Tuesday, 10 May 2016

پیپلز پارٹی کا انتقام


وہ بدھ کی شام تھی ، اور میں  ٹھٹہ سے کراچی آ رہا تھا ۔ راستے میں مجھے جگہ جگہ  پاکستان  پیپلز پارٹی کے انتقام   کا شکار لوگ نظر آئے  اور میں خود  بھی  اپنے آپ  کو ان میں سے ایک محسوس کرنے لگا ۔  پیپلز پارٹی   سے جب ریاست   نے انتقام لیا تو بھٹو کا پورا خاندان ہی ختم کر ڈالا ، ذوالفقار علی بھٹو ، انکی بیٹی بے نظیر بھٹو ،  بے نظیر کے بھائی  میر مرتظیٰ   بھٹو ،  یہ سب اس ریاستی انتقام کا شکار ہوئے  جو  انیس سو ستر کی دہائی کے آخر میں  شروع ہوا ۔ لیکن پیپلز پارٹی نے ریاست کے بجائے  یہ انتقام عوام سے لیا ۔
آپ سوچ رہے ہونگے کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں  رہ کر کیسے کسی سے انتقام لے سکتی ہے ۔ تو جناب والا ، جب کسی کا بس کسی اور پہ نہیں چلتا تو وہ اپنے ہی لوگوں سے انتقام لیتا ہے ۔ اور جب اپنے اپنوں سے انتقام لیں  تو وہ بہت ہی بھیانک انتقام ہو تا ہے ۔
نیشنل ہائی وے سے  سفر کرکے کراچی  آتے ہوئے میں نے  پاکستان اسٹیل مل سے  ملیر  ہالٹ کے برج  تک 13 کلومیٹر  کا سفر  دو گھنٹے  میں طے کیا ، اسکی وجہ یہ نہیں کہ شاہراہ پر رش تھا  وجہ یہ تھی کہ  پوری سڑک  میں اتنے بڑے گڑھے ہیں جس نے  ٹریفک کی روانی کو متاثر کیا ۔  یہ سارے گڑھے اس علاقے میں ہیں   جو ملیر کا علاقہ کہلاتا ہے اور جہاں سے ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی انتخابات جیتتی ہے ۔ اور حال ہی کے بلدیاتی انتخابات میں یہاں سے  پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے عبدللہ مراد   جیتے ہیں ۔ لیکن پیپلز پارٹی   اپنے ہی ووٹرز اور اپنے ہی ہمدردوں  سے اس طرح انتقام لے رہی ہے کہ ، 13 کلومیٹر کی اس سڑک پر سفر کرنے والا ہر شخص دو گھنٹے  تک پیپلز پارٹی کو گالیاں دیتا ہے ۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین اگر پارٹی  کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانا چاہتے ہیں اور اسکی  وجوہات معلوم کرنا چاہتے ہیں ۔
  تو ایک  دن بغیر کسی کو بتائے نئی گاڑی  لیکر  وہ یہ 13 کلومیٹر کا سفر کریں ، مجھے یقین ہے کہ انکی نئی گاڑی کے چیچز سے آوازیں آناشروع ہو جائیں گی ۔ اور اگر  اے سے کے بغیر  گاڑی کی کھڑکیاں کھول کر سفر  کرینگے  تو دھول اور مٹی میں انکے بال اسطرح  سفید ہو جائینگے  جیسے سینیٹر اعتزاز احسن کے ہیں ۔ اور انکی یہ شکل دیکھ کر شاید پیپلز پارٹی کے کارکن بھی بلاوال   بھٹو کو پہچان نہ پائیں ۔   اور اس سفر کے دوران میں یہ سوچنے لگا کہ آخر پاکستان پیپلز پارٹی کے  گذرشتہ آٹھ سالوں میں کس نے ہاتھ روکے کہ وہ ان سڑکوں کی تعمیر نہ کرے ۔ یہہی  وہ سڑک  ہے جس کے زریعے  بیرون ممالک سے آئے ہوئے سرمایہ کار تھر کے کوئلے تک  کا سفر طے کرتے ہیں ۔  پیپلز پارٹی نے اپنے حال کے آٹھ سالہ اقتدار کے دور میں  اپنے ووٹرز سے وہ انتقام لیا ہے ، کہ اب انکی چیخیں نکل گئی ہیں ، سارے ترقیاتی کاموں کا پیسہ   منتخب نمائندوں نے اپنی تجوریوں میں بھرا ہے ۔ اور نواب شاہ کو چھوڑ کر پورے سندھ  کو کھنڈر بناکررکھ چھوڑا ہے   اور مجھے ڈر ہے کہ اگلے انتخابات میں  اگر عوام  اپنے انتقام پر اتر آئے تو وہ بہت برا ہو گا ۔  
پیپلز پارٹی کے اس انتقام کی مختلف شکلیں اور مختلف جہتیں ہیں ۔  یہ انتقام   مجھے ، تھر کے صحراوں میں بھوک سے بلکتے اور غذا کی قلت کا شکار ان بچوں میں بھی نظر آیا جو بلک بلک کر   ہر روز  باری باری اپنی جان کی بازی ہار رہے ہیں ۔  یہ انتقام مجھے   ٹھٹہ  کی  محکمہ جنگلات کی ان زمینوں پہ بھی نظر آیا ، جو ھزاروں  ایکڑ کی تعداد میں  سابق صدر  آصف علی زرادری کے فرنٹ مین  انور مجید   کو الاٹ کر دی گئیں ۔۔۔ یہ انتقام   مجھے کراچی سے لیکر ٹھٹہ تک کی اس ساحلی پٹی پہ بھی نظر آیا جو مظفر ٹپی کے زریعے لاٹ کر دی گئیں ۔ اور جہاں شاید مستقبل میں  کراچی جیسا ایک اور شہرا ٓباد کیا جائے ۔ اور ملک ریاض بحریہ ٹاون  ٹو شاید وہیں آباد کریں ۔  پیپلز پارٹی کا یہ انتقام مجھے ، مکلی کے تاریخی قبرستان سے متصل اس پانچ سوا یکڑ زمین  پر بھی نظر ٓآیا  جو   صدر زرداری کے قرییبی   ساتھی  ریاض لال    جی ان    کی بیٹی   سبین  سکینہ  اور انکے خاندان اور ڈائریکٹرز کے نام پر جعلی کاغذات پر الاٹ   کردی گئیں ۔ شاید پیپلز پارٹی نے یہ سوچا ہو کہ ریاستی انتقام کا بدلہ ریاستی زمین کی بندر بانٹ سے  ہی لیا جا سکتا ہے ۔
پیپلز پارٹی کا انتقام مجھے بدین شہر کے کل  ڈھائی کلومیٹر کی ان شہری  سڑکوں پر بھی نظر آیا ۔ جو کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں ۔ اور یہی حال مجھے دادو شہر کی سڑکوں پر نظر آیا ۔
 پیپلز پارٹی کا یہ انتقام مجھے  کندھکوٹ سے لیکر   بخشاپور گیس فیلڈ کی 18 کلومیٹر کی اس قومی شاہراہ پر بھی نظر آیا جسکا ٹھیکہ موجودہ اپوزیشن لیڈر کے بھائی کو 40 کروڑ روپے میں دیا گیا ۔ اور سڑک  اپنے بننے کے صرف دو ماہ  بعد ہی ٹوٹ  پھوٹ کا شکار ہو گئی ، اور تارکول کے بجائے   سڑکوں پر پھیرا جانے والا کالا آئل    ایک بارش کے بعد ہی  ترقیاتی کاموں  میں کرپشن کو بے نقاب کر دیتا ہے ۔
 پیپلز پارٹی کا یہ انتقام مجھے  سندھ کے گاوں دیہات میں سڑکوں  کے نام پر بننے والی ان پگڈنڈیوں پر بھی نظر آیا  جہاں صرف پتھر بچھائے جاتے  ہیں ، اوراس پر بجری ڈال کر اوپر کالے آئل  کا چھینٹا مار دیا جاتا ہے ہے  اور ٹھیکیڈار اپنے بل کلیئر  کرالیتا ہے ۔ کہ ان بلوں میں اوپر والوں کا بھی حصہ ہو تا ہے ۔  بدین مین  ٹنڈو باگو  سے  نندو شہر تک  بننے والی پگڈنڈی  میری  شعوری عمر سے آج تک  گذرشتہ پچیس سال سے بن رہی ہے ،  اور اب تک سرکاری فائلوں  میں  یہ 14 کلومیٹر کی سڑک  آٹھ  بار بن چکی ہے ۔ اور بننے کے بعد  6 ماہ میں ہی ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے ۔ مجھے سمجھ نہیں  آتا کہ پیپلز پارٹی نے ایسے انجینیئر کہاں  سے درآمد کئے ہیں    جو تار کول کے بجائے سڑکوں پر کالا آئل  ڈال کر   پوری  قوم کا منہ کالا کرتے ہیں ، اور یہ کیسے انجینیئر ہیں جنکی  بنائی گئی سڑکیں  دو   چار ماہ میں ہی مکمل طور پر  ٹوٹ  پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں ۔  اور سندھ کے سالانہ بجٹ میں ذکر کی گئ   ھزاروں کلومیٹر سڑکیں صرف بل بناکر سرکاری خزانے سے پیسہ نکالنے کیلئے ہی ڈالی جاتی ہیں ، جن کا زمین پر کوئی وجود ہی  نہیں ہوتا  ۔ 
عوام سے پیپلز پارٹی کا یہ انتقام   مجھے لاڑکانہ شہر میں بھی نظر آیا  جہاں اربوں روپے کے ترقیاتی پروجیکٹس کا  پیسہ مٹی میں ملا دیا گیا اور زمین پر ان پروجیکٹس کا کوئی وجود ہی نہیں ۔    دادو   ، بدین ٹھٹہ  ، اور لاڑکانہ وہ شہر ہیں جن کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی   کو ووٹ دئے اور ہمیشہ  ان حلقوں سے پاکستان پیپلز پارٹی  کے لوگ ہی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے منتخب ہوئے ۔ لیکن  پیپلز پارٹی نے ان شہروں کو کھندر بنا کر ، ان  شہروں کے فنڈز کھا کر  اپنے عوام اور اپنے ہی ووٹرز سے انتقام لیا ہے ۔
میں تو سندھ کا چپہ چپہ گھومتا ہوں ۔  تو سندھ کے عوام سے پیپلز پارٹی کا انتقام مجھے نظر آتا ہے ، اور میں کانپ جاتا ہوں  کہ جس دن عوام اپنے انتقام پہ اتر آئے تو پیپلز پارٹی کا کیا ہوگا ۔


Saturday, 19 March 2016

زندگی کے بھید


وہ بڑا خوبرو  جوان تھا ۔۔ اللہ پاک نے اسے حسن کی دولت سے مالامال  کیا تھا ۔۔۔ یا یوں کہئیے کہ حسن کی دولت  اس پہ خوب لٹائی تھی ۔  وہ کالج میں  میرا کلاس فیلو تھا ۔   کالج  کی کئی  ماہ پارائیں  اسے ایک نظر دیکھنے کےلئے ترستی تھیں ۔  اور درجنوں  اس  سے  بات کرنے کیلئے  مہینوں  مختلف بہانوں کی پلاننگ  کیا کرتی تھیں ۔ کوئی  نوٹس لینے کا بہانہ کرتی  تو  کسی کو کوئی  علمی نقطہ بھی اسی سے ہی سمجھنا  ہوتا تھا ۔   چنچل لڑکیاں   اپنے جاننے والی سہیلیوں کو اسکا نام لیکر چڑاتی تھیں ۔ اور اگر کوئی  کسی دن ذیادہ  بن ٹھن کر آگئی تو  اسے   اسکی سہیلیاں   اس حسن کے پیکر پر جادو  کرنے  کا انداز بتاتی تھیں ۔ کئی  شوخ  لڑکیاں   تو اسے دیکھ کر سرد آہیں بھرتیں ۔  اور اپنی قسمت کو صلواتیں سناتیں ۔ غرض  اس نوجوان کےحسن کا چرچا  زبان زد عام تھا۔ 
وہ  میرا کلاس  فیلو تھا ۔۔ ہم ایک ہی ہاسٹل میں رہتے تھے ۔  اور خدا نے  اسکے خاندان کو  مال و ثروت  سے بھی خوب  نوازا تھا ۔ مجحے یاد ہے ، جب ہمیں  والدین کی طرف سے مہینے بھر کے خرچے  کیلئے  پچاس روپے ملتے تھے ۔ اس وقت بھی  وہ ہزاروں  میں کھیلتا تھا ۔  ہاسٹل میں رہتے ہوئے   گرمیوں میں جب کبھی آم کا موسم آتا ہم لوگ   پندرہ بیس  دن میں  کوئی ایک  کلو آم بمشکل خرید  پاتے  اور   اسکے ہاں روزانہ  آموں کی پارٹی ہوتی   اور کو لر  بھر بھر کر آم کا جوس بنایا جاتا  ،  وہ  اور اسکے تمام  دوست خوب  سیر ہو کر  آموں کے مزے اڑاتے ۔ اور  میرے جیسے  کم آمدنی والے لوگ اسے دیکھ کر  اسکی قسمت پر رشک کرتے  تھے ۔ 
لیکن پھر  زندگی نے کئی  موڑ کاٹے اور  پیٹ کا جہنم بھرنے کیلئے ہم سب اپنی اپنی   نوکری کی  غلامی میں جت گئے،   سارے کلاس فیلوز  ملک کے کونے کونے میں تنکوں کی طرح بکھر گئے ۔ میں نے اپنے لئے صحافت کا میدان  منتخب کیا اور اللہ  نے  اپنے کرم سے  جیو جیسے ادارے میں پہنچایا ۔  میں اسی  ادارے میں اپنی ڈیسک پہ موجود تھا کہ 22 سال بعد  ایک مانوس   سی آواز میرے موبائل کےاسپیکر  سے نکل  کر میری سماعتوں سے ٹکرائی ۔  کہنے والے نے کہا  ، مجھے پہچانا میں آپکا کلاس  فیلو  ۔۔۔۔۔ بول رہا ہوں  ، بہت مجبور ہوں  آپ سے  مدد چاہئے  آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں ۔  میں نے اسے   آفس  بلوا لیا ۔ 

لیکن جب  وہ میرے سامنے آیا   تو حیرت و استعجاب کے مارے  میرا منہ  کھلے کا کھئلا رہ گیا ، وہ خوبرو جوان  جس پر  لڑکیاں مرتی تھیں ، ہڈیوں کا ڈھانچہ   بن چکا تھا ،  چہرے کی شگفتگی    پر مایوسی   کے سایوں  کی چادر تن گئی تھی ۔۔۔ میں  نے بڑے تپاک سے  ا سے   گلے لگایا ۔۔۔۔  اور  گلو گیر  آواز میں پوچھا کہ یہ سب کیا ہے ۔ تو  اس  نے جو کچھ بتایا   وہ سن کر  میں چند لمحوں  کیلئے   مبہوت ہو گیا ۔  رندھی ہوئی  آوا میں رقت سے گویا ہوتے ہوئے اس نے بتایا  کہ وہ   جگر کے عارضے میں مبتلا ہے ۔ اور اسکے جگر  نے کام چھوڑ دیا ہے ۔۔۔۔۔، اسکے بقول   کبھی  کبھی مجھ پہ  ایسےدورے پڑتے ہیں کہ  بس بستر پر ہی گر جاتا ہوں ، کچھ علاج کرواتا ہوں تو کچھ   چلنے پھرنے کے قابل ہوتا ہوں ، یہاں میرا علاج نہیں مجھے علاج کیلئے بھارت جانا پڑیگا ۔ جس پر  اندازا   60 لاکھ روپے کے اخراجات آئینگے ۔ دو بچوں اور ایک جوان گھر والی کا ساتھ ہے ، نوکری بھی کوئی خاص نہیں تھی ۔۔۔۔  جو تھی وہ بھی  بیماری میں اسپتالوں کے چکر میں  چھوٹ گئی ۔  آپ میری مدد کریں ۔  اسکی روداد سن کر مین سوچنے لگا  کہ  میں وہ حوصلہ کہاں سے لاوں کہ ا سکے مجروح جزبات پر  دلاسوں کے پھائے رکھ سکوں ، اتنی  ہمت کہاں سے لاوں  کہ اسکی  مایوسی میں بدلتی زندگی میں  امید کی کوئی چنگاری ، کوئی کرن اور کوئی  آس جگا  سکوں  ۔ ایسے جملے کہاں سے لاوں  جو اسکی  زندگی میں نئی روح پھونک دیں ، اسے جینے کا حوصلہ دیں ۔۔۔۔۔۔۔   میں نے چند رابطہ کار لوگوں سے علاج کی غرض  ے بھارت جانے کیلئے  اسکا رابطہ کرایا ، ۔۔۔۔

آج مجھے نہیں معلوم  کہ اسکی زندگی کس حال میں ہے کہ اسکے کنٹیکٹ نمبرز بھی مسلسل بند ہیں ۔  لیکن میں سوچتا ہوں کے  میرے ملک   میں ایسے  کتنے حسین و خوبرو جوان ہیں جو  اس مٹی کی ترقی میں اپنا خون پسینہ شامل کرنے کے بجائے    مختلف  بیماریوں سے  لڑتے لڑتے اپنی زندگیاں ہار دیتے ہیں ۔ کہ اس ملک کے حکمراں 68  سالوں میں   میری قوم کو نہ تو پینے کا صاف پانی فراہم کر سکے  اور نہ ہی بیمایوں کے چنگل سے انہیں چھڑا سکے  ہیں ۔علاج اتنا مہنگا اور نا پید ہے کہ میری قوم کے  فرزند ایڑیاں رگڑ کر مر جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ میرے ذہن میں آیا کہ ریاست تو ماں ہوتی ہے ، وہ اپنی گود میں پلنے والے بچوں کی چار۔بنیادی ضرورتوں   کی ذمہ دار ہوتی ہے ، تعلیم ، صحت ، روزگار اور چھت دینا  تو اسکا  فرض ہوتا ہے ۔ لیکن آج میری ریاست نے ،  میری ماں  نے    یہ سارے فرض اتار کر این جی اوز کے کندھوں پہ ڈال دئے ہیں اور اپنے بیٹوں کو  خیراتی اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔۔۔۔۔۔   اور میں  سوچنے  لگا  کہ وہ جوانی ، وہ حسن ، وہ  پیسہ جسے انسان سب کچھ سمجھتا ہے ، وہ کس طرح لمحوں میں  ہاتھوں سے پھسل کے نکل جاتا ہے ،  کہ انسان صرف ہاتھ ملتا  رہ جاتا ہے ۔ جسے وہ سب کچھ سمجھتا ہے ،  وقت کا پہیہ  اسے کچل کر رکھ دیتا ہے ، ساری جوانی خاک میں مل جاتی ہے ۔ اور جب انسان  پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے  تو  شاہراہ حیات پر صرف   قدموں کے  نقوش۔۔۔۔ نشان راہ   کے طور پر نظر آتے ہیں ۔ 

Wednesday, 25 November 2015

درد و کرب کا را ز


وہ  نومبر کی  صبح تھی ۔۔۔۔۔ تاریکی نے ابھی چھٹنا شروع کیا تھا  اور سورج   نے میرے سامنے موجود ریت کے  ایک بڑے ٹیلے کے پیچھے سے ا ٓہستہ ا ٓہستہ  جھانکنے  کی ابتدا کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ا  ٓدھے کلو میٹر کے فاصلے پر  کھڑے مستطیل شکل کے ٹیلے پر  اس ملک کے  درماندہ  انسانوں کے جھونپڑ نما گھروں سے۔۔۔ ہلکا ہلکا دھواں اٹھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ شاید صبح کی چائے کے لئے صحرائی عورتوں نے اپنے چولہوں   پر ہنڈیاں  چڑھا دی تھیں۔۔۔۔ ۔اچانک میری نظر  دردو کرب سے بھرپور اس منظر پر پڑی ۔۔۔۔۔۔۔پو پھٹنے  کے ساتھ ہی  صحرائی عورتیں اپنے سروں پر پانی کے مٹکے اور کمر پر  مشیکیزے لئے  پانی کی تلاش میں  ٹیلے سے نیچے اترر ہی تھیں ۔۔۔۔۔۔  اور میں  تھر لاج کے بنے خوبصورت  ریسٹ ہاوس کی گیلری سے  بڑی محویت سے  ا س منظر کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ میرا ذہن  تھری عورت کی درد  و کرب سے بھرپور زندگی کا تجزیہ کر رہا تھا ۔ کہ اس صحرائی عورت کے کرب کا اختتام کب ہوگا ۔۔۔۔ ؟ کب  پانی کی تلاش  کے چکر سے   اسکی جان چھوٹے گی ۔۔۔۔۔۔۔ اور یکایک  میرے ذہن میں   درد اور کرب سے عورت کے تعلق   کی گرہیں کھلنے لگیں ۔۔۔۔۔  شاید  بنانے والے  نے  درد و کرب کو جھیلنا  عورت کی فطرت میں ڈال دیا ہے ۔  یہ درد سہنے کی ہمت بھی رکھتی ہے اور اس پر آہ نہ کرنے کی سکت بھی اسکے اندر موجود ہے  ۔ شدید درد کو بھی مسکراہٹ میں چھپا کر سہہ جانے کی ادا شاید اسکے اندر ودیت کردی گئی ہے ۔  اور میں سوچنے لگا کہ  جب درد و کرب کی  ہولناکی   اپنی انتہا کو پہنچتی ہے ، تو تخلیق کا عمل شروع ہوتا ہے ۔ مشیت ایزدی  نے جب نسل انسانی کی تخلیق کا عمل جاری رکھنے کا منصوبہ بنایا  تو اسکے لئے عورت جیسی ہستی کا انتخاب کیا ۔۔۔۔۔ جو درد زہ جیسی قیامت خیزتکلیف  کو جھیل کر  تخلیق کا فرض نبھانے کے لئے  مسکراتے ہوئے  تیار ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ میرے ذہن میں آیا کہ  تخلیق کا عمل    عقل کی بیناد پر نہیں بلکہ جذبے کی بنیاد پر پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے ، جذبہ  نہ  ہو تو   تخلیقی ذہن ہی  پیدا نہیں  ہوتا ۔  اللہ  نے  جب عورت کو  تخلیق کی اعلیٰ ترین ذمہ داری پر فائز کیا   تو اسکے اندر جذبے کی   کیفیت کو   پروان چڑھایا ۔  جذبے کی عظمت سے انکار ممکن نہیں ۔  کیونکہ محبت ، خدمت ، قربای ، ایثار  میل ملاپ ، رشتے ناطے ، یہ سب جذبات پر استوار ہوتے ہیں ۔   جذبے   کے تابع ہیں ۔ اور عورت ذات   ایثار و قربانی کا پیکر بن کر  محبت  کو اپنی وفائوں کے پانی سے سینچ کر  سیراب کرتی ہے تب کہیں جاکر  تخلیق کا عمل  پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے ، جو صرف خالق کائنات  ہی کو ساجھے ، اس رب کائنات نے اس عظیم کام کے لائق بنانے کیلئے عورت کو  درد وکرب کے ان تمام مراحل سے گزارا  تب جاکر عورت کو تخلیق کے اس مقام پر فائز کیا جو رب العالمین کا اپنا مقام ہے بہت ہی اونچا اور اعلیٰ مقام ہے ۔ اور میں سوچنے لگا کہ  ایثار و قربانی ، محبت اور وفا کے مراحل  سے گزرنے کیلئے بھی درد ارو کرب درکار ہوتا ہے ۔ درد اور کرب  کی بٹھی  سے  نکل کر ہی عورت   ایسا کندن بنتی ہے کہ اسے تخلیق کا کام سونپا جاتا ہے ۔
عورت  ہر کام جذبے سے کرتی ہے جبکہ مرد عقل سے سوچتا ہے ،   ایمان بھی جذبے کے زور پر پیدا ہوتا ہے  جبکہ عقل  شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے ۔   سب سے پہلے عقل کی بات یا دلیل ابلیس نے دی تھی  اور سجدے سے انکار کیا تھا ۔ جبکہ   فرشتوں نے نے عقل نہیں  بلکہ  جذبے کی بنیاد پر اللہ کے حکم کی بجا ا   ٓوری کی تھی ۔  وہ جذبہ   ، اللہ سے محبت کا  جذبہ تھا ۔ اللہ کو محبوب   بنانے کا جذبہ تھا ، جبکہ  ابلیس  نے عقل کے زور پر اللہ کو محبوب نہیں معبود بنایا تھا ۔
عور ت کے پاس بھی  محبت کے یہی لطیف  جذبے ہیں  جسکی بنا  پر وہ  ساری تکللیفیں سہہ کر محبت  کے نخلستان کی ا ٓبیاری  درد وکرب سے کرتی ہے  اور یہی  درد و کرب سہہ کر  کائنات کی  عظیم ذمہ داری سے عہدہ براں  ہوتی ہے ۔
اور  تھر لاج کی  اس بالکونی میں کھڑا میں سوچنے لگا   کہ۔۔۔۔ یہ ہے درد اور کرب کا رشتہ ۔۔۔۔۔، اور مجھ پرآشکار ہوا کہ درد اور کرب کے بغیر نہ تو تخلیق کا عمل وقوع پزیر ہو سکتا ہے ، نہ ہی کسی  اعلیٰ  مقام پر فائز   ہوا جا سکتا ہے ۔ اعلیٰ مقام پانے کیلئے درد کی بھٹی سے گذرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب میری سوچ کا زاویہ درد و کرب  کا رااز جان چکا ۔۔۔۔تو تھری عورتوں کا قافلہ  مٹکوں میں پانی بھر کر ٹیلے  کی اوٹ میں  اپنے گھروندوں کو جا چکا تھا ، اور درد و کرب جھلینے کے ساتھ  اپنی سہیلیوں سے   اٹھکیلیاں کرتی انکی  آوازیں میری سماعتوں سے ٹکرا رہی تھیں۔۔۔۔۔


Tuesday, 22 September 2015

لٹیرے 2

یہ کہانی ہے سندھ کی زمینوں کی لوٹ مار کی ۔۔۔ سابق صدر کے دنیا کے امیر ترین شخص بننے کے خواب کی اور  دولت کی ہوس کی ۔
سندھ کی سرکاری زمینوں  کی لوٹ مار عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ اب یہ سرکاری زمین    ملک کی بااثر سیاسی شخصیت کے پھلتے پھولتے  کاروبار  اور صرف  سندھ میں 14 شگر ملز تک پہنچنے والے  صنعتی یونٹوں کے نام منتقل کی جارہی ہے ۔ اور ان زمینوں کے نام پر  پر قومی بینکوں کو لوٹنے کی نئی سکیمیں بھی بنائی جارہی ہیں ۔ یہ کہانی   اومنی گروپ کے نام سے کام کرنے والے  سابق  صدر آصف علی زرداری کے فرنٹ مین اور انکے کاروبار کے رکھوالے  انور مجید کے گرد گھومتی ہے ۔ سرکاری زمینوں  کو اپنے نام الاٹ کرانے کی ذمہ داری سابق صدر کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی  بخوبی نبھا رہے ہیں ، تو کارپوریٹ  سیکٹر  کی طرز پر  کاروبار کو چلانے اور ان زمینوں پر بینکوں سے قرضہ  لینے  کےمعاملات کی دیکھ بھال انور مجید کر رہے ہیں ۔ 
صنعتی اعتبار سے  کاروبار کو وسعت دینے کیلئے  دھونس ، دھمکی دھاندلی اور قبضوں سمیت ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے ۔  راقم کے اس دعوے کی  سچائی  کی گواہی   دیوان یوسف بھی دینگے جنکی دو شگر ملز  کھوسکی شگر ملز  اور تلہار شوگر  ملز کو سابق صدر کے دور  میں زبردستی ان  سے ہتھا لیا گیا ۔   اور مطالبے  یہاں تک پہنچے کے دیوان  سٹی جہاں  دیوان موٹر  سمیت   دیوان گروپ کی پانچ مختلف فیکٹریز قائم ہیں ۔ بلاول  کو پسند آگئی ہیں ۔ لہذا  یہ انکے حوالے کی جائیں ۔  اور تاریخ گواہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے سابق دور میں دیوان گروپ کو  اتنا تنگ کیا گیا کہ دیوان یوسف  ملک چھوڑ کر لندن سدھار گئے ۔ اور انکی واپسی  نواز شریف   کے  اقتدار میں آنے کے بعد ہی ہو سکی ہے ۔ جبکہ اس وقت  بھی سندھ کے سابق گورنر   اور  معروف کاروباری  کمیونٹی   سے تعلق  رکھنے والے اشرف تابانی  کی  دو شگر ملوں  ٹنڈو محمد خان  شگر ملز اور سیری شگر ملز  پر  سندھ پولیس کے کمانڈوز  تعینات  کردئے گئے ہیں ۔ اور گذرشتہ دو سال سے ملز کے مالک کو  نہ تو اپنی مل کے اندر داخل ہونے کی  اجازت دی جارہی ہے اور نہ  ہی انہیں چلانے کی ۔ بلکہ انہیں دھمکایا جا رہا ہے کہ دونوں ملز اونے پونے  اومنی گروپ کو فروخت کردی جائیں ۔  لیکن جو کہانی ہم آپ کو آج سنانے جارہے ہیں ۔ وہ کہانی ہے  سندھ کی زمینوں کے ساتھ کھلواڑ کی  اور زمینوں  کی بندر بانٹ  کی ۔  
  سندھ  کے مختلف  اضلاع کی محکمہ جنگلات کی26 ھزار 800 ایکڑسے زائد زمیں  سندھ کی ایک با اثر سیاسی شخصیت اور سابق صدر  نے  پانچ مختلف کمپنیاں  بنا کر   لیز کر وا لی ہے ۔ جن اضلاع  کی زمین  دی  گئی  ہے  ان میں  ضلع بدین ، دادو ، سجاول  اور ٹھٹہ  شامل ہیں ۔  
15 فروری 2005 کو جاری ہونے والی   سندھ ایگرو فاریسٹ  پالیسی کے تحت  محکمہ جنگلات کی زمین  کسی این جی او ، کسی کمیونٹی ا ٓرگنائیزیشن  اور کسی   صنعت کار کو الاٹ نہیں کی جا سکتی ۔  بلکہ  یہ زمین انفرادی طور پر لوگوں کو الاٹ کی جائے گی ۔ اور کسی بھی فرد کو  40 ایکڑ سے زائد زمین  الاٹ نہیں کی جا سکتی ۔ جبکہ یہ تمام لیز اوپن آکشن کے زریعے  دی جائے گی ۔ جبکہ  قریبی ا ٓباد دیہاتیوں کو ترجیح دی جائے گی ۔
لیکن سندھ کی بیورو کریسی  میں شامل ایک باخبر زریعے نے راقم کو بتایا کہ   ملک کی با اثر شخصیت  کی ہدایت پر انکے کاروباری  فرنٹ  مین کو فائدہ پہنچانے کیلئے 24 دسمبر      2010 میں سندھ فاریسٹ  پالیسی میں راتوں رات تبدیلی کا ایک نوٹیفکیشن  جاری کیا گیا ۔   
مذکورہ  شخصیت    کو فائدہ پہنچانے کیلئے   2010 میں پالیسی کے کلاس6 میں تبدیلی کرتے ہوئے  40 ایکڑ سے ذیادہ   لیز  نہ دینے کی پابندی کو ختم کردیا گیا ۔ ۔ تاکہ ھزاروں ایکڑ زمین  کو اپنے تصرف میں لایا جا سکے ۔  جبکہ30 مئی   2012 میں دوبارہ   ایک نوٹیفکیشن کے زریعے   سندھ  فاریسٹ پالیسی کے پیرا 5 میں تبدیلی کرتے ہوئے  اسے این جی اوز  اور کارپوریٹ سیکٹر  کو لیز کرنے کی اجازت دے دی گئی ۔ اسطرح   ملک کی باثر سیاسی شخصیت کے فرنٹ مین کیلئے   ھزاروں ایکڑ حکومتی ملکیتی  زمین  دینے کیلئے راہ ہموار کرتے  ہوئے     قانونی  پیچیدگیاں  اور اس راہ مین حائل ساری رکاوٹوں  کو دور کر دیا  گیا ۔   مذکورہ  شخصیت کے فرنٹ مین   انور مجید  نے اس مقصد کیلئے پانچ ڈمی کمپنیاں  بنائیں جن میں   بدین  ایگرو ڈولپمنٹ   فارم پرائیویٹ لمیٹڈ  ، ایگرو فارم  ٹھٹہ  ، سدرن ایگرو  فارم، دادو ایگرو ڈولپمنٹ فارمز پرائیویٹ لمیٹڈ  اور  سجاول ایگرو  فارمز پرائیویت لمیٹد شامل ہیں ۔حیرت انگیز امر یہ ہے  ان تمام  ڈمی کمپنیوں کے دفاتر  لیاقت بیرکس  ہاکی کلب کے  فرسٹ فلور  اور سیکنڈ فلور  پر  ظاہر کئے گئے  جو کہ اومنی گروپ ہی کا دفتر ہے۔   اومنی  گروپ کی یہ تمام  ڈمی  کمپنیاں ایک ہی فون نمبر ، ایک ہی فیکس نمبر اور ایک ہی ای میل ایڈریس  استعمال کرتی ہیں ۔ ایک شخص اسلم مسعود کو  تین کمپنیوں  کا  کرتا دھرتا طاہر کیا گیا ہے ۔  یہی شخس ٹھٹہ ایگرو  اور سدرن ایگرو میں بیک وقت دونوں کا مینیجر ہے ،  جبکہ یہی شخص  دادو ایگرو کمپنی کا سیکریٹری بھی ہے ۔   کہتے ہیں کہ  مجرم کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو  اس سے اپنے جرم کی کوئی  نہ کوئی نشانی چھوٹ ہی جاتی ہے ۔  یہی انور مجید کے ساتھ  بھی ہوا ۔  ان ساری کمپنیوں کی ملکیت  داٗودی مورکاس کے نام سے  ظاہر کی گئی ۔ اور پھر چور کا کھرا یوں ملا  کہ  ساری ڈمی  کمپنیوں کے لیٹر ہیڈ  پہ جو  ای  میل ایڈریس  استعمال کیا گیا ۔ اسکا ڈومین  اومنی گروپ  ہی کا استعمال کیا گیا ۔ 
  کرپشن کی گنگا  کو سسٹم کا حصہ بناتے ہوئے محکمہ جنگلات سندھ کے افسران ، سندھ کی سول بیو کریسی اور سیاستدانوں نے خوب محنت سے کام کیا اور پھر  سب  مل کر اس بہتی  گنگا میں  نہاتے رہے ۔   اس طرح اومنی گروپ کی ڈمی کمپنی  سجاول ایگرو کے نام 8 ھزار 300 ایکڑ  ،  سدرن ایگرو فارم کے نام 3 ھزار 515 ایکڑ، ٹھٹہ ایگرو فارم کے نام 3 ھزار  998 ایکڑ،   بدین ایگرو فارم کے نام 2 ھزار ایکڑ اور دادو ایگرو فارم کے نام سے 500 ایکڑ ز سرکاری زمین  کوڑیوں  کے مول      الاٹ  کردی گئی ۔14 مئی  2014 کو  فاریسٹ  ڈپارٹمنٹ  گورنمنٹ آف سندھ نے یک ہی دن ایک ہی لیٹر   کے زریعے ان پانچ کمپنیوں کے نام 16800 ایکڑ  زمین ایک جھٹکے میں الاٹ  کردی ۔ نہ الاٹ کرنے والوں کو کوئی ہچکچاہٹ  محسوس ہوئی اور نہ ہی  سرکاری زمین ہڑپ کرنے والوں نے کوئی  ڈکار لی ۔۔ ایک ہی ہلے  میں سب کچھ ہضم۔۔۔۔۔
   فاریسٹ  پالیسی کے مطابق محکمہ جنگلات کی زمین  لوگوں کو اس لئے الاٹ  کی جاتی ہے  تاکہ وہ اس پر  جنگلات لگائیں ، اور ساتھ ساتھ  حکومت کی آمدن میں بھی خاطر خواہ   اضافہ ہو لیکن    اس  زمین پر فاریسٹ تو کیا اگائے جاتے  اومنی گروپ نے  اس زمین  پر مچھلیوں کے تالاب بنا ڈالے ۔ اور قریب سے گذرنے والے بیراج سے غیر قانونی طور پر  ایک نہر نکال کر ان مچھلیوں  کے  تالابوں کو سیراب  کیا جا رہا ہے ۔
لیکن جن قانونی موشگافیوں کا سہارا لیکر   یہ زمین الاٹ کی گئی وہ قانونی نوٹیفکیشن  سندھ گزٹ میں شائع ہی نہیں کیا گیا ۔  اور اصولا  کوئی قانون  اس وقت تک لاگو نہیں ہوتا  جب تک کہ وہ سندھ گزٹ  میں شائع  نہ ہو ۔  اس طرح   عملی طور پر   سندھ  فاریسٹ   ایگرو  پالیسی   میں جو تبدیلیاں  کی گئیں  قانونی لحاظ سے  وہ ساری   غیر موثر  رہیں ۔ جس سے اس زمین کی قانونی ملکیت پر سوالات پیدا ہو گئے ہیں ۔  اومنی گروپ میں موجود    کچھ زرائع نے  راقم کو بتایا کہ اب اس زمین پر قومی بینکوں سے اربوں روپے قرضہ لینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ اور کئی بینکوں کو قرضے کیلئے درخواستیں بھی جمع کرادی  گئی ہیں ۔ اور اس طرح  ان کمپنیوں کے زریعے سندھ کے  پانچ اضلاع کی قیمتی زمین نجی صنعتی گروپس کے کاروبار کے فروغ کیلئے اومنی گروپ  کے قبضے میں دے دی گئی
لیکن زمینوں کی بندر بانٹ کی یہ کہانی  صرف یہیں ختم نہیں ہوتی ۔۔۔  بلکہ ان پانچ  کمپنیوں کو زمین  الاٹ کرنے کے ٹھیک 15 دن بعد  یعنی 30 مئی 2014  کو   کھنڈرات  میں تبدیل شدہ  ٹھٹہ شگر مل کے نام پر بھی  10 ھزار ایکڑ  زمین  الاٹ کردی گئی
  چیف کنزرویٹر  آف فاریسٹ  حیدرآباد نے  بتاریخ   ۔15 مئی 2014  کو ٹھٹہ شگر مل کے نام پر  الاٹ  کی گئی زمین کا  جو نوٹیفکیشن جاری کیا ہے  اسکے مطابق  یہ ایڈیشنل ایریا  ہے ۔ جسکا مطلب کہ اس  سےپہلے بھی  کافی زمین الاٹ کی گئی ۔ جو میڈیا کی نظروں میں نہیں آ سکی ہے ۔
 زرائع کے مطابق  ٹھٹہ سجاول ، دادو اور بدین  میں موجود  محکمہ جنگلات  کی زمین  بلاکس کی شکل میں موجود ہے ۔ اگر 80 ایکڑ کے ایک بلاک سے 30 ایکڑ   الاٹ  کی گئی تو بقایا زمین پر ویسے ہی قبضہ کر لیا گیا ہے ۔ اسطرح    کاغذوں اور سرکاری فائلوں میں یہ زمین اگر 26 ھزار  800 ایکڑ ہے تو   قبضہ کی گئی   زمین 60 ھزار ایکڑ سے زائد ہے ۔ زرائع کے مطابق   10 ارب روپے سے زائد یہ سرکاری زمین  جو صدر زرداری  کے فرنٹ  مین کی ڈمی کمپنیوں  کو  الاٹ  کی گئی  اومنی گروپ نے  اسکے لئے صرف  سات کروڑ ، 21 لاکھ 86 ھزار 740 روپے  فیس ادا کی ۔
10 ارب  روپے سے زائد   کا یہ میگا اسکینڈل ، پی پی کی صوبائی  حکومت کا ایسا  کارنامہ ہے ، جو سندھ میں پیپلز پارٹی کی بد انتطامی کی اعلیٰ  مثال ہے ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا  سندھ کی پوری سرکاری مشینری میں کوئی ایک بھی ایسا باقی نہ بچا جو اس کرپشن کے  آگے  بند باندھتا ؟
ٹھٹہ ، بدین ، سجاول اور زیرین  سندھ کے لاکھوں لوگ   پوچھتے ہیں کہ کیا   کرپشن کو سسٹم کا حصہ   بنانے کے بعد  سندھ کی سر کاری  زمینوں کی لوٹ  مار جاری رہیگی ؟
سندھ  میں کرپشن کی تیسری   کہانی  اگلی قسط میں  ملاحظہ کیجئے گا ۔


Saturday, 5 September 2015

لٹیرے ۔۔1

یہ کہانی ہے  سندھ  دھرتی کی جسے لوٹنے والوں نے  دونوں ہاتھوں سے لوٹا ، اور نوازنے والوں  نے  بانٹنے میں کوئی تمیز نہیں کی ، دوست تو دوست ، دوست کی بیٹی ، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ،  سی ای او کے بیٹے ،  اور ملازمین تک کو نواز  دیا گیا ۔  یہ کہانی شروع ہوتی ہے  مکلی  کے تاریخی قبرستان سے  ۔۔۔ جی ہاں یہ کہانی ہے مکلی   کے اس قبرستان سے ملحقہ 500 ایکڑ قیمتی زمین کی ۔ جسے کوڑیوں  کے مول   ایک لٹیرے نے دوسرے کے حوالے کردیا ۔  ۔ اور لٹیرے  کوئی غیر نہیں ۔۔۔۔اسی سندھ دھرتی کے بیٹے  ہونے کے دعوے دار ہیں ۔  دھرتی ماں کو بیچ بیچ کر جن کے پیٹ پھول گئے ہیں ۔ لیکن جب بھی انکی کرپشن پہ انگلی اٹھائی جاتی ہے ۔ سندھ کا درد انکے پیٹ میں مروڑیں لینے لگتا ہے ۔ یہ کہانی ہے سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کی  جسے   غریب  کی جورو  سمجھ کر  نوچا گیا ۔  اس کہانی   کے دو مرکزی  کرادر ہیں ایک   ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری   اور دوسرے  ان کے دوست  لال جی  ۔۔۔۔ جی  ہاں ریاض  لال جی کی ۔ جو نہ صرف  انکے کارو باری پارٹنر ہیں بلکہ پارٹنر بن کے ہی انہوں نے ترقی کی منازل طے کی ہیں ۔  90 کی دہائی میں چاول کی خریدو فروخت کرنے والا ریاض لال جی  آصف زرداری کی دوستی  میں آج ارب پتی ہے ۔ اور چارکمپنیوں کا مالک  ہے ۔  90 کی دہائی میں جب  چاول کی ایکسپورٹ میں   کرپشن  میں انکی قابلیت  اور خصوصیات   زرادری صاحب کی نظر  میں آئیں ۔  تو جوہری کی نظر رکھنے والے آصف زرداری  سے ۔۔  اس دوست     میں کرپشن  کی بہترین  خصلتیں  بھلا کیسے چھپ سکتی تھیں
اور پھر  ریاض لال جی کی قسمت بدل گئی ۔ کراچی میں  برطانیہ کے  ڈپٹی  ہائی کمیشن کی دیوار سے ملحق   کلفٹن بلاک  5 کی گلی نمبر 8 میں انکی 128 نمبر کوٹھی کے گارڈ اور چوکیدار بھی  واکی   ٹاکی اور وائر لیس  سیٹ استعمال کرتے ہیں ۔ اور  اس گھر میں  بی ایم ڈبلیو ، لینڈ کروزر اور دوسری   مہنگی ترین گاڑیوں کی لائن  آصف زرداری کی دوستی میں   انکی ترقی کے واضح  ثبوت ہیں ۔ جبکہ  تاریخی  مہتہ پیلس کے عقب میں ھزاروں گز پر انکا کاروباری دفتر بھی بہت کچھ کہتا دکھائی دیتا ہے ۔ 90 کی دہائی  میں جب   انکے سکینڈلز آنے لگے تو انہوں  نے  صحافیوں کو خریدنے کی کوشش کی ، اور اسی کوشش میں ملک کے ایک معروف  اخباری گروپ کے سینئر تحقیقاتی صحافی  کو جب خریدنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے  نوٹوں کی گڈی  لال جی کے  منہ پہ  دے ماری  ، اور انکے قیمتی سوٹ پر چائے کا کپ الٹ گیا ۔ اس واقعے کی تصدیق  موصوف نے خود   راقم  کے ساتھ ایک ملاقات میں کی ۔  لیکن لال جی اب صحافیوں کو نہیں خریدتے  اب  میڈیا مالکان کو خریدتے ہیں ۔  تازہ کہانی یہ ہے کہ ریاض لال جی نے  سندھ کے ضلع ٹھٹہ   میں 500 ایکڑ  زمین اپنی بیٹی ، کمپنی کے سی ای او ، سی ای او کے بیٹے  اور سابق  ملازم کے نام الاٹ  کروالی ۔31 مئی  2012 میں   مکلی قبرستان  کے قریب الاٹ کی گئی اس زمین  کو حیرت انگیز طور پر 200 روپے فی ایکڑ  کے حساب  سے 30 سالہ لیز پر الاٹ کی گیا ۔  راقم  کے  پاس   موجود دستاویزات کے مطابق   ریاض  لال جی نے یہ زمین حکومت سندھ  کے   لینڈ یوٹیلائیزیشن  ڈپارٹمنٹ     کے افسران کی ملی بھگت سے حاصل کی ہے ۔ ریاض لال جی کی بیٹی سبین سکینہ   کے نام  پر منتقل  کی گئی  100 ایکڑ زمین   جاری کرنے کیلئے   لینڈ  ریونیو ڈپارٹمنٹ  نے 28 مارچ 2012  کو  منظوری دی ۔ جس پر عمل کرتے ہوئے  اسسٹنٹ  کمشنر ٹھٹہ  عمران بھٹی  نے  صرف 33 دن بعد 31 مئی 2012 کو زمین الاٹ کردی ۔ زمینوں کے کھاتوں کے ریکارڈ  کے فارم 7  کے مطابق   یہ زمین سرکار کی ملکیت ہے اور سرکار نے  یہ زمین  ریاض لال جی کی بیٹی کے نام  کیٹل فارمنگ کیلئے  30 سالہ لیز پر  الاٹ کی ہے ۔
اسی طرح  100 ایکڑ زمین  عباس اسٹیل گروپ کے سی ای او خالد خان  کے نام پر ، 100 ایکڑ زمین  خالد خان کے بیٹے  محمد عدیل  خان کے نام پر ، 100ایکڑ زمین عباس اسٹیل گروپ کے سابق  ملازم  محمد اشرف ولد محمد سلمان کے نام پر  اور  100 ایکڑ زمین   عنبرین عمر  زوجہ  حاجی عمر کے نام پر الاٹ کی گئی ۔
 زمین کی الاٹمنٹ  میں  بھی  فی ایکڑ  200 روپے کی کم قیمت  لگانے کیلئے 1992  کی اس پالیسی  کا سہارا لیا گیا  جس کے تحت  کیٹل فارمنگ کیلئے رعایتی نرخوں پر  حکومتی  زمین  دی  جاتی ہے ۔ الاٹمنٹ 2012 کی اور قیمت  1992 کی یعنی 20 سال  پرانے ریٹ ۔  اس طرح 500 ایکڑ زمین  اپنے دوست کی کمپنی اسکے رشتہ داروں اور ملازمین میں بانٹ دی گئی ۔
راقم الحروف  کے پاس موجود دستاویزات کے  مطابق    یہ تمام 500 ایکڑ زمین ایک ہی دن الاٹ کی گئی۔   بعد ازاں  یکم اکتوبر 2012 میں  محمد عدیل خان اور  محمد اشرف خان کے نام   پر الاٹ کی گئی  زمین  کو سلک بینک کے پاس مورگیج  کروایا    گیا اور  عباس اسٹیل گروپ کیلئے  7 ایل سی   کھولی گئیں ۔ 30 سالہ  زمین پر قانونی لحاظ سے کوئی شخس نہ قرضہ لے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی مالی فوائد سمیٹ سکتا ہے ۔ لیکن  آصف زرداری  کے دوست ہونے کے ناطے  سلک بینک  یہ سارے قانون  بالائے طاق رکھ دیتا ہے  ، کیونکہ  وہاں شوکت ترین بیٹھے تھے ۔ جو آصف علی زرداری  کے فرنٹ میں اور اومنی گروپ کے  سربراہ  انور مجید کے سمدھی ہیں ۔ اس طرح چار کاروباری   پارٹنرز کا ایک کارٹیل وجود میں آگیا اور ایک دوسرے کو سپورٹ کیا جانے لگا ۔  
دوسری جانب  یکم اکتوبر 2012 ہی کو    سبین لال جی ، عنبرین عمر  اور خالد خان کے نام پر  الاٹ کی گئی  300 ایکڑ  زمین  کو   نیشنل بینک آف پاکستان  کے پاس مورگیج کرونے کی کوشش کی گئی ۔ تاکہ  ریاض لال جی کی عباس اسٹیل گروپ اور   اسکی 3  سسٹر کمپنیز   عباس اسٹیل   انڈسٹریز  پرائیویٹ لمیٹڈ   ، العباس اسٹیل پرائیوٹ  لمیٹڈ  اور عباس انجینیئرنگ   انڈسٹریز  لمیٹڈ   کیلئے   اربوں روپے  فائنانس کی سہولت حاصل کی  جا سکے ۔ لیکن نیشنل بینک میں شائد  کسی ایماندار افسر سے پالا پڑگیا ۔ اور اس اراضی  کو   رہن نہیں رکھا گیا ۔ بلکہ  کراچی میں نیو   امریکی قونصلیٹ   کے سامنے والی پراپرٹی کو  نیشنل بینک کے پاس رہن رکھوایا گیا ۔ جس پر حبیب بینک  کی ایک عمارت  قائم ہے ۔ یہ قیمتی جگہ  بھی ریاض لال جی نے کیسے حاصل کی اسکی ایک الگ کہانی ہے ۔     
 راقم الحروف  کے پاس موجود  دستاویزات کے مطابق    مختیار کار ٹھٹہ  نے 9 ستمبر 2013 کو  قومی احتساب بیورو  کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کے نام   اپنے لیٹر  نمبر اے ایم 2013/562 میں  سبین سکینہ  بنت لال جی ،  عنبرین عمر ، اور عباس اسٹیل گروپ  کے سی ای او محمد خالد خان کے نام  الت کی گئی 300 ایکڑ زمین کو  اپنے ریکارڈ  میں  نیشنل بینک کے پاس رہن رکھی ہوئی ملکیت  ظاہر کیا ہے ۔ ۔  دوسری جانب خود  ریاض  لال جی نے   راقم الحروف  کے سامنے   سلک بینک سے  ان زمینوں کے  بدلے 7 ایل سی کھلوانے  کی تو تصدیق کی ہے تاہم   نیشنل بینک  سے لون لینے کی تردید  کی ہے ۔
سپریم کورٹ ا ٓف پاکستان نے سندھ کی زمینوں کی اس بندر بانٹ  کا نوٹس لیتے ہوئے     تحقیقات کا   حکم دیا ۔ اور ایف ا ٓئی اے   کراچی  کے کمرشل بینکنگ سرکل  نے تحقیقات کا  آغاز کیا ۔  لیکن باخبر زرائع کے مطابق   ایف  آئی اے کے  تحقیقاتی  افسر بھی   ریاض لال جی  کے ساتھ مل گئے ۔
اس بات کا ثبوت یہ ہے  اس رپورٹر نے ایف ا ٓئی اے کی۔۔ سی ایف آر  ( کنفیڈینشل   فائنل رپورٹ )  ریاض لال جی  کے پاس دیکھی اور اسکو پڑھا بھی ۔ اس رپورٹ کے مطابق     ایف  آئی اے  کے اسسٹنٹ لیگل آفیسر   اپنے افسران کو لکھتے ہیں
(  کہ ہمارے انویسٹی گیشن  آفیسر نے   اسسٹنٹ  کمشنر ٹھٹہ  سے  زمینوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں لیٹر لکھ کر پوچھا ، اور  متعلقہ  اتھارٹی نے تحریری طور پر ایف ا ٓئی اے کو بتایا کہ زمینوں کی الاٹمنٹ  صحیح  ہے ۔ اس لیٹر کی بنیاد پر ریاض لال جی کے خلاف   انکوائری کو  کلوز کردیا جائے ) ۔
ٹھٹہ  کے وہ   افسران جو اس زمین کی ھہیر پھیر  اور کھاتوں کی تبدیلی میں شریک کار رہے ،  ایف  آئی اے انہی سے لیٹر لکھوا کر ان کھاتوں کی تصدیق  کر رہی ہے ، اور  انہی کے لیٹر کو بنیاد بنا کر انکوائری ہی کو  کلوز  کرنے  کا کہا گیا ۔  اسطرح  سرمائے نے تحقیقاتی اداروں کو بھی خرید لیا ۔  اور نتیجتا   یہ تحقیقات سرد خانے کی نظر کر دی گئیں ۔
دوسری جانب ریاض  لال جی نے دعویٰ  کیا ہے کہ  یہ زمین  انکی  آبائی زمین ہے ۔  اور یہ انہیں 2006 میں الٹ کی گئی ۔ اس سلسلے  میں ریاض  لال جی ن نے راقم الحروف کو  جو دستاویزات فراہم کی ہیں انکے مطابق  12 اکتوبر 2006  کو  نو شاد  مر        چنت
ولد  رمضان مرچنت،  آسو ولد سگھاں ،   کرشن ولد آسو  ۔۔  ناز نین  ولد لال جی ۔،۔ خالد خان ولد غازی خان  اور سبین سکینہ   بنت  ریاج  لال جی نے  288 ایکڑ زمین   ریاض لال جی کے نام28 لاکھ 80 ہزار روپے کے عوض  منتقل کی ۔  
ان دستاویزات کے مطابق  حیرت انگیز طور پر  یہ زمین ریاض لال جی کی  زوجہ ، انکی  بیٹی  اور انکے سی ای او       خود یاض لال جی   کو یہ زمین  فروخت کر رہے ہیں ۔  اور پھر ریاض  لال جی  اپنی ہی زمین   2012   میں دوبارہ  30لاکھ کے عوض خریدتے ہیں ۔   اور اس مرتبہ  یہ زمین  اپنے آپ سے نہیں بلکہ    سرکار سے خریدتے ہیں ۔ اور حیرت انگیز طور پر  یہ زمین 288 ایکڑ  سے بڑھ کر  500 ایکڑ میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ یعنی زمین انڈے اور بچے بھی دیتی ہے  ۔ لیکن یہ صرف  سندھ دھرتی پر ہوتا ہے ۔ اور یہ کارنامہ صرف سندھ کا محکمہ ریونیو  ہی انجام دے سکتا ہے ۔ راقم الحروف کو  با وثوق  زرائع نے بتایا کہ اس زمین کی ڈیمارکیشن کیلئے اویس مظفر ٹپی نے  اپنے کارندوں کو استعمال کیا ۔ اور زمینوں کے  ان قبضوں کیلئے    ضلعی پولیس  افسر  اور ضلعی ریونیو افسر بھی اپنی  ہی مرضی کے  لگائے گئے ، تاکہ کہیں  بھی  کوئی رکاوٹ  کھڑی نہ ہو ۔  سندھ  کی زمینوں کی اس بندر بانٹ  پر   کچھ لوگوں نے جب سپریم کورٹ  پہنچ کر آواز  بلند کرنے کی کوشش کی تو ان پر جعلی مقدمے بنوا کر  انہین گرفتار کروا لیا گیا  اور کچھ کو 2  ماہ تک اغوا بھی کیا گیا ۔ تاکہ آئندہ کسی میں  ایسی  آواز بلند کرنے کی جرات  پیدا نہ ہو سکے ۔
سندھ کی زمینوں کی اس بندر بانٹ  کی دوسری کہانی  اگلی قسط میں  ملاحظہ کیجئے گا ۔  



Wednesday, 2 September 2015

تاریک راہوں کے مسافر

ہاں آج میں شرمندہ ہوں اپنے پیشے سے ، صحافت کا متبرک پیشہ ، معاشرے میں ابلاغ کا  پیشہ ،  سماج میں ڈائیلاگ  اور مکاملے کو زندہ  رکھنے کا پیشہ ۔۔۔لیکن آج  میں اپنے اس پیشے سے شرمندہ ہوں کہ جسکے کارپوریٹ کلچر نے   مجھے یہ سب کچھ نہپں کرنے دیا ۔  میرے ٹاک شوز میں    معاشرے میں پنپنے والی  بیماریوں پر گفتگو کیلئے کوئی جگہ نہیں ۔  میرے شہر میں اگر ہنستے بستے  گھر  تباہ ہو رہے ہیں تو  اس پر بولنے کیلئے میرے نیوز بلیٹن میں کوئی جگہ نہیں ۔  میرے شہر کی عدالتوں میں اگر  دس ھزار صرف خلع کے مقدمے  درج ہیں تو یہ  میرے میڈیا کا مسئلہ نہیں ۔ میرے شہر  میں طلاقوں کی شرح اگر ایک ماہ  میں ھزاروں تک پہنچ جائے ، تو میرے میڈیا کا کارپوریٹ کلچر  اسے کوئی اشو نہیں مانتا ۔۔ میرے کارپوریٹ میڈیا کیلئے سرخ  پٹی  صرف سیاسی بیان بازی  رہ گئی ہے ۔میرے مارننگ شوزمیں وہ 
ساری ناکام خواتین جو اپنے  گھروندے نہیں  بچا سکیں ، معاشرے کو سدھارنے کا درس دیتی ہیں 
کلا س روم میں ، اسکول کے یونیفارم میں ، ہاتھوں میں قلم لئے اور کندھے پہ بستہ لٹکانے  والے میرے شہر کے معصوم بچے اور بچیاں  اگر  اسی کلاس روم میں  خون میں لت پت ہیں ۔ تو کلیجے پھاڑ دینے والے اس واقعے پر   میرا میڈیا صرف   یہ خبر چلاتا ہے کہ (  پٹیل پاڑہ میں ایک لڑکا اور لڑکی ہلاک  ہو گئے ۔۔۔) ۔ہاں آج میں اقرار کرتا ہوں کہ  میں اپنے پیشے پہ نادم ہوں کہ میں اپنے معاشرے میں ڈائیلاگ اور  مکالمے  کا کلچر پروان نہیں چڑھا سکا ۔۔ میرے   گھروں کے مسائل میری گفتگو کا موضوع نہ بن سکے ۔ میرے  مشترکہ خاندانی سسٹم کی ٹوٹ پھوٹ  میرے مارننگ شوز کا موضوع نہ بن سکی ۔
کہنے دیجئے  کہ میری مشرقی تہذیب کی سب سے  مضبوط بنیاد آج لرزہ براندام ہونے کو ہے ۔ ہمارا مشترکہ خاندانی نظام   جو ہماری مضبوطی کی دلیل تھی ، آج ریزہ ریزہ ہو چکا ہے ۔ وہ مشترکہ خاندانی نظام جس میں میرے  پھول جیسے بچوں کو  دادا  ، دادی  اور نانا  ۔ نانی کی صحبت حاصل تھی ۔  جو کلیوں جیسے حساس دلوں کو  پریوں کی کہانی بھی سناتی تھی ، اور پریوں  تک پہنچنے کا حوصلہ بھی  پیدا کرتی تھی ۔  لیکن وہ کہانیاں ختم  ہونے سے   نہ تو نوروز۔۔   فاطمہ جیسی پریوں تک پہنچ سکا نہ اس میں انہیں  پانے کیلئے    حوصلہ پیدا ہو سکا ۔
مشترکہ خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ  نے  ہر پنچھی کوآذاد کردیا ہے ، اور ہر ایک نے  اپنا  ا ٓذاد گھونسلہ بنا لیا ہے ۔  ماں  کام پہ  ، باپ آفس میں ، میرے ننھے پھول    آیاوں  کے رحم و کرم پہ ہیں ۔    ان پھولوں کو وہ محبت  جو اپنے گھر سے ملنی تھی ، نانا  نانی اور دادا دادی  سے ملنی تھی ، نہ مل پائی ،  ۔۔ ماں اور باپ کی آغوش  تو میسر ہی نہ ٓ آ  سکی   ۔ اور اس محبت کی تلاش میں  یہ پھول اسکول تک پہنچ گئے ،  اس محبت کو  جو گھر کے آنگن سے رخصت ہو گئی  ، ۔۔۔ یہ   پھول اس محبت  کو کہانیوں کی کتابوں میں  ڈھونڈنے لگے ۔۔۔  نفرت ، حسد کینہ بغض  اور کاروباری رقابتوں سے پاک   ان معصوم خالی دلوں میں  محبت بھرنے کیلئے    جب گھر کے آنگن ، مکان کی چور دیواری ناکام ہو گئی  تو اسے  اسکول کی چاردیواری میں ڈھونڈنے لگے ۔ یہ  محبت ان  معصوموں کو   نوروز اور فاطمہ کی شکل میں ملی ۔    کہنے دیجئے کہ    نوروز اور فاطمہ کے دل    ، نفرت ، بغض ، حسد کینہ اور اس جیسی تمام  برائیوں سے پاک  تھے  وہ تو سرتا پا محبت تھے ۔ اپنے آخری خطوط میں بھی  مما پاپا کو   کچھ نہیں کہا ، کوئی الزام نہیں دھرا ، کوئی غصہ نہیں نکالا ، بلکہ محبت ہی  جتائی ،  محبت ہی مانگی ، محبت ہی کی التجا کی  اور  معافی اور درگزر کی درخواست کی ۔  
کہنے ، اور سننے کیلئے   جب گھر کی چار  دیواری     ناکافی محسوس ہوئی تو  ان معصوموں نے   خطوط کا  راستہ اپنا یا ، قلم  اور کاغذ  کا راستہ ،  اپنی بات پہنچانے کا   راستہ   مگر  شاید  انہیں معلوم تھا کہ      گفتگو اور مکالمے کے راستے   میں بہت لمبے فاصلے در آئے ہیں   جنہیں وہ پاٹ نہیں سکتے ۔  انکے دل کی آواز وہاں اس گھر کی چار دیواری ، اور  اس آنگن تک نہیں پہنچ سکتی  جہاں وہ پہنچانا  چاہتے ہیں ۔  انہیں معلوم تھا  کہ  مکالمے اور   ڈائیلاگ کے راستے بند ہو چکے ہیں ۔ شاید  وہ دونوں   مکالمے کے زریعے اپنی بات پہنچانے کے سارے  راستے استعمال کر چکے تھے ۔ اور  گفتگو اور محبت کے سارے راستے بند دیکھ کر  انہوں نے  کوئی اور فیصلہ کیا ۔  
کہنے دیجئے کہ محبت  سب سے بڑا  سہارا ہوتی ہے ،   محبت  ٹوٹے دلوں کو جوڑتی ہے ،  محبت  گرے ہووں کو کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے ۔   گر کر سنبھلنے کا موقع دیتی ہے ۔  لیکن اگر محبت ختم ہو جائے  تو    ہر طرف  اندھریرا  چھا جاتا ہے ۔ زندگی کے سارے راستے تاریکی میں گم ہو جاتے ہیں ۔،  کہنے ، سننے ، ڈائیلاگ اور مکالمے کے سارے راستے   جب بند ہو جائیں  تو  کہنے اور سننے کے سارے حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں ، آس  اور امید کی ساری موہوم آرزوئیں دم توڑ دیتی ہیں ۔ یقین کے  جگنو  پر لگا کر اڑ جاتے ہیں ، مایوسیاں  ڈیرے ڈال دیتی ہیں ، تب ۔ محبت کی تلاش میں سر گرداں  نوروز اور فاطمہ تاریک راہوں  کے مسافر بن جاتے ہیں۔

مکالمہ ختم ہونے سے آ ج  میری قوم کا ہر فرد شاید انہی تارک راہوں کا مسافر بن چکا ہے

Sunday, 20 April 2014

دعا وں کا حصا ر

میں اسپتال  کی راہداری میں  موجود تھا کہ اتنے میں  کانپتے جسم اور   لرزتے ہاتھوں کے ساتھ ایک انتہائی ضعیف  شخص  میرے قریب آیا  اور  مجھ  سے کہنے لگا  "بیٹا حامد میر کی طبیعت اب  کیسی ہے ؟ "  یہ پوچھتے  ہوئے بھی اسکی آواز کپکپا رہی تھی اور ہونٹ لرز رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ میں نے انہیں تسلی  دی اور  میر صاحب کی خیریت کا بتایا  کہ انکی طبیعت اب بہتر ہے ۔۔۔۔۔ بعدا ازاں  ان سے تعارف ہوا    تو کہنے لگے کہ بیٹا میں ایک عام سا انسان ہوں ، بس میر صاحب کی جرات اور انکی سچائی  سے پیار کرتا ہوں ۔۔۔ رات ساری رات مصلے پر سجدے میں سر رکھ  کر   انکی زندگی کی دعائیں  مانگتا رہا ، اور اب رہا نہ گیا  تو دل کے ھاتھوں مجبور  ہو کے اسپتال چلا آیا ۔۔۔۔ یہ کہہ کر وہ مڑے اور  جانے لگے ۔۔ میں  نےایک بار پھر انہیں تسلی دی ۔۔۔۔جاتے جاتے کہنے لگے بیٹا   بس دل کو سکون مل گیا ۔  اللہ پاک انہیں اپنی  حفظ و امان میں  رکھے ۔۔۔یہ کہتے ہی وہ نحیف شخص  میری نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔۔۔۔۔
سچ اور  سچائی  سے محبت  کرنے والے  اس بوڑھے کے جانے کے بعد۔۔۔۔  میں اسپتال کے صوفے پر ایک  جانب بیٹھ گیا ۔  ۔۔۔۔تو مجھے  وہ  اسی سالہ  اماں یاد آگئیں ۔۔۔جو ہمیشہ مجھے اپنا بیٹا کہتی ہیں ۔۔۔اکثر مجھے  وہ  نفلی  روزے رکھے ہوئے   ۔۔ اور  رب کے حضور  سجدے میں  ملتیں ۔ ۔۔۔۔ باتوں باتوں میں بتاتی کہ بیٹا  حامد میر کی زندگی  اور حفاظت   کیلئے  دعا کرتی ہوں ۔۔اللہ اسکو  لمبی زندگی  عطا فرمائے ۔۔۔ یہ ضعیف اماں  جس سے  چلا بھی نہیں جاتا ۔۔۔جو کسی کا ہاتھ  پکڑ کر گھر کی دہلیز پار کرتی ہیں ۔۔۔۔یہ اماں  مسنگ پرسنز  کے کیمپ میں شرکت کیلئے  اسلام آباد پہنچ گئیں ۔۔۔ اور جب  حامد  صاحب  نے مسنگ پرسنز پر پروگرام   کئے ،  تو  وہ اسمیں  بھی شریک ہوئیں ۔۔۔۔اس  اماں کے دو  جوان  بیٹوں کو غائب  ہوئے  کئی  ماہ  ہو چکے تھے ۔۔۔۔اور  بالآخر   چھ ماہ کی کوششوں   کے بعد  انہیں بے گناہ  اور کلیئر کرکے چھوڑ دیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن حامد  میر  اس بوڑھی  اماں کی دعاوں  میں ہمیشہ  رہتا  ہے ۔۔۔۔ایک ھفتہ  پہلے  اس بوڑھی  اماں  سے  ملنے  انکے گھر گیا  دعا  کی درخواست  کی ۔۔۔۔ تو کہنے لگیں ۔۔۔۔ بیٹا  کہنے کی ضرورت  نہیں تم اور  حامد میر ہمیشہ  میری دعاوں  میں رہتے  ہو ۔۔۔۔۔
مجھے  یاد آیا  کہ  وہ اکتوبر 2005 کی  ایک اداس شام تھی ۔۔۔۔۔پاکستان کی تاریخ  کا خطرناک  زلزلہ آئے   ہفتہ بھر ہونے کو تھا ۔۔۔اور مجھ  پر  جیو کیطرف  سے مظفر آباد  بیس کیمپ کی ذمہ داری تھی ۔۔۔۔۔کہ حامد میر  صاحب مظفر آباد  سے  پروگرام کرنے آئے ۔۔۔۔ اس دن مجھ پر حا مد میر  صاحب کی شخصیت   کے کچھ اور پہلو  بھی  آشکار  ہوئے ۔۔۔ میں  تو اگرچہ ایک بہت ہی معمولی سا رپورٹر تھا ۔۔۔۔لیکن میر صاحب نے کئی ایک بریکنگ  نیوز مجھے  دیکر   مجھ سے  بریک کروائیں ۔۔۔اور اس طرح   ایک چھوٹے رپورٹر  کی حوصلہ افزائی  کی ۔۔۔اور مختلف پہلووں پر  رپورٹس   بنانے  کیلئے   کئی ایک ٹپس  دیں ۔۔۔جو زندگی بھر رپورٹنگ  کے دوران  میری رہنمائی کرتی رہیں ۔۔۔۔ جن میں سب سے بڑی بات ۔۔۔ سچ بات کو ڈٹ کر  کہنا اور بے خوف و خطر ہو کر رپورٹنگ کرنا  سب سے اہم تھی ۔۔۔۔۔
آج ہاسپیٹل  کی اس لابی میں بیٹھ  کر میں سوچنے لگا  کہ   میر صاحب  نے جس بات  کا درس 2005 میں  مجھے دیا ۔۔آج  خود اسی  سچ کی وجہ سے ہسپتال پہنچ گئے ہیں ۔۔۔۔۔ خبر کی تلاش ۔۔۔ جستجو ۔۔۔۔اور طلب  کی یہ صفات  میں  نے  میر صاحب سے 2005 کے زلزلے میں سیکھیں ۔۔۔۔اور تلاش کا یہ سفر ہی ہے جو انسان کو متحرک  رکھتا ہے ۔۔۔اور  میر صاحب ہمیشہ  متحرک ہی  رہے ۔۔۔۔۔سچ کی تلاش کا یہ سفر  آج بھی جاری ہے ۔۔۔اور قابل داد ہیں وہ لوگ  جو  اس  سفر میں  اپنی انگلیوں کو قلم  کرکے اپنی زندگی کو دھیرے دھیرے  سلو پوائزن کی طرح کسی مقصد  کیلئے  وار  دیتے    ہیں ۔۔۔۔۔اور سچ کو جاننے  اور پہچاننے   کے اس  سفر میں  شمع کی مانند ہم جیسوں  کو تاریک  راہوں  میں اجالوں کا پتہ دیتے  ہیں ۔  میر صاحب جیسے  لوگ آج کے گئے گزرے زمانے میں  صحافت کے آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے ہیں ۔۔۔۔جن کی کرنوں سے  آنے والوں  نے اپنے آپ کو منور کرنا ہے ۔۔۔یا شاید آج کے اس نفسا نفسی کے دور  میں  حامد میر جیسے لوگ  اس زمین  کا نمک ہیں ۔۔۔جنکی وجہ سے صحافت  کے ذائقے  کو  بقا اور دوام حاصل ہے ۔۔۔شاعر نے شاید ایسے ہی سچے اور کھرے لوگوں کیلئے کہا ہے کہ
شام غم  ، ظلمت شب ، صبح الم بولتے ہیں
جب کوئی اور نہیں  بولتا ، ہم بولتے ہیں
بول جب بند تھے سب کے تو ہم ہی بولتے تھے
بولتا  کوئی نہیں آج بھی،   ہم ہی  بولتے  ہیں
دیدہ ور ،اہل صفا ،  اہل جنوں  چپ ہی رہے
سچ کو لکھتے ، جو ہوئے ہاتھ قلم   بولتے  ہیں
 جب تک سچ  بولنے کا یہ عمل جاری ہے ۔۔۔جاننے اور  پہچاننے کا سفر جاری رہے گا ۔۔۔۔۔اور لاکھوں  لوگوں کی دعائیں  سچ بولنے والوں  کواپنی حفاظت  کے حصار میں رکھیں گی ۔۔۔