاس سے مر رہے ہیں ۔۔۔ لیکن آپ لوگوں کو ہم پہ رحم نہیں آتا   کوئی ہماری آواز نہیں  اٹھاتا ۔۔۔ بڑے ظالم ہو آپ لوگ   میڈیا  والے بھی ۔۔۔۔ میں نے اس بابا  سے وعدہ کیا کہ  میں آپ کی آواز  اوپر تک پہنچاوں گا ۔۔۔۔۔ کہنے لگا   بیٹا   تم لوگ تو  وزیروں سے ملتے ہو ۔۔ اور زرداری سے بھی ملتے ہوگے ۔۔۔ اسکو کہہ دو کہ۔۔۔   یار   بدین کو تھر   مت بناو ۔۔۔۔۔ کھا  لو ۔۔کھا لو  پورا سندھ کھالو ۔۔۔اپ کو کوئی کچھ نہیں کہے گا ۔۔لیکن ہمیں پانی تو دو ۔ ہمیں    ترقی   نہیں  چاہئیے ۔۔۔ ہمیں کچھ نہیں چاہئیے ۔۔۔۔لیکن جو پانی ہمیں ملتا تھا  وہ تو نہ چھینو ہم سے ۔۔۔ ہمیں صرف  پانی دے  دو ۔۔۔۔ اور بیٹا  سنا ہے وہ جو بڑا  جج ہے وہ آج کل  بڑے دورے کر رہا ہے  ۔۔ غریبوں  کا درد ہے اس کو ۔۔۔۔ اسکو کہنا  کہ ایک دورہ بدین کے گاوں دیہاتوں  کا بھی کر لے ۔۔ لیکن  اسکو کہنا کہ  وہ جو  بوتل والا پانی ہوتا ہے  نا۔۔ کیا کہتے ہو آپ اس کو ۔۔منرل واٹر ۔۔۔ اس کی  بوتل ساتھ نہ  لائے  اور اپریل کی گرمیوں میں  کنویں  میں اترکے پانی پی کے دیکھے ۔۔۔ تو شاید   ہمارا حال   سمجھ میں آ جائے ۔۔۔۔ میں نے بابا  سے وعدہ کیا    کہ اپ کی دونوں  باتیں پہچادوں  گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

Monday, 16 April 2018

بندو ق ، ہتھوڑا۔۔ اور قلم


بندو ق ، ہتھوڑا۔۔  اور قلم


بابا  رحمتے نے  آخر   وہ کام کر دکھایا ، جس کی امید ان  کی  پھرتیوں سے لگائی جا رہی تھی ۔  سیاستدانوں  کے سر پر اپنا وہ ہتھوڑا برسا ہی دیا ۔۔ لیکن بابے رحمتے کو  یاد رکھنا چاہئیے   کہ طاقت  اور قوت کے بل بوتے پر ذیادہ عرصے عوامی آراء کو  دبایا  نہیں جا سکتا ۔۔ وہ طاقت   چاہے بندوق کی ہو  یا ہتھوڑے کی ۔  سیاسی  رہنماوں  کے بیانات پر لگائی گئی پابندی ، کو عدالتی مارشل لا کے علاوہ  اور کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ وردی اب با با رحمتے کی پھرتی میں چھپ گئی ہے  اور بندوق کی بجائے اب کی بار وار ہتھوڑے سے کیا گیا ہے ۔ اس فیصلے نے نواز شریف کے ا س بیانیے  کو تقویت دی ہے جسے وہ کہہ کے بھی نہیں کہہ پا رہے تھے ۔۔۔۔ ایک طرف سیاستدانوں  اور دوسری طرف  میڈیا کا بھی گلا گھونٹ کر آنے والے الیکشن  کیلئے ایک ایسی بساط بچھائی جا رہی ہے ۔ جس میں    پچ پر صرف عمران خان ہو  اور اور سارا کھیل بھی ایمپائر کی مرضی سے کھیلا جائے ۔۔ بیٹنگ اور فیلڈنگ کرنے والے دونوں  ایمپائر کی مرضی پر چلیں ۔۔۔ اور تماشائی بھی صرف  وہ ہوں  جو وردی اتار کر سادہ لباس میں   کراوڈ   کا منظر پیش کر سکیں ۔۔۔ لیکن اس سارے کھیل میں  ایک ایسے نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جا رہی ہے ۔ جسکے لئے  پرانے پاکستان کی جمہوری عمارت  کی بنیادیں   کھودی  جا رہی ہیں ۔
اور اگر جمہوریت کی یہ عمارت ہتھوڑے  مار کر پٹھان کی طرح گرائی جائے گی ۔۔۔تو نقصان  سب کا ہوگا ۔۔ان کا بھی جو ابھی صرف  تماشائی ہیں ۔۔۔ اور  ہتھوڑے  کی ہر ضرب پر تالیاں بجانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔  بندوق  برداروں اور  ہتھوڑا گروپ کو معلوم ہونا چاہئیے کہ اس سارے کھیل کے نتیجے میں بد اعتمادی ، کی وہ فضا پیدا ہوگی کہ پھر لوگوں  کو آنکھوں دیکھے پر بھی یقین  نہیں آئے گا ۔۔۔  قومی اداروں سے اعتماد اٹھ جانا  کسی قوم پر تباہی لانے  کیلئے  ایندھن کا کام دیتا ہے ۔۔۔۔ اور دشمن یہی تو چاہتا ہے کہ قوم کا اپنے اداروں سے اعتماد ہی اٹھ جائے ۔۔۔ اور نا سمجھی میں    پردے کے پیچھے اس کھیل کو اسٹیج کرنے والے رہبران ملت  یہ خدمت  تندہی سے سر انجام دے رہے ہیں ۔
شنید  ہے کہ اس ساری بساط پر کھیلنے کیلئے  سب سے بڑے میڈیا گروپ کو پہلے جھکایا گیا ۔ پورے ملک میں اس کی نشریات بند کی گئیں ۔۔ اور اسے مالی طور پر کمزور کرکے اس کی  گردن مروڑی گئی ۔۔ اور اب ۔۔۔ اسے صرف اتنا کہا گیا ہے کہ  آپ  چاہے بارگاہ عالی  میں سجدہ نہ کرو ۔۔۔۔پر رکوع میں چلے جاو ۔۔۔۔ باقی پورا میڈیا  سجدے میں خو دہی چلا جائے گا ۔۔۔ اور نتیجتا   کھیل کا میدان ایمپائر کی  مرضی کا ۔۔ کھلاڑی بھی ایمپائر کی مرضی کے ۔۔پچ بھی انکی اور بیٹنگ اور وکٹ پہ بھی انکے اپنے  بلے باز اور کھلاڑی ہوں تو نتیجہ انکی مرضی کا آئے گا ۔۔۔
لیکن میرے جیسا سر پھرا صحافی کیا کرے  کہ جسکا  اوڑھنا بچھونا  ہی صرف  قلم ہے ۔۔ جسے نہ تو خریدا  جا سکتا ہے  نہ توڑا  جا سکتا ہے ۔۔۔  میرے خیال میں قلم  برداروں کو بھی اپنی صفیں   درست کرنے کا یہی موقع ہے ۔۔۔  کہ قوم کو پردے کے پیچھے  ہونے والی سرگرمیوں سے آگاہ کیا  جائے ۔۔۔ بابے رحمتے کے عدالتی مارشل لا   کے بعد   میڈیا کو  تمام سیاسی  جماعتوں  کے رہنماوں  کے  بیانات  کا  بائیکاٹ کر دینا چاہئیے ۔ انکا بھی  جنہیں  اننگز کھیلنے کیلئے   کھلا میدان  مہیا  کیا جا رہا ہے ۔۔۔ اور ساری اسٹوریز کو اب   بیان بازی کے بجائے  قوم کے حقیقی  مسائل  اور گاوں   دیہات میں  رہنے والے  عام آدمی  کی طرف   موڑ دینا چاہئیے ۔۔ اور  میرا خیال ہے  ۔۔ کیمرہ اور مائیک  ان عدالتی دروازوں تک پہنچنا چاہئیے   جہاں روز ھزاروں سائلین   کے انبوہ فریا دلے کر آتے ہیں ۔۔  اور دہائیاں دے کر  خالی ہاتھ  واپس جاتے ہیں ۔۔۔ جہاں واپسی پر ان کی جیب ہلکی ۔۔ اور  ھاتھوں  پر انصاف نہیں صرف ہتھوڑے  کی چوٹیں ہوتی ہیں ۔۔۔۔ اور آخری کام  بابے  رحمتے  کی پھرتیوں   والی   خبروں  کا بھی  بلیک آوٹ  کرنا چاہئیے ۔ اور بندوق کے بعد  ہتھوڑا  ڈاکٹرائن کا  قلم  اور مائیک سے  مقابلہ کرنا  چاہئیے ۔۔۔۔۔۔ 


Wednesday, 13 December 2017

پاکستانی صحافیوں کے لئے اعزاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تصور کریں آپ ایک ایسے صحافی ہیں ، جو بلوچستان کے مخدوش حالات میں پیشہ صحافت سے منسلک ہیں ، ایک طرف آپ کو علیحدگی پسندوں سے جان سے مارنے  کی دھمکیاں ہیں اور دوسری طرف  ملک کی سیکیورٹی فورسز آپ کی کوئی مدد کرنے کیلئے تیار نہیں ۔۔۔ایسےوقت  میں جب آپ کو اپنی جان و مال اور بیوی بچوں کی جان کے لالے پڑ رہے ہوں ۔۔۔ اور آپ کا کوئی پرسان حال نہ ہو ۔ ایسے وقت میں کوئی آپ کا ہاتھ پکڑ کے آپ کو ایک محفوظ مقام پر ری لوکیٹ کرے ۔۔۔۔ تصور کریں  کہ آپ سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں وڈیروں اور سیاسی  پنڈتوں کے خلاف رپورٹنگ کر رہے ہیں اور اچانک  آپ پر دہشت گردی کے جھوٹے کیس بنا کر آپ کو پس  دیوار زنداں  پھینک دیا جائے ۔ اور سکھر سینٹرل جیل میں  قلم کا سپاہ ایک مجرم بن کر رہا ہو۔۔۔۔۔ایسے میں کوئی آپ  کی مدد کیلئے  سکھر سینٹرل جیل پہنچ جائے  ۔۔ آپ کا وکیل کرے ۔۔اور جھوٹے مقدمے سے آپ کو نجات دلائے ۔۔۔۔۔ تصور  کریں آپ ایک بم دھماکے کی  کوریج کر رہے ہیں ۔۔۔اور اچانک دوسرا دھماکہ ہوتا ہے اور آپ اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں ۔۔۔آپ کے پیچھے آپ کے بیوی بچوں  کے پاس گھر کے  راشن کے بھی پیسے نہیں  ایسے میں  دوسرے ہی دن کوئی آپ کی بیوہ کے اکاونٹ میں خاموشی سے کچھ لاکھ روپے  منتقل کردے ۔۔۔۔جس سے   آپ کے لاوارث گھر والے کچھ عرصہ گذارہ کر سکیں ۔ ۔۔۔۔۔ کیسے لگیں گے  آپ کو یہ کام کرنے والے لوگ ؟ ۔۔۔۔جی ہاں  پاکستانی میڈیا  میں کام کرنے والی ایک ایسی آرگنائیزیشن  بھی موجود ہے  جو  گرشتہ  5سال میں  اب تک 60 سے زائد صحافیوں کو جن کی زندگی کو خطرات تھے  محفوظ مقامات پر منتقل کرچکی ہے ۔۔۔ کئی صحافیوں کو جھوٹے مقدمات  کے کیسوں سے چھڑا چکی ہے ۔۔۔ اور کئی  صحافیوں  کی   بیوہ اور بچوں  کیلئے   مالی معاونت   کرچکی ہے ۔۔۔اور یہ کام بھی کرنے والے سب کے سب   معتبر صحافی ہیں ۔جو فریڈم نیٹ ورک کے نام سے  اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں ۔۔۔ اس خاموش  کام کی بدولت   12  دسمبر کو فرانس میں    پاکستان کی فریڈم نیٹ ورک  کو   فرانس کے   قابل فخر  ھیومن  رائٹ  اوارڈ سے نوازا گیا ۔

یہ اوارڈ   فرانس میں ایک غیر معمولی  تقریب میں  وہاں کی وزیر انصاف نے  فریڈم نیٹ ورک پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر  اقبال ختک  کو دیا ۔  تقریب میں پیرس میں پاکستانی ایمبسی کے پریس کونسلر  قمر پشیر بھی موجود تھے ۔۔ اس  ملک میں جہاں ہر قدم پر لوگوں کو برائیاں نظر آتی ہیں ، یہاں کی اچھائیوں، صحافیوں اور پیشہ صحافت کیلئے کئے جانے والے کام کو سراہنا  یقینا  کسی اعزاز سے کم نہیں ۔  آذادی اظہار رائے ، اور پیشہ ور صحافیوں کی سیکیورٹی و سیفٹی کیلئے  کیا جانے والا  یہ کام یقینا  اہم ہے کہ صحافی ہی   جمہوریت کیلئے  فرنٹ لائن ڈفینڈر  کا کام کرتے ہیں ۔  فریڈم نیٹ ورک کو یہ اعزاز  حاصل ہے کہ وہ گذرشتہ پانچ  سال سے  ملک بھر میں  صحافیوں پر ہونے والے حملوں   اور  صحافیوں پیس آنے والے خطرات کا مکمل ڈیٹا بیس رکھتی ہے ۔ اور ان حملوں سے  اپنے  طور پر نمٹنے کیلئے نہ صرف اپنی کوششوں کو بروئے کار لاتی ہے  بلکہ صحافیوں کو عملی تربیت بھی فراہم کرتی ہے ۔
اس وقت پاکستان  میں  کل 20 ھزار  سے زائد صحافی  کام کر رہے ہیں ۔ جس میں سے 5 فیصد خواتین ہیں یعنی 1000۔ ان 20 ھزار میں سے  200 صحافیوں کا تعلق  منارٹی گروپس   یا اقلیتوں سے ہے ۔ جبکہ  میڈیا ھاوسز الیکٹرونک  میڈیا ، پرنٹ میڈیا  اور ڈجیٹل میڈیا  میں  کام کرنے والی ورک فورس کی  مجموعی تعداد  2 لاکھ تک ہے ۔ سنہ2000 سے لیکر  2017 تک  پاکستان میں 120 صحافی   ان دی  لائن آف ڈیوٹی   مارے جا چکے ہیں ۔ جبکہ  20 ھزار میں  2000 صحافیوں پر کسی نہ کسی طرح   حملہ کیا گیا  ، زخمی کیا گیا ، اغوا کیا گیا اور وہ  خطرات میں رہے ۔
جبکہ  ان 120 قتل ہونے والے صحافیوں  میں سے 16  ایسے صحافی ہیں جو وار زون میں کام کر رہے تھے ۔ اور اس س ے بھی بڑھ کر  المیہ یہ ہے  کہ  ان صحافیوں سے ان کے ادارے    بغیر تنخواہ کے کام کر وا رہے تھے ۔

ایسے حالالات میں پاکستان  میں پیشہ صحافت  کے لئے کام کرنے وا لے صحافیوں کو اس اعزاز سے نوازا جانا یقینا  لائق تحسین ہے ۔ اوارڈ کی تقریب سے  خطاب میں اقبال ختک نے صراحتا  کہا کہ ہماے ملک کا  آئین    آذادئی اظہار رائے  کی  گارنٹی دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  فریڈم نیٹ ورک اپنا یہ اوارڈ  ان صحافیوں ، پیشہ ور قلم کاروں اور اور ھیومن رائٹس  اور سول سوسائٹی کے کارکنون کے نام کرتا  ہے  جو  اظہار رائے کی  دی گئی آذادی کی حفاظت  کیلئے ہمیشہ کمربستہ رہتے ہیں ۔

Tuesday, 28 November 2017

محلے کی کتیا ۔۔اور مسجد کا ٹرسٹی


میں نے رات گئے جب گھر میں قدم رکھا تو میری چھوٹی  بیٹی کمبل میں منہ دئے  ہلکی ہلکی سسکیاں بھر کر رو رہی تھی ۔۔۔ پوچھنے پر کہا کہ بابا نیند نہیں  آ رہی  ۔۔۔ میں نے  اسے پیار کیا اور سینے سے چمٹاتے ہوئے کہا کہ کیا بات ہے ۔۔۔ تو اس نے  پوری کہانی سنادی ۔۔۔جو اسکے یوں سسکیاں بھرنے کی اصل وجہ تھی ۔ کہنے لگی بابا ۔۔۔ وہ ہمارے گھر کے سامنے   ننھے منے  بچوں والی جو کتیا تھی نا ۔۔ اسے ہمارے پڑوسی شانی نے آج بہت پتھر مار کر بھگایا ۔۔ اور پھر اسکے ایک ھفتے کے منے پلوں کو  ایک ایک  کرکے مارنے  لگا ۔۔۔۔ اور گلی میں چیخنے لگا  کہ اس نے ہماری نیند خراب کردی ہے ۔۔۔یہ دیکھ کر  سامنے سے ایک   اور پڑوسی  نکل آیا ۔۔اور کہنے لگا کہ انکو مت مارو ۔۔ معصوم ہیں ۔۔۔۔ میں انہیں کہیں دور چھوڑ آتا ہوں ۔۔۔ اس نے کتیا کے6 پلوں  کو  ایک تھیلی میں ڈالا اور بائیک پر  کہیں  چھوڑ آیا ہے ۔۔۔۔ بابا ۔۔ جب سے یہ واقعہ  ہوا ہے  ۔۔ کتیا نے بھونکنا چھوڑ دیا  ہے ۔۔۔ اسکے حلق سے عجیب عجیب آوازیں نکل رہی ہیں ۔ ۔۔۔کبھی  گلی کے ایک کونے کی طرف  بچوں کی تلاش میں بھاگتی  ہے اور کبھی دوسری طرف ۔۔۔۔۔   گھرکے سامنے  جس کیاری   کے پاس  اس کے بچے تھے ۔۔ اسکی زمین  کھود کے دیکھ رہی ہے ۔۔۔  کچرے کی ہر تھیلی  کو بھبھوڑ کر دیکھتی ہے ۔۔۔کہ شاید اس میں اس کے دودھ پیتے بچے ہوں ۔۔۔۔ بابا  دیکھو  کیسے گلی میں چکر لگا رہی ہے  اور آج پاگلوں  کی سی  آوازیں نکال رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ میں  نےبچی کو دلاسہ دیا اور گلی میں جا کر  کتیا  کی آہ و زاری  اور اپنے بچوں کیلئے  اسکی ممتا کی تڑپ کو دیکھانے لگا ۔۔۔۔ تو  نہ جانے کیوں  مجھے   بی بی حاجرہ  یاد آگئیں ۔۔۔۔ اور  آنکھیں بھیگنے لگیں ۔۔۔ کہ کس طرح سیدنا اسماعیل کی محبت  ۔۔ اور پانی کی تلاش میں  وہ کبھی صفا کی پہاڑی پہ چڑھتیں اور  واپس بچے کے پاس آتیں ۔۔۔۔اور بچے کو دیکھ کر واپس  مروہ کی پہاڑی کی طرف دورڑلگاتیں ۔۔۔۔۔  سیدنا  اسماعیل  سے انکی محبت  کو شاید خدا سے بھی دیکھا نہ گیا ۔۔  اور فورا  ہی زمزم کا کنواں ابلنے لگا  ۔۔۔۔ اور رہتی دنیا تک   محبت کے اس اظہار کو  ۔۔ حج کا رکن بنا دیا گیا ۔۔۔۔۔
میرے محلے میں آنے والی ا س کتیا سے میری    بیٹی  کی شناسائی بس ایک ھفتے ہی کی تو تھی ۔۔۔۔۔ جب اس نے بچے دئے تھے ۔۔۔اور سامنے والی کیاری  میں ایک گڑھا کھود کر وہاں اپنا ٹھکانہ بنایا تھا ۔۔ جب ہم نے دیکھا کہ وہ کھانے کیلئے گلی کے ایک سرے تک جاتی اور بھاگ کر واپس پلٹ  کر اپنے پلوں کو ایک نطر دیکھتی  اور پھر دوسرے  سرے تک رزق کی تلاش میں  چکر لگاتی ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میری بچی نے کہا بابا   دیکھو  بچاری کھانے کی تلاش میں ہے لیکن بچوں کو اکیلا چھوڑنا  نہیں  چاہتی ۔۔۔۔
میری بیٹی اور میں نے گاڑی نکالی ۔۔۔ اور میٹرو کے سامنے مٹی کے برتن بنانے والے کمہار   سے  کتیا کے کھانے کیلئے ایک برتن لے آئے ۔۔۔۔ اور اس دن سے ھمارے گھر کے  دودھ   میں  کتیا کیلئے  بھی دودھ کا کوٹہ مقرر ہو گیا ۔۔۔۔ میری  غیر موجودگی میں  میری ننھی  اس برتن میں  دودھ انڈیل دیتی ۔۔ اور کتیا کی دیکھ بھال کرتی کہ جب اسکے  بچے بڑے ہونگے تو خود ہی  یہاں سےچلی جائے گی ۔۔۔۔
کراچی  میں آئی حالیہ سردی کی لہر کیلئے جب تہہ کئے ہوئے کمبل نکالے گئے تو ایک  قرعہ فال کتیا کیلئے  بھی نکلا ۔۔۔۔۔ اور پھر ایک دن میں  نے اپنی بچی کے ساتھ ملکر  کتیا کی بیٹھک کے پاس کیاری میں ڈنڈے  گاڑے ۔۔۔۔ اوپر اور چاروں سے  طرف  سے کمبل باندھ کر  کتیا کے بچوں کو سردی سے  بچانے کا بندو بست کیا ۔۔۔۔
لیکن آج  میرے پڑوسی نے کتیا کا وہ گھر   ڈھا دیا اور اس  کی ممتا سے اسکے  دودھ پیتے پلوں کو دور کردیا ۔۔۔ پتہ چلا کہ  بڑی داڑھی والا   میرا  پڑوسی  محلے  کی مسجد کا ٹرسٹی ہے ۔۔ محلے میں اسکی کسی سے نہیں  بنتی ۔۔۔۔ تین شادیاں کر چکا ہے  لیکن  اولاد سے محروم ہے ۔۔۔۔۔۔ اور مجھے سمجھ میں  آگیا کہ اللہ   رحم سے خالی دل والوں کو اولاد   کیوں نہیں دیتا ۔۔۔۔
میں  نے  اپنی لائبریری سے  حضرت واصف علی واصف  مرحوم کی کتاب ۔۔ دل ۔۔دریا ۔۔سمندر  ۔۔ نکالی  اور  ایک اقتباس پرھ کر بچی کو سنایا کہ " جب تمہاری ذات  ، انسانوں ، جانوروں اور تمام مخلوقات خدا کیلئے  بے ضرر  بن جائے تو یہ  تمہاری  عبادت  کی ابتدا ہے ۔۔۔۔۔ جب تمہاری    ذات  مخلوقات خدا کیلئے سراسر نفع ہی نفع بن جائے تو یہ تمہاری عبادت  کی انتہا ہے"
اور  میری بچی  پوچھنے لگی  بابا ۔۔۔۔ اس لحاط   سے  بڑی داڑھی والا   ۔۔۔محلے کی مسجد کا ٹرسٹی کہاں کھڑا ہے ؟ ۔۔ اور میری آنکھوں سے  آنسوں کی جھڑی   لگ گئی ۔۔۔۔۔۔ میرے پاس ننھی  عشا کے سوال کا  کوئی جواب نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, 14 November 2017

میرے مرحوم و مدفون ھیرو ۔۔۔



ڈاکٹر عطاء  الرحمان  ۔۔۔ میں جب یونیورسٹی میں پرھتا تھا،  تو آپ کا بے حد احترام کرتا تھا ۔۔ آپ میرے لئے ایک ہیرو تھے  کہ آپ نے۔۔ ایچ ای جےریسرچ  انسٹیٹیوٹ ۔۔۔  کے زریعے  میرے ملک کا نام روشن کیا  تھا ۔۔۔ اور میں دل  ہی دل میں تم سے محبت کرتا تھا  ، خیال ہی خیال میں  آپ کی  تصویر کشی کرتا تھا ۔۔۔ نوجوان تھا  ملک کو آگے لے جانے کے خواب دیکھتا تھا ۔۔۔کہ  میرے ملک کو آپ جیسے  لوگوں کی ضرورت تھی ۔۔۔ پھر جب میں  تعلیم سے فارغ ہوا ۔۔۔ اور کار زار صحافت  میں قدم رکھا   ۔۔تو آپ  وزارت آئی ٹی ا و رٹیکنالوجی کےو زیر تھے ۔۔۔ میں خوش ہوا کہ کہ میرا ھیرو  ۔۔ایسی وزارت پہ آگیا ہے ۔۔جو میرے ملک کو ٹیکنا لوجی  کے زریعے  آگے  لے جائے گا ۔ ۔۔۔۔۔سیمینارز  اور وکشاپس  کے  دوران  میں  آپ کی تقریریں غور سے سنتا  تھا ۔۔۔۔اپنے قلم کے زریعے ایک ایک پوائنٹ   نوٹ کرتا  تھا ۔۔۔۔آ پ کی خبر  بناتے ہوئے  کوشش کرتا کہ آپ کا کہا ہوا  کوئی  اہم نقطہ     میرے قلم سے رہ نہ جائے ۔۔۔۔۔خبر بنا کے اپنی خبر کو بار بار چیک کرتا ۔۔۔۔۔۔۔ کہ آپ   میرے  ھیرو تھے ۔۔۔۔۔اپنے دل کی مورتی میں  برسوں آپ کو ھیرو کی طرح   پو جا تھا ۔۔۔۔۔آپ کو یاد ہو گا ۔۔۔آپ اپنی  تقریروں  میں  اکثر  فن لینڈ کی ایک چھوٹی کمپنی  "نو کیا "کی مثال دیتے کے اسکا سالانہ بجٹ 34  بلین ڈالرز ہے ، ہمارے ملک سے ذیادہ ۔۔ مجھے آپ کی وہ مثالیں بھی  اچھی طرح یاد ہیں ۔۔۔۔ میں بھولا  نہیں ہوں ۔۔۔ پھر آپ  نے ایک نئی چڑیا ایجاد کی۔۔ میڈیکل ٹرانسکرپشن  کا منصوبہ لے کر آئے   اور قوم کو بتایا کہ  میرا ملک اس سے سالانہ  کئی ملین ڈالرز کمائے گا ۔ قوم کی  افرادی قوت کو استعمال کیا جائیگا ۔۔۔ آپ میرے ھیرو تھے اور اور آپ کے اقدامات   نے۔۔میرے دل کے ساتوٰں آسمانوں پر آپ کو بٹھایا تھا ۔۔۔
لیکن جب میں نے  تحقیقاتی صحافت شروع کی ۔۔۔۔ اور میڈیکل  ٹرانسکرپشن کے آپ کے منصوبے کا پوسٹ مارٹم کیا تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔۔۔ میں نے اپنا بھیس بدلا ۔۔۔۔ اپنے آپکو ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ کے روپ  میں ڈھالا ،۔۔۔ ایک دو فائلیں ھاتھ میں پکڑیں ۔۔۔۔۔ اور کراچی سائٹ میں ھنڈا  شوروم کے سامنے  آپ کی کمپنی رحمان  اندسٹریز  میں  جا پہنچا ۔۔۔ کہ میں لوگوں کی سنی سنائی باتوں  پہ بھرو سہ نہیں کرتا تھا ۔۔۔خبر کو  کھود تا   تھا ۔۔۔۔۔خبروں کی تصدیق  کیلئے خود   ایک ایک جگہ پہ جاتا تھا ۔۔۔۔اور میں تھا بھی تو ملنگ صحافی ۔۔۔کہ  کوئی پھٹیچر   موٹر سائیکل  بھی میرے پاس نہ تھی ۔۔۔   اے 3 ۔۔۔ بس   میں بیٹھا  ۔۔۔۔۔اور آپ کی کمپنی   رحمان   انڈسٹریز  کے سامنے جا اترا ۔۔۔۔۔ میڈیکل ٹرانسکرپشن  کیلئے اپنا تعارف کرایا ۔۔ اور آپکی کمپنی  کے آفس  میں میڈیکل ٹرانسکرپشن کا مصنوعی دفتر اپنی انکھوں سے دیکھا ۔۔۔۔  لوگوں  کو کام  کے ٹھیکے  آپ  کی اسی  کپنی  کے دفتر سے جاری ہوتے  تھے ۔۔۔آپ نے  اس مقصد کیلئے رکھے گئے سالانہ  8 کروڑ روپے  کے فنڈز  اپنی ہی کمپنی کو ٹرانسفر کئے  ۔۔۔ میں نے آپ  کے  مصنوعی آفس کی تصاویر لیں  ۔۔۔۔ فنڈز   کی تفصیلات    اور ثبوت    حاصل   کئے ۔۔۔۔اور اسٹوری چھاپ دی ۔۔۔۔
ڈاکٹر عطاء الرحمان   اس دن میرا ھیرو مر گیا  تھا ۔۔۔  اس دن آپ ھیرو سے  زیرو ہو گئے تھے ۔۔۔ اس رات اپنے ھیرو کے مرنے پہ میں رضائی میں منہ دے کے خوب رویا تھا ۔۔۔۔۔کہ آج میرا  زمانہ طالبعلمی کا ھیرو جسے اپنے دل میں بسایا تھا مر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ میں نے  اپنے ھیرو کو دفیا دیا ۔۔۔ قبر میں  اتار دیا ۔۔۔۔۔
لیکن آج صبح آپ نے  میرے  پرانے زخم ہرے کر دئے ۔۔۔۔۔ٹیکنو کریٹ ھیروں کی شکل  میں رہبری کرنے والے ھیرو  و تو میں کب کا  دفن کر چکا تھا ۔۔ لیکن آج روزنامہ جنگ میں آپ کے کالم نے میرے  سلے ہوئے زخموں  کے ٹانکے کھول دئے ۔۔۔آپ نے پھر وہی اعداد و شمار کے گوررکھ دھندے   بیان کرکے میرے ملک کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ۔۔۔ اور سارے مسائل   کا حل  ان الفاط میں  بیان کیا ۔۔۔۔
"میرے خیال میں پاکستان کو اپنے آئین میں تبدیلی لانی ہوگی اور صدارتی نظام جمہوریت کے تحت ما ہرین کی حکومت کے قیام کی جانب سفر کرنا ہو گا۔ اس مقصد کو سپریم کورٹ، روشن خیال سیاستدانوں، اور عسکری قیادت کی مداخلت کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔"

میرے  مرحوم و مدفون ھیرو  ۔۔۔۔۔۔! آپ  نے پھر پرانا چورن بیچنا شروع کر دیا ۔۔ صرف اس لئے کہ آپ کو کوئی سیٹ مل جائے ۔۔ کوئی وزارت مل جائے۔۔۔ ٹیکنو کریٹ کے نام پہ ۔۔۔۔آپ نے اپنا  چورن بیچنے کیلئے میری محبوب فوج کو مداخلت کی دعوت بھی دے ڈالی ۔۔۔۔اور سپریم کورٹ  کو استعمال کرنے کی تجویز   بھی  دے دی ۔۔۔۔۔۔ میرے  مرحوم ھیرو  ۔۔۔۔۔آج میں آپ سے شدید نفرت کرتا ہوں ۔۔۔آپ نے آج  مجھ سے میرا آئین چھیننے کی کوشش کی ہے ۔۔ میری  عدلیہ  کو استعمال  کرنے کی  تحریری  تجویز دی ہے ۔۔۔۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو  عساکر کو مداخلت  کی دعوت دینے پر  آپ پر غداری کا مقدمہ قائم کرتا ۔۔۔۔۔ عدلیہ  کو استعمال کرنے پر توہین عدالت   کا مقدمہ کرتا ۔۔۔۔۔ لیکن کیا کروں یہ میرا کام نہیں ۔۔۔ میں کوئی وکیل نہیں ۔۔ میں تو صرف قلم کا سپاہی ہوں ۔۔میرا ہتھیار صرف  میرا قلم ہے ۔۔۔ اس لئے  میں نے آج اسی قلم سے   اپنے ھیرو کی مدفون لاش  قبر سے نکال کر بیچ چوراہے پر لٹکا دی ہے ۔۔ میں یہی کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ 

Thursday, 19 October 2017

ملکی حالات اور بوڑھا دیہاتی


وہ   دیہاتی بوڑھا اپنی  عمر  کی ساٹھ بہاریں دیکھ چکا تھا ۔ اور  عمر کی ساتویں دہائی   کے سفر پر گامزن تھا ۔  سر پر  دھوپ سے بچانے کیلئے باندھی گئی پگڑی گویا  اب اسکی  زندگی کا جزو لاینفک  بن چکی تھی ۔  چاول کے کھت کے پاس  ببول کے درخت  کے نیچے  40  سینٹی گریڈ کی گرمی سے بچنے کیلئے چارپائی پر دراز  اس دیہاتی بوڑھے نے  مجھ سے پوچھا    ۔۔۔بیٹا   یہ  بیچارے نواز شریف کو کیوں نکال دیا ۔  میں نے  جواب دیا با با اس نے  اپنے بیٹے کی کمپنی سے  تنخواہ نہیں لی ۔ اور جو چیز اس نے لی نہیں اس کو کاغذات میں ظاہر نہیں کیا ۔ اس لئے عدالت  نے کہا کہ تم سچے نہیں جھوٹے ہو ، وزیر اعطم کی کرسی کے لائق نہیں ہو ۔ اور نکال دیا ۔۔۔۔ یہ سن  کر بوڑھے دیہاتی نے ایک  لمبی  سانس  بھری اور کہا کہ یہ فیصلہ دینے والے کیا سب  سچے صادق اور امین ہیں ۔۔؟     میں نے بات کا رخ بدلنے  کیلئے  کہا کہ ۔۔۔۔۔بابا یہ بتاو   دیہاتیوں  اور کسانوں کیلئے نواز شریف کیسا تھا ؟
کہنے لگے بیٹا  ہم دیہاتی لوگ کھتی باڑی کرتے ہیں ۔ زمین میں ہل جوت کر  گندم اور چاول اگاتے ہیں ۔ چھ چھ  ماہ راتوں کو   جاگ کر پانی سے زمینوں کو سیراب کرتے ہیں تو ہماری زندگی کی گاڑی چلتی ہے ۔ اور  چھ ماہ بعد  اپنی محنت کا پھل پاتے ہیں ۔۔۔ لیکن نواز شریف سے  پہلے ہماری زندگی اجیرن ہو گئی تھی ۔ کھاد کی  ایک بوری 2800 روپے تک پہنچ گئی تھی ۔ نواز شریف نے اسکی قیمتیں کم کیں  اور  یہ کھاد  ہمیں  1200 سے  1400  روپے فی بوری ملنے لگی ۔۔۔۔  زمین   پر ٹریکٹر  چلاتے تھے  پیٹرول اور ڈیزل  120  روپے لیٹر تھا  تو  ہمارے لئے   زمینوں میں ٹریکٹر چلانے کیلئے  مشکلات  تھیں نواز شریف  نے آکر پیٹرول اور ڈیزل  70  روپے لیٹر  تک  کم کردیا  ۔۔۔ ہم کسانوں  کیلئے تو یہ سب سے اچھا حکمران تھا ۔ یہ کہہ کر وہ خاموش  ہو گیا اور پھر  سوچ کی اتاہ گہرائیوں  میں ڈوب گیا  اور اسکے  چہرے پر مرمژدگی  کے سائے لہرانے لگے  ۔۔۔۔۔ میں  نے پوچھا   ۔۔ چاچا  کس سوچ  میں کھو گئے ۔۔۔ کہنے لگے بیٹا  سوچ رہاں ہوں   کہ ہم کسانوں  کے پھر برے دن آنے والے ہیں ۔۔ میں  نے پوچھا وہ کیسے  ؟ کہنے لگے بیٹا   ۔۔۔۔ اب نوز شریف  کی جگہ پہ جو بھی آئے گا  ۔۔۔وہ  اپنی تجوریاں بھرے  گا ۔۔۔ اور ہر چیز  کی قیمتوں میں اضافہ کر دیگا ۔   نتیجتا    پیٹرول، ڈیزل  اور کھاد سب مہنگے ہو جائینگے  اور  اور  ہم کسانوں پر زندگی تنگ ہو جائے گی ۔۔۔وہ دم  لینے کو رکا اور  کہنے لگا   ۔۔۔ مجھے لگتا  ہے نواز شریف کو   فوجی لوگوں  نے ھٹایا  ہے ۔ میں نے کہا نہیں  چچا   ۔۔۔۔ کیسی باتیں کرتے ہو ۔۔۔۔انہیں عدالت  نے ھٹایا ہے ۔ بے ایمانی پہ ۔۔۔۔ بوڑھے دیہاتی  نے غور سے میری آنکھوں  میں دیکھا اور کہا  بیٹے  تم ابھی تک بچے کے بچے  ہو ۔۔۔۔ کیا زرداری  نوازشریف سے  زیادہ ایماندار  ہے ۔ اسکو تو  پانچ سال برداشت  کر لیا ۔ لیکن  جس نے ہم دیہاتیوں کو سکھ پہنچایا   اس کو بے ایمان کہہ کر گھر  بھیج دیا ۔۔۔۔۔ یہ کہہ کہ اس نے اپنی کلہاڑی اور  کدال سنبھالی اور  اپنے کھیتوں  کی راہ لی ۔۔۔۔ اور میں شہر سے آنے والا   سوچنے لگا  بوڑھے دیہاتی  نے آج مجھے زندگی کی  ایک اور پرت دکھائی ہے ۔ دوسری راہ  دکھائی  ہے ۔۔۔ حالات کو  دوسرے کی نظر سے دیکھنے  کی راہ۔۔۔۔۔۔ دوسرا  نقطہ نظر  جاننے  کی راہ !

Sunday, 29 January 2017

ضمیر کا قیدی


وہ  منگل کا  دن تھا ، فضا میں  جنوری کی سردی کی ٹھنڈک محسوس کی جا رہی تھی ۔۔۔ ایسے  میں  سردیوں کی ہلکی ہلکی دھوپ انتہائی دلکش  احساس دلا رہی تھی ، ہماری گاڑی  سکھر سینٹرل جیل کے قریب بنائی گئی حفاظتی دیوار اور اسکے ساتھ لگے  زگ زیگ بیریئرز  کو کراس کرتی ہوئی باوردی اہلکار کے اشارے پہ رکی ۔۔۔۔۔  ہم نے  گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور اہلکار سے کہا کہ قاضی  صاحب کے مہمان ہیں ۔  اہلکار نے سر کو ہلکی سی جنبش دی اور  بیریئر اٹھتے چلے گئے ۔۔۔۔۔۔  اور اسکے بعد   ہارن بجانے پر دوسرا حفاظتی دوازہ بھی کھل گیا اور ہم نے  سیدھا  سینٹرل جیل  میں وحشت کی علامت  جسے  عموما "ماڑی" کہا جاتا ہے   کے  عین سامنے گاڑی پارک  کی  ۔۔۔۔۔۔ اور اتر کر  جیل کے اندرونی دروازے کی طرف  بڑھے ۔ ۔۔۔۔اندر قدم رکھتے ہی ایک اہلکار نے  ہمارے سیدھے ھاتھ پر جیل کی مہر لگائی  اور ہم سیدھا   سپرٹینڈنٹ جیل کے کمرے  کی طرف بڑھے ۔  سپریٹینڈنٹ جیل کو    ڈی آئی جی جیل خانہ جات نے پہلے ہی ہماری آمد سے  مطلع کردیا تھا ۔۔۔۔ اور ہمارے  مطلوبہ شخص  کو بھی بند وارڈ سے نکال کر  سپریٹنڈنٹ   کے کمرے میں پہنچا دیا گیا  تھا ۔
سپریٹنڈنٹ کی  ٹیبل  کے  سائڈ والی کرسی پر   بیٹھے شخص   کے بالوں میں دکھائی دیتی ہلکی سی سفیدی بتا رہی تھی کہ کارزار حیات  کے ریگستان   میں  مسافر  نے اک عمر بتائی ہے ۔۔۔۔۔  چہرے پر ہلکی سی بڑھی ہوئی شیو   اس بات کا پتہ دے رہی تھی   کہ کئی دن سے  اسے آئینے میں اپنا  آپ دیکھنے کا موقع نہیں ملا ۔۔۔۔۔۔ قمیض شلوار میں ملبوس  وہ شخص   چالیس   کے پیٹے میں لگ رہا تھا ۔ ہم نے اس  ناتواں  مگر بلند  حوصلہ شخص کو   با وقار انداز میں   بیٹھے پا یا ۔ ۔۔۔۔  الجھے  ہوئے لمبے بال  اس بات کا پتہ دے رہے تھے کہ  کوئی سرپھرا  ہے ۔۔۔ جسے   بالوں کی تراش خراش سے ذیادہ اپنے مقصد  اور پیشے سے لگن ہے ۔   ہم اس سے بغلگیر ہوئے    تو اپنے اپ کو اسکی محبتوں کا  اسیر پایا ۔۔۔۔دعا  سلام کے بعد پوچھا کہ   کیسا رہا   نیا تجربہ   سینٹرل جیل کا ۔۔۔۔
کہنے لگا  "  دارو  رسن   میرے  لئے کوئی نیا تجربہ نہیں  ان دیواروں سے میں  پہلے ہی سے واقف ہوں ،   حیات جاوداں کے کئی ماہ و سال   میں  پہلے بھی  ناکردہ گناہوں کی پاداش میں  یہاں بتا چکا ہوں"
اپنے بڑے بڑے بالوں  کو پونی کی شکل میں  پیچھے کی طرف  باندھے ہوئے اور آنکھوں پر   بڑے  شیشوں کی عینک لگائے اس  شخص  کی   باتوں میں حوصلہ بھی تھا اور ہمت بھی ۔۔۔ اسکی آواز بہت توانا تھی ۔۔ایک مزاحمتی صحافی   مجسم ہمارے سامنے تھا ۔۔۔ لیکن ہمیں تو  اسے  جیل کی دیواروں تک لانے والی  اس مزاحمتی تحریک کی اصل بنیاد سمجھنا تھی  ۔۔۔ تو ہم نے  سوال داغا کہ   اصل قضیہ تھا کیا ؟ 
اسکی آنکھوں میں جنبش پیدا  ہوئی  کچھ سوچتے ہوئے  اس نے کہنا شروع کیا " ہالانی میں  ایک تاریخی مقام ہے ۔۔۔مقام شہیدن جی پٹی ۔۔۔۔۔ 1783 میں  کلہوڑوں  اور ٹالپرز  میں فائنل جنگ ہوئی تھی ۔۔ جس کے بعد  کہلوڑوں کی حکومت ختم ہوئی تھی  اور   سندھ میں ٹالپرز کی  حکمرانی شروع ہوئی تھی ۔۔۔  وہاں شہیدوں  کی  قبریں  ہیں انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ۔۔۔ سی ایم سندھ کا ایک کو آرڈی  نیٹر  تھا ابرار شاہ  اس  نے  شہیدوں کے اس قبرستان کو اپنی ملکیت سمجھ لیا تھا ۔  اور اس نے وہ قبرستان اپنے دوست کو بیچ دیا  تھا ۔  اس پہ ہالانی شہری اتحاد نے  بڑی مزاحمتی تحریک چلائی اور   ہم نے   قلم کار کی حیثیت سے انکا ساتھ دیا ۔۔۔ہم نے سول سوسائٹی کی طرف سے  کیس کیا ۔۔جو 2005 میں۔۔۔ اس یقین دہانی پہ کہ قبرستان پہ قبضہ  نہیں  کرینگے ۔۔۔ختم ہوا ۔۔۔۔۔ اسکے بعد سول کورٹ   کنڈیارو نے 2013 میں دو آرڈر جاری کئے  کہ یہ قبرستان کی زمین ہے  اور قبضہ غیر قانونی ہے ۔ بیچنا اور خریدنا دونوں غیر قانونی ہے ۔  عدالت نے  ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو آرڈر دیا کہ   اس کو ڈمولش کرو ۔۔۔۔سیاسی اثر و رسوخ   کی وجہ سے   یہ ڈمولش نہیں ہوا ۔ جس پہ ہالانی شہری اتحاد نے ایک کمپین چلائی اور  ہم نے  انکو پرو موٹ  کیا ۔ اور مسلسل  اس پہ لکھتے آ رہے تھے ۔ انہوں نے ڈیل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے ۔ "
اچھا  تو سنا ہے پیسے کے پجاریوں نے آپ کو خریدنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ کیا یہ سچ ہے ؟
"ابرار شاہ   خود بھی میرے آفس آیا تھا ۔۔ اس نے مجھے  ایک بہت  بڑا اماونٹ   دس  سے پندہ لاکھ روپے مجھے آفر کیا تھا  کہ آپ اس اشو کو چھوڑ  دیں ، میں نے جواب دیا کہ  یہ کام ہم نہیں  کر سکتے ۔۔پیسے ہمیں بھی اچھے لگتے ہیں   مگر شہیدوں کی قبریں ہم بیچ نہیں سکتے ۔ میں تو قومی کارکن رہا ہوں ۔۔ اور بنیادی انسانی حقوق کیلئے  میں بہت کام کیا ہے  ہم نے ۔ یہ تو میرے ضمیر پہ بوجھ   ہوتا کہ  ہم  قبریں بیچتے پھریں ۔۔۔۔اس کے بعد انہوں  نے یہ کیس کیا ۔۔ کہ یہ ساری جدو جد  بھتے کیلئے ہے ۔ "
ہمارے سامنے   بیٹھے شخص میں پہاڑ جتنا حوصلہ تھا ۔۔۔ ہم نے  پوچھا کہ کیا کبھی  قید کی کوٹھڑی  میں آنے اور  جیل میں  مشقت جھیلنے پر  کبھی پچھتاوا ہوا ؟
۔ ہم تو بڑا  اعزاز سمجھتے ہیں اسکو ۔۔۔ ہم تو اعزاز سمجھتے ہیں کہ حق و سچ کیلئے ہم اندر ہیں ۔۔۔۔۔اور یہ گورنمنٹ اور عدلیہ کیلئے بڑی  پریشانی کی بات ہونی چاہئیے ، شرمندگی  کی بات ہونی چایئے ۔ کہ صحافی جو  حق و سچ بولتے ہیں ۔ جو انصاف کیلئے   لڑرہے ہیں ۔ یہ تو ہم نے جو کیس لڑا ہے یہ ان لوگوں کے خلاف لڑا ہے  جنہوں نے توہین عدالت کی ہے ۔ ہم  تو عدالت کے ورکر  کے طور پر ۔۔۔ سپاہی  کے طور پر  لڑے ہیں ۔۔۔ "
وڈیرہ  شاہی   کلچر اور سیاسی پنڈتوں کے آگے دیوار بنے اس مزاحمتی صحافی  کا جواب سن کر ہمیں اپنا سوال بودا نظر آیا ۔۔۔۔ اپنی جھینپ مٹانے کیلئے ہم نے پوچھا کہ  ہمیں کیسی صحافت کرنی چاہیے ؟
"ہمیں  چاہہئیے  کہ۔۔۔۔۔ ڈگنٹی والی صحافت ہونی چاہئے ۔۔ عزت والی صحافت ہونی چاہئے ۔ ہمیں  اپنے ساتھیوں   اور عوام اور دوستوں کیلئے مزاحمت  کرنی چاہئے ۔ قلم کار کا جو حقیقی کردار ہے  وہ استعمال ہونا  چاہئیے ۔۔"
ہم سمجھتے تھے  کہ بڑے صحافی شاید صرف بڑے شہروں میں ہوتے ہیں ۔۔۔۔ اور مزاحمتی صحافت بھی شاید  صرٖ ف  اسلام آباد ، لاہوراور کراچی  کے بڑے شہروں سے  پروان چڑھتی ہے ۔۔۔ لیکن سینٹرل جیل سکھر   میں قید  اخلاق حسین جوکھیو   جیسے نڈر صحافی سے مل کر  اندازہ ہوا ۔کہ ۔۔ پسے ہوئے  طبقوں کے درمیان رہ کر ۔۔  سیاسی پنڈتوں    کے ھاتھوں کچلی ہوئی روحوں  کے زخموں پر مرہم رکھنے کا کام تو چھوٹے چھوٹے  پس ماندہ علاقوں  سے شروع ہوتا ہے ۔۔ اور اخلاق  حسین    ہمیں ایسے   صحافیوں کی پہلی صف میں نظر آیا ۔ ہماری ملاقات کا  وقت اب ختم ہونے کو تھا ۔۔ہم نے  ان کے لئے لائے  پھل فروٹ  انہیں پیش کیے ۔۔۔الوداعی   مصافحہ  کیا  اور بغل گیر ہوتے ہوئے بہت جلد    آذادی اور  رہائی کا دلاسہ دیا ۔۔۔۔ لیکن ہمیں ایسا لگا کہ یہ دلاسہ ہم  اخلاق حسین کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو دے رہے تھے ۔۔۔۔ وہ تو ہمارے جیسے   سینکڑوں  لوگوں  کا  حوصلہ  تھا ۔۔۔۔

Sunday, 22 January 2017

قیدی نمبر 77


وہ    جنوری  کی یخ بستہ   ہواوں کی ایک ایسی ہی صبح تھی ،  نہ میں کمبل  کو چھوڑ پا رہا تھا اور  نہ کمبل مجھے  ۔۔۔کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی ، ۔۔۔۔دوسری طرف سے کہنے والے نے کہا کہ معروف صحافی و ایڈیٹر  اخلاق احمد جو کھیو  کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے  سات سال قید کی سزا سنا کر سینٹرل جیل سکھر بھیج دیا ہے ،  یہ سننا تھا کہ  ذہن ماوف ہونے لگا ۔۔۔کہ ایک نڈر اور بہادر صحافی کو ، جو  سندھ کے جاگیردارانی اور وڈیرہ شاہی  میں جکڑے معاشرے  میں  حق و سچ کی آواز تھا ۔۔۔۔۔، عدالت ایک جھوٹے کیس میں  کیسے سزا سنا سکتی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن  یہ انہونی  اب ہو چکی تھی ۔  سندھ کے  ضلع نو شہرہ فیروز   سے ھفتہ وار اخبار   " ساھتی آواز "  کے ایڈیٹر  اور کئی صحافیو ں کے استاد  اخلاق احمد  اب سینٹرل جیل سکھر میں قیدی نمبر 77 بن چکا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ بلند اخلاق کا مالک    صحافی اخلاق احمد کوئی معمولی صحافی نہیں ۔  وہ تعمیر سندھ  جیسے معتبر    سندھی روزنامے کا ایڈیٹر رہا ہے ۔وہ سندھ کی  کرپٹ  اور اپوزیشن  سے عاری سیاست میں  مزاحمتی صحافت کا  ایسا علمبردار ہے جو ہمیشہ صف اول میں نظر آتا ہے ۔۔۔سیاسی چالبازیاں نہ  پہلے کبھی اس کے قلم کو  چھین سکیں ۔  اور نہ ہی جیل کی اونچی دیواریں اس سے پہلے کبھی اسے سچ لکھنے سے روک سکی ہیں ، وہ اس سے پہلے بھی سچ لکھنے کی پاداش میں  دو سال جیل کاٹ چکا ہے ۔۔یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے پرچے کا نام  " ساھتی آواز"  یعنی مدد گار آواز  رکھا ۔۔۔۔ وہ ایک سر پھرا لکھاری ہے ۔۔ جو اپنے اصولوں پر کبھی سودے بازی نہیں کرتا ۔۔۔۔۔  یہی وجہ ہے کہ جب  پیسوں کے پجاریوں نے اسے  قبرستان پر بنائے گئے پلازہ  میں  دو دکانیں اور 10 لاکھ     روپے دینے کی کوشش  کی تو   قلم کے مسافر نے اسے    اپنے پاوں کی ٹھوکروں پہ  رکھا ۔۔۔۔ جب دولت کے پجاریوں کا ہر حربہ ناکام رہا تو اس کیلئے    انسداد دہشت گردی   کے قانون  کا نیا کا پھندا تیار کیا گیا ۔
۔  مجھے یاد ہے  وہ  مقامی   قبضہ گروپوں ، سیاسی چوہدریوں کے خلاف    انصاف اور سچ کی ایک توانا آواز تھا ۔۔۔۔  جب  نوشہرہ فیروز کی   یوسی  ہالانی  کے سابق  کونسلر  نے   سندھ کی تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے  ، محراب پور  میں  میروں  اور کلہوڑو  کی لڑائی میں مارے جانے والوں  کے تاریخی قبرستان پر بلڈر مافیا کے قبضے  کے خلاف    نہ صرف بھرپور آواز اٹھائی  بلکہ  اپنے قلم سے    قبضہ  گیروں کے خلاف   مزاحمت کی علامت بن گیا ۔۔۔اخلاق احمد  کے قلم کی  سیاہی  نے قبضہ مافیا  اور  بلڈرز کے   کروڑوں روپے کمانے کے منصوبوں پر کالک مل دی ۔۔۔۔ ویسے  گذرشتہ آٹھ سال  سے  سندھ   کی حکومت   نے ٹھٹہ  کے مکلی  اور  کراچی کے چوکنڈی قبرستان کا جو حشر کیا ہے   وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔۔ تاریخی قبروں اور سندھ کےثقافتی  ورثے کی اینٹیں بھی لوگ نکال نکال کر لے گئے ۔۔۔ اب یہ تاریخی قبرستان  صرف کھنڈرات نظر آتے ہیں ۔۔۔۔ایسے  جمہوری دور میں جب لاکھوں سے کروڑوں بنانے کا  عمل ہی سکہ رائج الوقت ہو  وہاں اخلاق جوکھیو    جیسے قلم کار محراب پور میں واقع تاریخی قبرستان کو بھلا کیسے بچا سکتے تھے ۔ اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔۔  قبضہ مافیا حرکت میں آئی ۔ بلڈر مافیا  کے چمکتے نوٹوں نے اپنی کرامت دکھائی ۔۔۔۔پولیس کے  مقامی تھانیدار  کو ساتھ  ملایا ۔۔۔۔ انسداد دہشت گردی کے قانون کی آڑ لی ۔۔۔ اور بے باک آواز کا گلا گھونٹنے کا انتظام  کر لیا گیا  ۔۔ صحافی اخلاق احمد  اور انکے ساتھیوں  کے خلاف  پولیس اسٹیشن  ہالانی میں  5 مئی  2015 کو   حق  و سچ کی اس آواز کا گلا   ہمیشہ کیلئے گھونٹنے  کیلئے     انسداد  دہشت گردی ایکٹ  386۔ 2/506۔  500۔ 34 پی پی سی   اور 7 اے ٹی اے کے تحت   ایف آئی آر نمبر  68/2015   کاٹ دی گئی ۔ اور  کیس  انسداد  دہشت گردی  کی نوشہرہ فیروز کی عدالت  بھیج دیا گیا ۔   پیشیوں  پہ  پیشیاں چلتی رہیں ۔  تا  آنکہ 9 جنوری   2017کو  انساف کا ڈندا حرکت میں آیا  اور سچ لکھنے کی پاداش میں  مزاحمت  کی علامت کو پس دیوار زنداں پھینک  دیا گیا ۔  کہ شاید یہ آواز اب ھمیشہ  کیلئے خاموش کرا دی گئی ہے ۔  لیکن انہیں خبر نہیں  کہ اخلاق احمد جیسے  صحافی  تو اس  مٹی کا وہ نمک ہیں  جس سے سچائی کے ذائقے  کو دوام حاصل ہے ۔ یہ اپنے قلم سے  وہ سورج تراشتے ہیں  جسکی کرنیں گھٹن ذدہ  معاشرے میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوتی ہیں روشنی اور اجالے کو کبھی قید   نہیں کیا جا سکتا ۔۔علم اور آگاہی تو پھیلتی ہے ۔۔
 رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے ۔


نوٹوں کے ترازو میں ہر چیز کو تولنے والوں کو شاید خبر نہیں کہ  قید و بند کی صعوبتیں  قلم قبیلے کے مسافروں  کی راہ میں نہ تو  روڑے اٹکاتی ہیں اور نہ ہی  منزل کو انکی نظروں سے اوجھل کرتی ہیں ،، انہیں نہیں معلوم  کہ قلم قبیلے  کے مسافر   کی سوچ کو  نہ تو زنداں کی دیواروں میں قید کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی  معاشرے کی  سماجی ناہمواریوں  کے خلاف  پنپنے  والی  سوچوں پر پہرے بٹھائے جا سکتے ہیں ۔ اور شاہ لطیف  کی دھرتی میں  ابھی ایسے سپوت موجود ہیں  جو معاشرتی اور سماجی ناسوروں کے خلاف اپنی  توانا  آوازوں کو مہمیز دیتے رہینگے ۔۔۔۔  اخلاق احمد  کی یہ توانا آواز   سینٹرل جیل سکھر  کی چاردیواری سے  باہر نکل چکی ہے ، کہ   کمیٹی  تو پروٹیکٹ  جرنلسٹ   اور  صحافتی  مزاحمتی  تنظیم رپورٹڑز ودآوٹ  بارڈر ز نے  اخلاق احمد  کی سزا کو حق و انصاف کا  عدالتی قتل قرار دیتے ہوئے اسے آذادی  صحافت  کے خلاف  عمل   ٹہرایا ہے  ۔  سینٹرل جیل سکھر   کے درو دیوار  گواہ ہیں  کہ  اخلاق احمد نے   حوصلہ  ہارا نہیں ، بلکہ  زنداں نے اسکے حوصلوں  کو جلا بخشی ہے اور  اسے مہمیز دی ہے ۔ ملاقاتی بتاتے ہیں  کہ اخلاق جوکھیو   پس دیوار  زنداں بھی یہ شعر گنگناتے رہتے ہیں ۔
 میرا قلم نہیں  کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کرکے ناز کرے
میرا قلم نہیں  کاسہ  کسی گدا گر کا
جو غاصبوں  کو قصیدوں سے سرفراز کرے
میرا قلم نہیں   اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
میرا قلم نہیں اس دزدنیم شب کا  رفیق
جو  بے چراغ گھروں پہ کمند اچھالتا ہے
میرا قلم نہیں  تسبیح اس  مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
میرا قلم نہیں  میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پہ دہرا نقاب رکھتا ہے
میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
اسی لئے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کی ، زباں  تیر کی ہے
میں کٹ گروں یا سلامت رہوں،  یقین ہے مجھے
کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا   نصیبوں کی قسم
میرے قلم کا سفر  رائیگاں نہ جائے گا ۔

Wednesday, 7 December 2016

پاکستانی میڈیا کو درپیش 10چیلنجز


ایک حالیہ  سروے کے مطابق پاکستانی  ٹی وی کے63 فیصد  ناظرین اب نیوز چینل چھوڑ کر  انٹر ٹینمنٹ چینلز ، اسپورٹس اور ترکش  سوپ دیکھ رہے ہیں ۔ صرف 37 فیصد  ناظرین  کی دلچسپی نیو ز  چینلز میں برقرار ہے  ۔ ان 37 فیصد میں  سے بھی 16  فیصد لوگ جیو نیوز دیکھتے ہیں  جبکہ بقیہ  21 فیصد باقی سارے چینلز  کا طواف کرتے ہیں  ۔ پاکستانی ناظرین کی نیوز چینلز میں دن بہ دن  کم ہوتی  دلچسپی   کی سب سے بڑی  وجہ   خراب ہوتی نیوز اسکرین ہے ۔ جو دیکھنے والوں میں ایک ھیجانی کیفیت  پیدا کر دیتی ہے ۔  نیو ز رپورٹ کرنے کے بجائے  نیوز  تخلیق کرنے کے  فروغ  پاتے نئے  رجحان  نے   پیشہ صحافت اور  پیشہ ورصحافیوں کیلئے  نت نئے چیلیجنز کو جنم دیا ہے ۔ 
بارشوں کے نتیجے میں  آنے والے سیلاب کو روکنے اورکنٹرول کرنے کیلئے  دریاوں پہ بند بنائے جاتے ہیں ، بیراج   اور ڈیم تعمیر کرکے سیلابی پانی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔  کیونکہ اگر سیلابی پانی کو کنٹرول نہ کیا جائے تو  وہ بستیوں کو تہہ و بالا کردیتا ہے صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے ۔ اور سیلابی پانی  پی کر قوم  بیمار ہوجاتی ہے بعینہ   اسی طرح اس وقت   ملک میں انفارمیشن اور معلومات کا ایک سیلاب ہے جو پرنٹ میڈیا ، الیکٹرونک میڈیا  اور سوشل میڈیا  کے زریعے  ہر لمحہ تیز  سے تیز تر ہو تا  جا رہا ہے ۔  حتیٰ  کہ   ایک ایک منٹ میں ہمارے واٹس اپ پہ اتنی  معلومات  موصول  ہو رہی ہوتی ہیں کہ ہم اسے دیکھنے اور پڑھنے سے قا صر ہو جاتے ہیں ۔  
 انفارمیشن کے اس  سیلاب کے آگے بند باندھنے کیلئے نیوز رومز میں ۔  ڈیسک کا کام  ، کوالٹی کنٹرول پرو ڈیوسرز ،  وڈیو ایڈیٹنگ ڈیسک      دراصل وہ   بیراج اور ڈیم اور بند ہیں جن کے زریعے سے  انفارمیشن کے اس  سیلاب کو  کنٹرول کیا جاتا ہے ، خبر کو ٹریٹ کیا جاتا ہے اور ایڈیٹنگ  اور  چیک کےمراحل سے گذارا  جاتا ہے ۔ لیکن میڈیا ھاوسز میں کمزور اور دن بہ دن معدوم ہوتا   ایڈیٹوریل  انسٹیٹیوتشن   اس سیلاب کو کنٹرول کرنے اس کے آگے بند باندھنے سے قاصر ہے  ۔ جسکے نتیجے میں  ان ٹریٹڈ   اور ان ایڈیٹڈ   انفارمیشن  قوم تک  پہنچا کر قوم کو ذھنی مریض   بنا دیا گیا ہے ۔  ھیجانی کیفیت میں  ٹی وی اسکرین دیکھنے والی قوم کو    بیمار   بنا دیاگیا ہے ۔
اسیے حالات میں کہ جب ایک اور  کھلونا   ہر رپورٹر کو تھمایا جا رہا ہے ۔  کہ اپنے موبائل فون سے شوٹ  بھی خود کرو ،اسکرپٹ خود لکھ کر اسی موبائل فون سے وائس اور  بھی خود کرو  اور  اسی اسمارٹ فون سے وڈیو ایڈیٹنگ کرکے   خبری پیکج  ڈائریکیٹ  نیوز روم کو بھیج دو ۔ اسکے نتیجے میں مستقبل قریب میں ٹی وی اسکرین  مزید خراب ہوتی نظر آ رہی ہے ۔ اندازہ ہے کہ اس کے نتیجے میں   ٹی وی دیکھنے والے ناظرین کی تعداد 37 فیصد سے بھی مزید کم ہو جائے گی ۔
ایسے حالات میں پاکستان میں  پیشہ صحافت اور صحافیوں کو  10 بڑے چیلنج درپیش ہیں  جن کا مقابلہ کرنا   وقت کی اہم ضرورت ہے ۔
1۔  اس  وقت  پاکستانی میڈیا   دو حصوں میں منقسم ہے  ، جسمیں سے ایک خود ساختہ    مین اسٹریم میڈیا  ( قومی  میڈیا ) کہلاتا ہے  ، جبکہ دوسرے کو ریجنل میڈیا   یا  لوکل میڈیا کا نام دیا جاتا ہے ۔  خود مین اسٹریم میڈیا  بھی سیاسی بنیادوں پر  تقسیم کا شکار ہے ۔  غیر جانبدار  قومی بیانیہ     کی بحث    جو کہ  مین اسٹریم میڈیا   کا اہم کام ہے ۔  مین اسٹریم میڈیا  اپنا وہ فرض   نبھاتا ہوا نظر نہیں آتا ۔  کشمیر  مین اسٹریم میڈیا میں صرف  تب نظر آتا ہے  جب   زلزلہ آتا ہے ۔۔۔۔ خیبر ایجنسی    مین اسٹریم  میڈیا یں تب نظر  آتی ہے جب وہاں   کوئی خود کش بمبار پھٹتا  ہے ۔۔۔۔۔۔ بلو چستان مین اسٹریم میڈیا  میں تب نظر آتا ہے جب وہاں کوئی دہشت گردی کا وقعہ  رونما ہوجائے ۔۔۔۔جبکہ   دوسری جانب یہی  مین اسٹریم  میڈیا  کسی نہ کسی سیاسی پارٹی  کا ایجنڈا   ٹوہ کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔  جسکا اظہار   اسکی نیوز فارمیٹنگ  اور  پرو گرامنگ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔
 2۔دوسری جانب یہی  مین اسٹریم میڈیا  لوکل میڈیا   یا   ریجنل میڈیا کی طرف سے اٹھائے گئے ان عوامی مسائل کو  اجاگر  کرنے میں ناکام رہا ہے جو واقعی   عوامی مسائل اور عوامی اشوز ہیں ۔  بعض اوقات   مین اسٹریم میڈیا  کی تمام ترھیڈلائنز صرف سیاسی بیانات اور پولیٹیکل  پارٹیز   کے بیانات کا احاطہ کرتی نظر آتی ہیں ۔    مین اسٹریم میڈیا کے اس رویے نے  عوام الناس کو    نیوز چینل سے بد ظن کرکے  انٹرٹینمنٹ چینل دیکھنے پر مجبور  کیا ہے ۔   جسکی واضح مثال  اس دن کی ہے جب کراچی میں ملیر کے  ایس پی راو انوار کو معطل کیا گیا ۔ دوسری جانب اسی دن خیبر ایجنسی  کی مسجد میں بم دھماکے میں درجنوں لوگ  جاں بحق ہو گئے ۔ لیکن مین اسٹریم میڈیا کیلئے  راو انوار کی معطلی کی  خبر اہم  تھی ، کئی گھنٹوں تک  اہم قومی چینلز  کی ھیڈ لائن اسٹوری تھی ۔ جبکہ خیبر ایجنسی  میں انسانی جانوں کا ضیاع  اس  نام نہاد  قومی میڈیا  میں  جگہ  نہیں  بنا  پایا ۔   
یعنی  عوام جسے خبر سمجھتے ہیں ۔۔۔۔ مین اسٹریم  میڈیا   اسے  خبر ہی نہیں گردانتا ۔۔۔۔ نہ مین اسٹریم میڈیا میں اس اشو کیلئے کوئی جگہ ہوتی ہے ۔  محسن بھوپالی نے ایسے ہی میڈیا   کیلئے کہا تھا ۔
 جو دل  کو ہے خبر  ۔  نہیں ملتی کہیں خبر
ہر روز اک  عذاب ہے  اخبار  دیکھنا
3۔  دنیا بھر میں ( ھارڈ پوسٹنگ )  کی ایک اصطلاح رائج ہے ۔ کہ جہاں  جس علاقے میں خظرات ذیادہ ہوں  ،  کنفلکٹ  زون  ہو وہاں  پر متعین صحافی کے  پرکس اور  اسکو ملنے والی سہولیات    اور مراعات عام صحافی   کی بنسبت   زیادہ ہوتی ہیں ۔ مثلا   نیویارک میں کام کرنے والے  سی این این  کے ایک رپورٹر کی تنخواہ اور  اور اسکی مراعات   اس رپورٹر  سے  کم ہونگی جو افغانستان   میں خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔  کابل میں  خدمات  دینے والے صحافی  کا معاوضہ اور  اسکی مراعات    عام صحافیوں  سے ہر حال میں     ذیادہ ہونگی ۔  
لیکن بد قسمتی سے پاکستانی  میڈیا   میں اسکے بلکل برعکس ہے ۔  بلوچستان اور فاٹا   کے کنفلکٹ زون ہوں  ، یا سندھ کے ریگستانی علاقے ہوں  وہاں کام  کرنے والے صحافیوں کی اجرت اور اسکی مراعات    بلکل  معمولی ہوتی ہیں ۔   جبکہ اسکے  مقابلے  میں کراچی ، لاہور  اور اسلام آباد   کے ائر کنڈیشننڈ  نیوز روم میں  کام کرنے والے صحافی کی مراعات   اس ھارڈ  پوسٹنگ والے صحافی سے ذیادہ  ہوتی ہیں ۔   پاکستانی میڈیا انڈسٹری  میں اس تصور  کو بدلنا ہوگا  ۔ یہی ا س وقت کا  تیسرا  بڑا چیلنج ہے ۔ 
4۔   پاکستانی میڈیا  کا المیہ یہ ہے کہ  پاکستانی میڈیا  کیمرہ ڈومنیٹڈ  میڈیا ہو گیا ہے ۔  سمجھا یہ جاتا ہے کہ جس کے پاس کیمرہ نہیں   شاید وہ صحافی نہیں   اسکی اب کوئی اہمیت ہی نہیں ۔  جبکہ   ایک پروفیشنل  رپورٹر یا ایک پریزینٹر  کی حیثیت  سے   اگر  کیمرہ آپ پر ہے ،  تو آپ کی کوشش ہونی چاہئیے  کہ آپ جتنا جلدی ممکن ہو کیمرہ سے جان چھڑائیں ۔  کیونکہ جتنی دیر آپ کیمرہ  پہ رہینگے   آپ  کی شخصیت ایکسپوز ہونا   شروع  ہو جاتی ہے ۔ آپ کی کمزوریاں  اور کوتا ہیاں  لوگوں پر آشکار ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ ۔ کیمرہ   پہ آنے والے   رپورٹرز   کے ھاتھ میں کبھی نوٹس    نہیں  ہوتے ۔  یہ نوٹس ایک رپورٹر  کی  خبر کو رپورٹ کرنے میں  بہترین مددگار  ثابت ہوتے ہیں ۔ لیکن   بغیر نوٹس کے بولے  چلے  جانے کی روش نے بھی   عام ناظر کو نیوز  چینل سے دور کیا ہے ۔
5۔  پاکستانی صحافت کو ایک بہت بڑا چیلنج   یہ بھی درپیش ہے کہ  اسے اب فوری طور پر اینکر پرسن ، پریزینٹر  اور   ایک صحافی  کی کیٹیگری کو الگ کرنا ہو گا ۔ ہوتا یہ ہے کہ ایک صاحب جسکا     صحافت   سے  دور دراز سے بھی کوئی واسطہ  نہیں  ہوتا ۔ جس نے کبھی زندگی  میں  بنیادی رپورٹنگ  نہیں کی ہوتی ۔۔۔۔ٹی وی اسکرین پر دو چار پروگرام پریزنٹ کرکے   اپنے آپکو صحافی سمجھ رہا ہوتا ہے ۔ اور پوری قوم اسے ہی صحافی  گردان رہی ہوتی ہے ۔اور یہی وہ  نام نہاد صحافی ہوتا ہے  جو مرنے والے کے لواحقین سے پوچھ رہا ہوتا ہے  کہ آپ کیسا محسوس  کررہے ہیں ۔۔۔۔  اور اس سے جو  بھی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں  وہ سب اہل صحافت کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہیں ۔  پاکستان  کے  صحافیوں کو اب   بہت جلد  یہ کیٹیگریز بنانا ہونگی  کہ  آیا کوئی شخص   صحافی ہے یا  اینکر اور پریزنٹر ۔ ۔۔۔۔ اینکر پریزنٹر  اور صحا فی کی کیٹیگریز الگ الگ  کرنا ہوں  گی
6۔ یہ اب ایک عام معملول بن گیا ہے  کہ سوشل میڈیا  پر چلنے والی  ایک افواہ   کچھ ہی دیر میں   نیوز چینل کی اسکرین پر   خبر کی شکل میں چلتی ہوئی نظر آتی ہے ۔  لوگ  جب کسی صحافی کو سوشل میڈیا  پہ  فالو  کرتے ہیں تو  وہ آپ سے   کسی نیوز کی توقع کر رہے ہوتے ہیں افواہ کی نہیں ۔ اور اگر  اسکے بدلے انہیں  ایک افواہ   ملے تو وہ بد ظن ہو جاتے ہیں ۔ لہذا    افواہ کو نیوز چینل کی خبر میں بدلنے  کے رجحان   کو ختم کرنا ہو گا ۔۔۔  
7۔    لائیو نیوز کے کلچر کے بعد   نیوز رومز کے اندر  اب لازما    یہ کیٹیگریز بننی چاہییں    کہ کون سا رپورٹر لائیو   نیوز کور کریگا  اور کون نہیں ۔۔۔۔ کون سا  رپورٹر لائیو بیپر دیگا اور  کون نہیں ۔   ۔۔۔۔ کونسا رپورٹر   حساس  رپورٹنگ اور   اشوز کو کور کریگا   اور کون نہیں ۔۔۔۔۔اور سب سے  اہم بات یہ ہے کہ اب  ہر صحافی   کو بذات خود    صحافتی ضابطوں اور اقدار کی پیروی کرنی ہوگی ۔
8۔  ریٹنگ کے  دور میں  اب پاکستانی میڈیا  اس انتہا پہ پہنچ  گیا ہے کہ وہ  خبرکو رپورٹ  کرنے کے بجائے       خبر  کو تخلیق   کرنے پر تل گیا ہے ، جو کسی طوربھی قابل قبول  نہیں ہے ۔   اس خطرناک رجحان نے    صحافت کی بنیادیں  ہلا کر رکھ دی ہیں ۔۔۔۔نیوز  روم کی جانب سے   ایک رپورٹر سے یہ فرمائش کی جاتی ہے   کہ کوئی خبر بناو  ۔۔۔۔ کسی خبر میں مصالحہ لگاو ۔۔۔۔ اس خبر میں کچھ ڈالو ۔۔۔۔۔ خبر کو تخلیق  کرنا کسی طور پر بھی درست نہیں  اور  میڈہیا مینیجرز کو اپنی اس روش کو  اب بدلنا ہوگا ۔
9۔  ہمیں تو بیس سالوں تک   استادوں نے   نیوز رومز  میں یہی سکھایا کہ     سارا جرنلزم کرنٹ افیئر کا کھیل  ہے ۔۔۔  لیکن ہمارے ہاں   نئے رجحان یہ ہیں کہ کرنٹ  افیئر  صرف سیاست ہے ۔   جو کسی طور درست  نہیں ۔۔۔۔ کرنٹ افیئر کے سارے پروگرام صرف  سیاسی بیان بازی کا  احاطہ  کرتے نظر آتے  ہیں ۔  ہمیں  ایسے میڈیا مینیجرز کیلئے ایک  نئی کھڑکی بنا کر انہیں دکھانا  اور سمجھانا ہوگا  کہ  جو کچھ ہماری روز مرہ کی زندگیوں کو افیکٹ  کر رہا ہے  ۔ وہی کرنٹ افیئر ہے ۔وہی اب ہمارے پروگراموں کا سبجیکٹ ہونا چاہئیے۔   اس رجحان  کو نئے سرے سے دیکھنے اور بدلنے کی ضرورت ہے ۔
10۔   ایک اور بڑا اور خطرناک رجحان  جو پروان چڑھ رہا ہے ۔ جسے چیلنج سمجھ کر بدلنا ہے  وہ ہے خواہشات  کو زرائع بنانا۔  رپورٹر ٹی وی اسکرین پہ یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ زرائع کا یہ کہنا ہے ۔۔۔   یا مبصرین  کا خیال ہے ۔۔۔۔ یہ کوئی زرائع اور مبصرین نہیں ہوتے  یہ رپورٹر کی خواہشات ہوتی ہیں جسے وہ خبر بنا کر پیش کر رہا ہوتا ہے ۔ ۔۔۔ ( ہم سمجھتے ہیں کہ زرائع اور سورس  بہت مقدس ہیں لیکن  خواہشات کو  زرائع  کہنا ۔ یا مبصر کا لبادہ اڑھانا کسی طور قابل قبول نہیں ۔

یہ وہ  چیدہ چیدہ چیلینجز ہیں    جن سے   نبرد آزما ہو کر ہم   صحافت  کو  اور ٹی وی اسکرین   کو کسی حد تک   عوام کیلئے  قابل قبول بنا سکتے ہیں ۔ 

Monday, 31 October 2016

کراچی کی سماجی اور گروہی سیاست میں جکڑا صحافی


1870 میں 13 اسکوئر کلومیٹر پر مشتمل کراچی شہر آج پھیل کر 3600 کلو میٹر پر محیط  ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کے 1300  کلو میٹر  کا علاقہ تعمیرات   سے بھر گیا ہے ۔۔۔۔۔
16 ملین آبادی کا شہر کراچی  3600  کلو میٹر پرپھیلا ہوا ہے ۔ ۔۔کراچی کے ارتقا ء، پھیلا و اور معاشی ترقی کی کہانی درحقیقت ایک ایسی کہانی ہے جس نے کل کے کراچی کو ایک چھوٹے سے گاوں سے آج ایک بڑے وسیع و عریض ترقی یافتہ شہر میں تبدیل کردیا ہے ۔ کراچی شہر کے تیزی سے پھیلاو کی وجہ 50/60 کی دہاء ی میں بوجہ تقسیم ہند نظر آتی ہے ۔ لیکن 70/80 کی دہائی میں دیہی علاقوں کی جانب سے معاشی بنیادوں پر انتقال آبادی  کے باعث  شہر کو جغرافیائی حدود ، نظم و نسق ۔ اور دوسرے متنوع مسائل کا سا منا کرنا پڑ رہا ہے ۔
۔۔۔ آج کے   مہنگے سماج میں بھی کراچی کا  شمار  دنیا  کے تین بڑے سستے شہروں میں  کیا جاتا ہے ، جہاں ایک مزدور بیس روپے میں  کھانا کھا سکتا ہے ۔   کراچی  کی ہمہ گیری ، اور اسکے تنوع  نے یہاں  بتدریج  مختلف   سماجی  تبدیلیوں کی راہ ہموار کی ہے ، جسکے باعث یہاں  کے مسائل   کی بھی مختلف جہتیں ہیں ۔ صنعتی ترقی سے جہاں شہر کی جغرافیائی حدود میں اضافہ ہوا ہے ۔ وہاں نظری اور عملی نظم و نسق کے مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔
یہ ایک ایسا ملک ہے جس  میں دیہی ، شہری  اور صوبائی سطح پر   سماجی اور  معاشی  طور پر واضح تفریق  موجود ہے ۔ اس سماجی  تفریق نے  معاشرے  میں  معاشی ناہمواری میں بھی  اہم کردار ادا کیا ہے ۔  جس کےنتیجے کے طور پر   بہتر روز گار کے حصول  اور معاشی  ناہموری   کی دلدل سے نکلنے کیلئے    اندرون ملک بڑے پیمانے پر ھجرت ہوئی ۔ اس ھجرت کے بہاو کا رخ کراچی کی جانب ہی رہا ۔ جس نے اس شہر میں مختلف  قومیتوں ، مختلف زبان بولنے والوں کو اپنی گود میں سمیٹا اور انہیں روزگار فراہم کیا ۔ لیکن  شہر کے نطام میں اتنی وسعت  نہیں تھی کہ  وہ ان قومیتوں  کو اپنے اندر سمو پاتا ، اسکے نتیجے میں  یہاں مختلف گروہوں نے  اپنا اسپیس   لینے کیلئے اس شہر کو ٹکڑیوں اور  علاقوں میں بانٹ لیا ۔  گروہی تقسیم  نے  اس شہر  کی سیاسیات پر بھی  گہرے اثرات  ڈالے  جس کی جڑیں معاشی مفادات سے وابستہ رہیں ۔ شہر کی وسعت اور ہمہ گیری  نے  مذھبی انتہا پسندوں کو بھی اسے جائے  فرار و قرار  سمجھنے  پر مجبور کیا اور انکی کمین گاہین  بھی اس شہر کا حصہ بن گئیں ۔
اور انہی گروہی  مسائل میں گھرا  کراچی اور اسکا صحافی  بھی  ان مسائل کا شکار رہا ۔۔اور نتیجتا یہاں کا صحافی  گروہی اور معاشی مفادات  کی زد پر آنے کی وجہ سے ہمیشہ  خطرات سے دو چار رہا ، جسکی واضح  مثال گذرشتہ سالوں میں  ایک  بڑے میڈیا ھاوس سے وابستہ صحافی ولی خان بابر کا  قتل تھا ۔ جو اسی  گروہی  سیاست کی بھینٹ چڑھا ۔ جبکہ حالیہ دنوں  میں  میڈیا ھاوسز اور انکی املاک پر ہونے والے حملے بھی  اس شہر کی اس سماجی اور گروہی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں جس کا اوپر ذکر ہوا ۔ 
اپنے مفاد ات پرپڑنے والی زد کا غصہ ہر گروہ   اس چلتے پھرتے  میڈیا کے ڈبوں پر نکالتا ہے ، جنہیں ڈی ایس این جی کا نام دیا جاتا ہے ۔  نتیجتا  ان ڈی ایس این جیز پر متعین میڈیا ورکرز اپنی جان سے ھاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ کراچی کے علاقے  بہادر آباد میں اسی طرح  ڈی ایس این جی وین پرہونے والے حملے میں ایک میڈیا کارکن اپنی  جان گنوا بیٹھے ۔
یہاں کا  ہر گروہ ، اپنے معاشی  اور سیاسی مفاد کی ہر خبر کو اپنے اینگل اور اپنے نظریے  کی عینک سے اسکرین پر دیکھنا  چاہتا ہے ، اور اس مقصد کے حصول کے لئے  اس کی پہلی نظر  اس رپورٹر اور کیمرہ مین پر پڑتی ہے  جس کے ھاتھ میں مائیک اور جس کے کندھے پہ کیمرہ رکھا ہوتا ہے ۔    ۔ہر گروہ کی یہ شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایک پروفیشنل صحافی بن کر نہیں بلکہ اسکے گروہ کا ترجمان بن کر قلم چلائے ۔نتیجتا یہاں کا صحافی خوف اور تشدد کے ماحول میں  اپنی ذمہ داریوں کو  ادا کرتا ہے ، جس سے پیدا ہونے والا اسٹریس  اسکی زندگی کا روگ بن جاتا ہے ۔  
اس  شہر کے صحافی کی نہ تو املاک محٖفوظ ہے اور نہ ہی اسکے آنے جانے کے روٹس   پر اسے تحفظ حاصل ہے ۔   جسکی واضح  مثال کراچی کے ایک صحافی کو اسکے گھر کے دروازے پر قتل کیا جانا ہے ۔ ان ساری مشکلات میں گھرے کراچی کے صحافی کو  اپنے اداروں کی جانب سے بھی  خاطر خواہ   تحفظ  حاصل نہیں ، نہ انکی لائف انشورنس ، اور نہ ہی کسی ناگہانی کے بعد انکے بچوں کی کفالت جیسے  مسائل ان   اداروں کی ترجیحات میں شامل ہیں ۔
دھونس ، دھمکیوں ، جان کے خطرات   کے خدشات میں گھرا کراچی کا صحافی  ایک ایسی منزل کا مسافر ہے  جس کے راستے میں آنے والا ہر موڑ  اسے یہ پیشہ ترک کرے   کوئی اور پروفیشن اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے  ۔۔۔لیکن اسکے با وجود یہاں کے صحافی کی اپنے پیشے سے ان مٹ کمٹمنٹ   اور سیاسی و سماجی  گروہوں کے درمیان رہ کر بھی آگ اور کھائی کے درمیان  موجود پتلی پگڈنڈی پر چلتے ہوئے  اپنی ذمہ داریوں  کو احسن طریقے سے انجام دینے کی لگن  اسے ملک  بھر کے  دوسرے صحافیوں سے ممتاز کرتی ہے  

Tuesday, 26 July 2016

تحقیقاتی صحافت ۔۔۔۔۔ اور سیکیورٹی معاملات


تصور کریں کہ آپ جیسے ہی اپنا  میل ان بکس  کھولتے ہیں آپ کو ایک ایسی  ای میل موصول ہوتی ہے  جوکسی   نامعلوم شخص کی جانب سے کہ وہ  آپ سے انتہائی اہم رازوں سے پردہ اٹھانا چاہتا ہے۔ یا  انتہائی اہم  معلومات شئیر کرنا چاہتا ہے ، اور آپ سے  پروٹیکشن بھی چاہتا ہے  ؟  تو آپ کیا کرینگے ؟

اس مضمون کا مقصد آج کی ڈیجیٹل    دنیا  میں   صحافیوں  اور میڈیا   آرگنائیزیشن  کو یہ بتانا ہے کہ معلومات کی سیکیورٹی  کس طرح یقینی بنائی جائے ۔  کس طرح اپنے کام ، اپنی سورسز اور  اپنی کمیونیکیشن کو  محفوظ بنایا جائے ۔  تاکہ تحقیقاتی صحافت  کرنے والے عامل صحافیوں ، اور  ان کی سورسز کو لاحق  ان خطرات سے بچا یا جا سکے جو خطرات کے  انتہائی رسک پہ ہیں ۔
انفارمیشن سیکیورٹی ، یا انفو سیک   کا مطلب ہے کہ معلومات کو  غیر مجاز    رسائی سے کیسے روکا جائے ۔  وہ معلومات  آپ کے وہ اسٹوری آئیڈیاز بھی ہو سکتے ہیں  جن پہ آپ کام کر رہے ہیں ۔، ان اسٹوریز سے متعلق فائلز بھی ہو سکتی  ہیں ۔۔۔۔  آپ کی سورسز کی  شناخت بھی ہو سکتی ہے ۔  انکے ساتھ آپ کی کمیونیکشن بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ اور ایسے  وقت  پہ خود آپ کی اپنی شناخت بھی  آپ  کو مسائل سے دوچار کر سکتی ہے ۔ اور آپ کی زندگی کو لاحق خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔  وقت سے پہلےیہ معلومات  لیک ہونے سے  آپ کی زندگی  خظرات سے دو چار ہو سکتی ہے ۔ ہمارےئ پاکستانی معاشرے میں  جسکی واضح مثال ہمارے سامنے جیو نیوز کے رپورٹر والی خان بابر  کی ہے جو کچھ ایسی اسٹوریز پر کام کر رہے تھے ۔  جن کے لیک ہونے سے وہ اپنی زندگی سے ھاتھ دھو بیٹھے ۔
حالیہ  دو عشروں میں ملکی سیکیورٹی اداروں کے امریکہ   کے ساتھ  قریبی سیکیورٹی تعاون  نے ہماری ملکی ایجنسیز کو بھی اس قابل بنایا ہے کہ    وہ   کمیونیکشن کو  انٹر سیپٹ کریں  اور   کسی بھی پرسنل کمپیوٹر پر غیر مجاز ڈیٹا تک رسائی  حاصل کر لیں ۔  تحقیقاتی سحافت  کے میدان میں کام کرنے والے صحافیوں کیلئے یہ  ایک رسک بن سکتا ہے ۔  جو حکومت کے حوالے سے ، سیکیورٹی ایجنسیز کے حوالے سے   اپنی اسٹوریز پر کام کر رے ہیں ۔
آپ کے ڈیٹا تک غیز مجاز   رسائی   آپ  کے ڈیٹا کے استعمال کا تقا ضا کرے گی  اور اسکے نتیجے میں  آپ کے ڈیٹا  میں  موڈیفکیشن ہو سکتی ہے ، اسکی  انسپیکشن ہو سکتی ہے ۔ آپ کی اور آپ کی سورس کی کمیونیکیشن کی ریکارڈنگ ہو سکتی ہے ۔۔  وہ ڈیٹا  متعلقہ اتھارٹیز  تک  ظا ہر ہو سکتا ہے ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے   ضائع بھی کیا جا سکتا ہے ۔  
ایک عامل تحقیقاتی   صحافی کیلئے پہلی  لازمی چیز   یہ ہےکہ اسے ان  خظرات کا علم ہو اور ان سے آگاہی حاصل ہو ۔
 دوسرے  نمبر پر آپ کو اپنے  ھارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے پر خطر ہونے کا  علم ہو ۔
لہذا ایک عامل صحافی کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنے لئے خطرے کی تشخیص کرے (پرسنل رسک اسسمنٹ )  ،  اور  اپنی  دفا عی حکمت عملی  تیار کرے تاکہ بوقت ضرورت اسے استعمال کر سکے ۔
تحقیقاتی صحافت کی دنیا میں کام کرنے والے صحافیوں کی سکیورٹی  کو یقینی بناے کیلئے  انہیں مندرجہ زیل   اہم اقدامات کی طرف خصوصی توجہ دینی ہوگی
1۔ سب سے پہلے   اپنے   سسٹم کو پروٹیکٹ کریں ۔ اسکے ھارڈ ویئر اور  سافٹ ویئر کی سیکیورٹی یقینی بنائیں
2۔  صحیح لیپ ٹاپ کی خریداری ، اور  پا س ورڈز اور کی گارڈز کی زریعے ہر وقت اپنے لیپ ٹاپ کی نگہبانی کرنی ہوگی  (زہن نشین رہے کہ  2006 سے  انٹیل نے  ایک ایسی چپ لگانی شروع کی ہے جسے(    انٹیل اکیٹو مینجمنٹ ٹیکنالوج )   کہا جاتا ہے جس کے زریعے سے  ایک آئی ٹی ٹیکنیشن   کسی بھی جگہ سے  آپ کے سسٹم کے سافٹ ویئر ز کو ریموٹ کنٹرول کے زریعے سے اپ ڈیٹ یا ڈلیٹ کر سکتا ہے   ۔ اسکے لئے اسکا آپ کے سسٹم کے قریب ہونا ضروری نہیں ہے ۔
3۔  اپنے سسٹم کے ویب کیمرہ  اور مائیکرو فون کو محفوظ بنائیے ۔ کیو نکہ آ پ کے  لیپ ٹاپ کا  ویب کیمرہ  اور آپ کا  مائیکرو فون ریموٹ   لی  آن کیا جاسکتا ہے  کہیں  سے بھی بیٹھ کر ۔
4۔  محفوظ براوزنگ :  جب جب آپ ویب براوزنگ کرتے ہیں تو اپ کی شناخت   کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکتا ہے ۔ آپ کے براوزنگ بیھیویرز   کا ڈیٹا اکٹھا  کیا جا سکتا ہے ۔ آپ کے  پاس ورڈز  اور آپ کے آٹو  فل انفارمیشن کا  ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ آپ کی لوکیشن کا بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے ۔  اس کے لئے ضروری ہے ۔ کہ آپ ایک ایسا براوزر استعما کریں جس  کی ایکسٹینشن  بڑھائی گئی ہوں ۔  اگر ممکن ہو تو  اپنی لوکیشن کو چھپانے کیلئے آپ  (ٹور )   براوزر استعمال کر سکتے ہیں، جو  کسی حد تک ذیادہ محفوظ ہے اور آپ کی لوکیشن کو ظاہر  نہیں کرتا اور ویب سنسرشپ  پہ قابو پا لیتا ہے ۔ 

5 ۔ سب  سے اہم آپ کے ڈیٹا کی سیکیورٹی ہے ۔  جسکے لئے کئی   رسک بھی ہیں ۔ اور اسے محفوظ کرنے کے کئی   طریقے بھی  جو درج ذیل ہیں
حفاظتی  اقدامات
رسک
بیک اپ ڈیٹا
ڈیٹا  کا محو ہونا
انکرپٹ ڈیٹا
ڈیتا کا کرپٹ ہونا
محفوظ طریقے سے فائلز شیئر کریں
ڈیٹا میں  انٹرسیپشن ہونا
محفوظ طریقے سے ڈیٹا   ڈلیٹ کریں
ڈیٹا چوری ہونا

6۔  اپنی ای میل کو محفوظ بنائیں ۔ کوئی بھی شخص  آپ کی ای میل کو پڑھ سکتا ہے ۔ اس کے سبجیکٹ کو  پڑھ سکتا ہے ، آپ جسے ای میل کر رہے ہیں   اسے  جان سکتا ہے ۔ اپ کی ای میل اٹیچمنٹ  کو انٹرسیپٹ  کر سکتا ہے ۔ اور یہ بھی کہ آپ یہ ای میل کہانںسے کر رہے ہیں ، اپ کی لوکیشن کو بھی جان سکتا ہے ۔ ۔ اپ اپنی ای میل کو محفوظ بناے کے لئے چند اقدامات کر سکتے ہیں ، جن میں اپنے پاس ورڈ کو  مضبوط  بنائیں ۔ اسٹرانگ پاس ورڈ   آپ کی ای  میل پہ ہونے والے پہلے حملے کو ناکام بناتا ہے ۔  قابل بھروسہ ای میل پرووائیڈر   پر انحصار کریں ۔  اپنی  ای میل کو ان کرپٹ بنا کر  بھیجیں ۔  اپنی کیز   کو ویری فائی کریں ۔  اپنی ای میل کے سبجیکٹ میں جتنا ہو سکے انتہائی کم معلومات درج کریں ۔  ای میل کیلئے آپ     تھنڈر برڈ کا محفوظ براوزر استعما ل کر سکتے ہیں ۔
7۔ اپنے  میسیجز کو  محفوظ بنائیں ۔  انسٹنٹ میسیجز  ایک تیز ترین زریعہ ہے جو آپ اپنی سورس سے قائم کرتے ہیں ۔ لیکن اسے بھی محفوظ  بنانے کی ضرورت ہے  اسکے لئے  آپ کو ( او۔ ٹی ۔ آر)  آف دی  ریکارڈ  میسیجنرز   استعمال کرنا ہونگے ۔ مارکیٹ میں ایسے کئی  میسینجرز  موجود ہیں جو آپ کے  پیغام کو ان کرپٹ کرکے  بھیجتے ہیں اور اس پیغام تک کسی تھرڈ پارٹی کی رسائی کو ناممکن بناتے ہیں ۔ اسکے  لئے   سگنل ایک بہترین میسینجر ہے  ۔ آپ اسے استعمال کر سکتے ہیں ۔ لیکن یاد رکھئے کہ  آپ  کے  پیغام کے محفوظ رہنے کیلئے   اپ جسے پیغام بھیج رہے ہیں  اس کے پاس بھی  وہی  میسینجر ہونا لازمی ہے ۔ ورنہ اپ کا پیغام   ان کرپٹ نہیں رہے گا ۔
7۔ اپ کا سسمارٹ فون آپ کے لئے سب سے بڑا سیکیورٹی رسک ہے ۔ اس اسمارٹ فون پر آپ  براوزنگ کرتے ہیں آٹومیٹک طریقے سے آپ کا ای میل  ہر وقت اوپن رہتا ہے ۔  یہ آٹو میٹک طریقے سے آپ کی موجودہ اور سابقہ پوزیشنز کا ریکارڈ رکھتا ہے ۔ آپ کے فون  نمبرز ، کال کرنے   اور رسیو کرنے والے کی لوکیشن  کا ڈیٹا ۔ یہاں تک کے آپ کے استعمال کئے ہوئے کالنگ کارڈز کے نمبرز بھی ا سمیں محفوظ ہوتے ہیں ۔  گویا  یہ آپ کا پورا نامہ اعمال ہے ، جو کرامین کاتبین  اس اسمارٹ فون کے اندر بیٹھ کر  مرتب کرتے رہتے ہیں ۔  یاد رکھئے کہ اگر آپ کا اسمارٹ فون بیٹری  ختم ہونے کے بعد  پاور آف موڈ  میں  بھی ہے  تو بھی اس کے باوجود   کوئی  آپ کی گفتگو کو سن سکتا ہے ۔   لہذا ایسے تحقیقاتی صحافی جو  حساس اسٹوریز پر کام کر رہے ہیں ان کیلئے لازمی ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کو محفوظ بنانے کیلئے  برنر فونز استعمال کریں  جو  ذیادہ محفوظ ہیں (  برنر فونز ان فونز کو کہا جاتا ہے جو صرف ایک ہی مقصد کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں یعنی  صرف وائس  کالنگ کیلئے ،  آپ  نو کیا کے پرانے 3310۔ 1112۔ جیسے فون بھی استعمال کر سکتے ہیں جو ذیادہ محفوظ ہیں ۔
یہ بھی یاد رکھین کہ اگر آپ کسی ایسی سورس کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو سیکیورٹی ایجنسیز کے  زیر نگرانی  ہے ، تو یہ بات لازمی سمجھئے کہ اس کے ساتھ کام کرنے پر   آپ خود بھی زیر نگرانی آجائینگے ۔
مندرجہ بالا  اقدامات پر عمل کرکے  ایک  تحقیقاتی صحافی   خود کو لاحق  خطرات میں کسی قدر کمی ضرور لا سکتا ہے ۔