Tuesday, 12 November 2013

المیے سے ۔۔۔۔ امید تک۔۔2

سیلاب  2010 کی یادیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری ڈائری سے۔2


وہ  اندھیری  رات تھی ۔   فور بائی فور کا ڈرائیور  110 کی اسپیڈ  سے   ہائی وے پر پڑے گڑہوں    سے انتہائی مہارت  سے  گاڑی نکالتے ہوئے    سکھر کی جانب  رواں دواں تھا ۔  روڈ پر ذیادہ تر   امدادی  قافلوں  کی گاڑیاں ، فوجی ٹرک  یا پھر  سیلاب میں کام کرنے والی این جی اوز    ۔۔۔۔یا پھر  لٹے  پھٹے خاندانوں کے ۔۔۔ہنستے بستے شہروں میں  مقیم  رشتہ دار  محو سفر تھے ۔
سکھر ۔۔۔۔جسکی ہر گذرگاہ  اور خالی جگہ پر  سیلاب  کے ھزاروں  متاثرین نے  اپنے لئے   خیمے گاڑ رکھے تھے ۔۔۔ رات 12 بجے  سکھر پہنچنے پر ہم نے رات گذارنے کیلئے کئی ھوٹلوں  کے چکر کاٹے  پر  ہر جگہ     ۔۔۔۔سارے  روم بک ہیں۔ ۔۔ ہی سننے کو ملا ۔ اجنبی شہر کے اجنبی راستوں پر ۔۔۔رات کے 12 بجے  ۔۔۔۔رات  گذارنے کا کہیں  کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔ ۔۔ایسے میں پرانے  رابطے  یاد آئے  ۔۔۔۔کسی دوست کا نمبر ملایا  اور اپنی مشکل اسکے سامنے رکھی ۔۔۔کچھ دیر بعد  انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہوٹل ملنا تو مشکل  ہے آپ  سکھر سے باہر نکلیں ۔۔۔ دریا  کے کنارے پر ایک گاوں  ہے ۔۔۔ وہاں ایک اوطاق میں آپکو چارپائیاں  مل جائینگی اور رات  گذارنے  کا سامان  ہو جائیگا ۔
کچے راستوں  پر ۔۔۔۔اندھیری رات میں ۔۔۔۔۔رات 1 بجے  گاوں کی اوطاق پہنچے ۔ تو اس ملک کے لوگوں کے خلوص  نے آنکھوں  میں آنسوں  بھر دئے ۔  کوئی  60 سال کی   عمر  کے  بوڑھے ہمارے لئے  نیند  سے اٹھ کر چارپائیاں  بچھا رہے تھے ۔ اور پھر ان پر بستر بھی لگا دئے گئے ۔  رمضان کا مہینہ تھا    ۔۔ان غریبوں نے   ہمارے لئے سحری کا بھی انتظام کیا ۔ جسمیں  انکا خلوس، انکی محبت ۔۔انکی مہمان نوازی  ۔۔اوراجنبیوں سے  انکی عقیدت  سب  شامل  تھی ۔  اس بوڑھے اجنبی نے بتایا  کہ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت  دریا کے بند پر رات  کو لائٹنگ  کا انتظام کیا ہے ۔  کمزور پشتوں پر خود مٹی ڈالتے ہیں ۔  دریا کے بند میں چوہوں کے کھودے ہوئے سوراخوں پر نظر رکھتے ہیں ۔ سب لوگ جاگ  کر دریا کے بند  پر  پہرہ دیتے ہیں  ۔ کہ کہیں  بے خبری میں  بپھرتا دریا اپنا وار نہ کر جائے ۔  کیونکہ  امید فاضلی نے  شاید  کسی ایسے  ہی موقعے کیلئے یہ شعر کہا ہوگا   کہ
بند بنا کر سو  مت جانا
دریا آخر دریا ہے
ہم نے اپنے میزبانوں کو مزید تکلیف سے بچانے کیلئے   فجر کے بعدہی رخت سفر باندھنے  کا فیصلہ کیا ۔ کیونکہ ہماری وجہ سے یہ لوگ پہلے ہی کافی ڈسٹرب ہو گئے تھے ۔  گاوں  کی اس اوطاق سے رخصت  کے وقت  اس بوڑھے میزبان کی آنکھوں میں خلوص اور محبت کے آنسوں جبکہ ہماری  آنکھوںیں انکے لئے احساس تشکر کے  ستارے جھلملا رہے تھے ۔  گاوں  سے نکل کر ہم نے سورج کی پہلی کرن کے ساتھ  سکھر شہر کا ایک چکر لگانے کا فیصلہ کیا ۔ لیکن اس چکر نے ہمیں  چکرا کر رکھ دیا ۔ ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے  کہ سارے میڈیا نے سکھر ہی  میں  ڈیرے ڈال رکھے تھے ۔ اور سب کی رپورٹنگ میں ایک سی یکسانیت نظر آئی ۔ وہی کیمپوں کی زندگی ، راشن کے حصول پر جھگڑے ۔ یہ دیکھ کر ہم نے  اپنے اس اصول  کو ایک بار پھر  آزمانے کا فیصلہ کیا ۔ جس نے  میری17 سالہ  صحافتی زندگی میں  ہمیشہ  مجھ پر  کامیابیوں کے در وا کئے  ۔ اور وہ یہ کہ جہاں سارا  میڈیا ہو۔۔۔ وہاں   سے دور ہو جاو ۔  اپنے آپکو تکلیفوں میں ڈال کر لوگوں   سے قریب ہونے کی کوشش کرو ۔ نئی کہانیاں اور زندگی کی نئی رمزین تلاش کرنے کی کوشش کرو ۔  بس  ایک منٹ میں  فیصلہ ہو گیا ۔ اور ہم نے شکارپور سے  مشرق  میں  کشمور اور کندھ کوٹ کی جانب   بڑھنے کا فیصلہ کیا ۔ اب زندگی ہمارے امتحانوں  کیلئے ہمارے سامنے  کھڑی مسکرا رہی تھی ۔  سڑک  کی دونوں جانب  دور دور تک کھیت کھلیان ، آبادیاں  سب سیلابی پانی  میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ تارکول  کی کالی سڑک  اس پانی میں ایک لکیر  کی مانند دکھائی دے رہی تھی ۔ اور ایک مقام پر جا کر یہ لکیر  بھی پانی میں  گم  ہو گئی ۔ اب ہمارے  چاروں طرف صرف پانی ہی پانی تھا ۔ اکا دکا  دیہاتی لوگ  سیلابی پانی  میں ۔۔۔۔سر پر سامان  کی گھٹڑیاں  اٹھائے۔۔۔۔۔پانی میں   گم   کردہ اس   کالی لکیر پر چلتے  جا رہے تھے۔  اب زندگی  نے ہمارا امتحان لینا تھا ۔  آگے  جائیں یا واپس لوٹ  چلیں ۔  ہمیں شاید  اپنی فور بائی فور پر ناز تھا ۔ لیکن  یہ ہماری بھول تھی ۔ ۔سیلابی پانی نے  لکیر کی مانند  اس  سڑک  کی دونوں  اطراف   کاٹ  دیں تھیں ۔  اور دونوں طرف کی مٹی  پانی بہا کر لے گیا تھا ۔جس سے ہم مکمل طور پر  لاعلم تھے ۔ کیونکہ یہ کنارے  پانی میں ہونے کی وجہ سے  ہمیں نظر نہیں آرہے تھے ۔ ۔۔ پانی کے اندر  ہمیں اس بات کا بلکل بھی اندازہ  نہیں تھا ۔ کہ ایک دم ہماری گاڑی۔  کا ایک ٹائر  سڑک سے نیچے اترا ۔ اور پوری گاڑی  ٹیڑھی ہو گی ۔  جس  طرف گاڑی اتری  اس طرف انداز ا چار فٹ کی گہرائی تھی ۔ اور پھر دوسرے لمحے ہم اپنے کپڑوں  اور جوگرز سمیت پانی میں تھے ۔ حالت یہ تھی ہم گاڑی کو پکڑ کر واپس سڑک پر چڑھانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ اور منہ زور سیلابی  پانی  ہمیں گاڑی سمیت  دوسری جانب بہا  کے لے جانے کیلئے بے تاب تھا ۔  آخر کار وہی  پیدل چلنے والے دیہاتی کام آئے   ۔۔۔۔قریبا 20 افراد  ہماری گاڑی کو  اٹھا کر واپس  سڑک پر  لائے ۔ہم سب کے اترنے اورگاڑی کا وزن  کم ہونے سے ایسا لگ رہا تھا کہ ہماری گاڑی پانی میں تیر رہی ہے ۔  دیہاتیوں  کے مشورے پر ہم ایک بار پھر   گاڑی میں سوار ہو گئے اور انہیں بھی پچھلی سائڈ پر  بٹھا لیا تاکہ گاڑی  کے اندر وزن بڑھ جائے ۔ اور  سیلابی پانی کو  ایک بار پھر  اپنا وار کرنے کا موقہ نہ ملے ۔  اور پھر شاید قدرت کو ہم پر رحم آگیا  ۔ پانی آھستہ آھستہ کم ہونا شروع ہوا ۔ اور ایک بار پھر  ہم  لکیر کی مانند   سڑک پر آگئے تھے ۔ لیکن دوبارہ گاڑی کو پانی میں ڈالنے  کا بھوت  اب ہمارے سر سے اتر چکا تھا ۔ اب ہم  7 کلومیٹر  مزید چلے   تو  ایک بار پھر سڑک پانی میں ڈوب رہی تھی۔  ہمارے نذدیک ترین  کرم پور کا شہر تھا ۔ جسے   سیلابی پانی نے  چاروں طرف سے  گھیر رکھا تھا ۔ ۔   اب ہم نے اپنی فور بائی فور کو وہیں  چھوڑا  اور  ایک ٹریکٹر ٹرالی کرائے پر لیکر  کرم پور شہر کی طرف روانہ ہوئے ۔  مقامی لوگوں نے  بتایا کہ ایک چھوٹی لڑکی سیلابی پانی  میں   ڈوبتی ہوئی ملی تھی ۔ لوگوں نے اسے نکال کر   ایک مندر میں پہنچایا ہے ۔ اب ایک کہانی  ہمارا انتطار کر رہی تھی  ۔ کہانیوں  ہی کی تلاش میں تو ہم  نے سکھر کو چھوڑا تھا ۔
آٹھ فٹ کے پانی سے گذر کر کرم پور پہنچنے کا ہمارا ایک مقصد ۔۔ جیو کے زریعے اس بچی کو اپنے پیاروں سے ملانا بھی تھا ۔۔ لیکن راستہ بڑا خطرناک تھا ۔ اگر ڈرائیور کو راستے کے اندازے کی تھوڑی بھی چوک ہو جاتی تو ہمارا جو حشر ہوتا وہ ہمیں اسی پانی میں ڈوبے ہوئے ایک ٹریکٹر کو دیکھ کر ہو گیا تھا ۔ کہ اس ٹریکٹر  کا صرف  اوپر کے سائلنسر کا  ایک ٹکڑا پانی میں نظر آ رہا تھا ۔ لیکن فرض کی پکار اہم تھی ۔ اور ہم اس ٹریکٹر

 ٹرالی کے زریعے  کرم پور پہنچ ہی گئے ۔
مندر پہنچ کر  یہاں  ہمیں ایک 70 سالہ بابا  نظر آئے  جو  ڈوبنے والی  اس لڑکی کی دیکھ بھال  کر  رہے تھے ۔
بروچکی زبان بولنے والے اس بابا نے بتایا کہ شروع میں اس لڑکی نے اپنا نام وزیراں اور والدہ کا نام جگل بتایا تھا ۔ جبکہ یہ سوڈھی نام کے کسی گاوں کا حوالہ دے رہی تھی ۔ مگر اب یہ گنگ ہے ۔ شاید ۔۔۔ انہونی ۔۔ کے ہوجانے کے بعد کی ۔۔۔بے یقینی کی کیفیت نے۔۔۔ اسے ذھنی عدم توازن کا شکار کردیا تھا ۔ 
بابا   کی باتوں سے ہم نے جو  نتیجہ اخذ کیا اسکے  مطابق 9 سالہ وزیراں بھی کبھی اپنے ہم جولیوں کے ساتھ ہنستی کھیلتی تھی ۔۔۔۔ مگر اب یہ کچھ نہیں بولتی ۔۔۔۔ اپنے اوپر گذرنے والی قیامت کے بعد اسکی زبان گنگ اور آنسوں خشک ہو گئے تھے ۔ یہ ننھی کلی بھی کسی کے دل کی ٹھنڈک اور کسی کی آنکھوں کا تارا ہو گی ۔۔۔ لیکن غوث پور کیطرف سے آنے والے سیلابی ریلے نے اسے اپنے پیاروں سے جدا کردیا ۔۔ کرم پور کے نذدیک کچھ لوگوں نے اسے سیلابی پانی میں بہتے ہوئے نکالا اور اسے کرم پور کے اک مندر میں چھوڑ گئے ۔ ۔۔۔۔ شاید وزیراں ابھی تک اس خوف سے باہر نہیں آ سکی کہ وہ سیلابی پانی سے زندہ بچ گئی ہے ۔ اسی مندر میں پناہ گزیں ایک  مائی رحمت اسکی دیکھ بھال کر رہی تھی  جو بوڑھے بابا  کی زندگی کی ساتھی تھی ۔  جن کو اس عمر میں خود ایک سہارے کی ضرورت  تھی ۔  مگر یہ دیوانے اب بھی دوسروں   کا سہارا بن کر  ہم پر زندگی کے نئے راز آشکار  کر رہے تھے ۔
وزیراں کی کہانی  مل گئی اب ہمارا اگلا  ٹارگٹ اس  کہانی کو جلد از جلد جیو پہ نشر کرانا تھا   ۔ شاید ٹی وی پہ اسکی کہانی سن کر  کوئی اسے پہچان لے  اور یہ اپنے پیاروں سے  مل جائے ۔   یہ سوچ کر ہم نے واپسی  کی راہ لی ۔ واپسی پر جگہ جگہ ہمیں خیمہ بستیاں نظر آئیں ۔  اور  گاڑی  کے ساتھ   آگے پیچھے  دوڑتے  منظروں  کے ساتھ میں سوچنے لگا  کہ
سیلاب کی تباہ کاریوں نے معاشی طور پر لوگوں کی کمر جھکا دی ہے۔ نہ جانے اس قوم کو کن ناکردہ گناہوں  کی سزا  بھگتنی پڑ رہی ہے ۔ کہ جن
گھروں کو یہ جائے امان سمجھتے تھے۔۔۔ زمین بوس ہو گئے ۔۔۔جو خوشحال اور تونگر تھے ایسے بدحال ہوئے کہ جائے پناہ تک نہ رہی ۔ گھر کی چار دیواری میں محفوظ زندگی گزارنے والی خواتین اب سر راہ بیٹھی اس ادھیڑ بن میں ہیں کہ شکوہ خدا سے کریں یا انسانوں سے ۔۔۔۔ اب سمجھوتہ کریں یا انکار ۔۔۔لیکن انہیں   شاید انتخاب کا حق نہیں ۔۔۔۔
یقیناً ان لوگوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی انہیں ایسے کڑے امتحان سے گذارے گی ۔۔۔ مگر اب ایسا ہو چکا ہے اب تخریب سے ترتیب اور تباہی سے ترقی کا راستہ ڈھونڈنا ہوگا ۔۔۔۔۔اور یہی سوچتے سوچتے  رات  نے  اپنے سائے پھیلانے  شروع کئے ۔۔۔۔۔  اور ہم واپس سکھر پہنچ گئے ۔  


Monday, 11 November 2013

المیے سے ۔۔۔۔ امید تک ۔1




سیلاب  2010 کی یادیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری ڈائری سے۔1

ہم نے  سیلاب  زدہ علاقوں میں جانے کی تیاریاں  تین دن سے شروع کر رکھی تھیں ۔ گرمیوں کے دن تھے ۔ ہلکے کپڑے  رکھنے تھے ۔ اور جیو کی ٹریننگ میں سکھائی گئی ایک چیز یاد آگئی  کہ  فیلڈ کیلئے  سب سے بہترین  لباس جینز   اور جو گرز ہیں  ۔ ہو سکتا ہے  کام کے دوران مٹی پہ بیٹھنا پڑے ۔ سیلابی پانی میں چلنا پڑے ۔ لیکن ایک بات نے پریشان کردیا کہ سیلابی علاقوں میں   بجلی کا نظام  درہم برہم ہوگا ۔  تو موبائل کیسے چارج ہونگے اور کمیو نیکیشن کیسے ہوگی ؟ یہ سوچ کر الیکٹرونک  مارکیٹ  پہنچے۔ اور اس مسئلے کے حل  کی کوئی چیز تلاش کرناشروع  کی ۔ آخر ایک دکاندار سے ایک ایسی ٹارچ مل گئی ۔  جس سے بوقت ضرورت آپ موبائل بھی چارج کر سکتے ہیں ۔ ٹارچ کیا ملی ۔ گویا  روشنی کی کرن  نظر آگئی  اور مشکل حل ہو گئی ۔ یہ مشکل حل ہوئی تو دوسری  منہ کھولے ہماری بے بسی پہ مسکرا رہی تھی ۔  اور وہ یہ کہ  فور بائی فور  گاڑی کراچی میں کہیں بھی دستیاب نہیں تھی ۔ کیونکہ  ساری گاڑیاں   سیلاب  کے موسم میں اپنی دکان چمکانے کیلئے  این جی اوز  نے اٹھا لی تھیں ۔  آخر کار اللہ اللہ کرکے ہمیں ایک گاڑی ہاتھ آہی گئی۔ اور جب سورج اپنی  شعائیں کھل کے  برسا رہا تھا ، ہم کراچی سے روانہ ہوئے ۔  ارادہ تو سکھر جانے کا تھا ، لیکن سوچا کہ  سکھر پہنچتے پہنچتے شام ہو جائے گی ۔ اور آج کا دن بغیر کام کے گذر جائیگا ۔ یہ سوچ کر فیصلہ کیا کہ دادو اور مورو  کے کچے کے علاقے کے   متاثرین سیلاب کے ساتھ کچھ وقت گذار کر آگے بڑھا جائے ۔  یہی سوچ کر  ہم مورو سے  مغرب میںدریائے سندھ کی جانب روانہ ہوئے ۔  مورو  اور دادو  ۔۔ دونوں جڑواں شہر  ہیں ۔ بلکل آمنے سامنے ۔ مورو  دریائے سندھ کے  مشرقی سائڈ    اور  دادو     دریائے  سندھ کے  مغربی کنارے  پر۔  دونوں شہروں کو ملانے کیلئے   دریا پر   ایک ۲ کلو میٹر  پل تعمیر کیا گیا ہے ۔  اور ہم اسی پل کی جانب  رواں تھے ۔
دریا اپنے پورے جوبن پر تھا ۔   آج دریا  بہت پر جوش بھی تھا ۔  کہ اسے جلد از جلد سمندر   سے ملنا تھا ۔سمندر ہی تو اسکی منزل تھا ۔سمندر ہی دریا کی محبت ہے۔ منزل  کی جستجو  اور  وصل کی آرزو میں  ہم دوسروں کی خوشیاں بھول جاتے ہیں ۔  ہماری راہ میں جو بھی آتا ہے  ہم اسے  تہس نہس کر دیتے ہیں ۔   دریا کنارے کھڑا میں یہی سوچ رہا تھا   کہ اس دریا کو بھی سمندر سے وصل کی کتنی جستجو  ہے ۔ کتنا شوق ہے ، کتنی آرزو ہے ۔  کہ اگر  یہ جلدی اپنے محبوب   تک نہ پہنچا تو شاید  کوئی اسے روک لیگا ۔  اور اسی جوش میں اس دریا نے کتنی ہی  ہنستی بستی بستیوں کو ویران کیا تھا ۔ کتنے ہی گھروں کو اجاڑا تھا ۔ جو اسکی  راہ میں حائل ہوا  اسے اکھاڑ کر پھنک دیا  ۔۔یا  اسکے وجود کے ٹکڑے اپنے ساتھ لئے لئے  پھرتا رہا ۔ ۔۔۔ مضبوط سے مضبوط چیز کو بھی تنکوں  کی طرح    بہا لے جاتا ہے یہ دریا ۔۔۔شاید اپنے محبوب سمندر کو دکھانے کیلئے  کہ دیکھو  تجھ سے ملنے کیلئے  میں نے کیا کچھ کر ڈالا ۔۔۔۔۔۔ وقت  بھی تو دریا کی طرح ہی ہے نا ۔۔۔ انسان کو  تنکوں کی طرح بہا لے جاتا ہے ۔۔۔اور آج ان ا نسانوں پہ ایسا  ہی وقت آیا تھا ۔
  پانی  دریا کے بچاو  بند سے ٹکرا رہا تھا ۔  اور کچے کے اس علاقے میں موجود اندازا 30 گاوں  کے ھزاروں مکین  اپنے گھروں کو ڈوبتا چھوڑ کر  بند پر آکر بیٹھ گئے تھے ۔   اس لمحے میرے ذہن میں خیال آیا کہ انسان  کتنا  خود غرض ہے ۔   جس  گھر کو بنانے کیلئے  وہ پوری زندگی داو پر لگا دیتا ہے ۔ جس کی تعمیر کے  لئیے   حلال  حرام کی تمیز کھو دیتا ہے ۔ جس کے لئے مرنے مارنے پہ تیار ہو جاتا ہے ۔  جب جان پہ بن آتی ہے تو سب کچھ  چھوڑ چھاڑ کے     بھاگ  کھڑا ہوتا ہے ۔ اور پھر کنارے  پہ کھڑے ۔ بہتے آنسووں کے ساتھ سب کچھ ڈوبتا ہوا دیکھتا ہے ۔  اور اس وقت اسکو اس دنیا کی بے سرو سامانی یاد آتی ہے ۔
ہم نے دیکھا  کے  ان لٹے پھٹے انسانوں  کے پڑاو کے نذدیک حکومتی مشینری نے  کچھ ٹینٹ  لگا کر  اپنی دکان بھی کھول  لی تھی ۔  جو لوگ کبھی اپنے پکے گھروں  میں آسودہ حال تھے ، آج بے گھر  ، بے یارو مدد گار اور بے حال تھے ۔  گھروں سے بے گھر اور  کھلے آسمان تلے موجود ان لوگوں  میں اگر کوئی امید کی کرن ہمیں نظر آئی تو وہ یہ کہ کبھی تو دریا  اترے گا اور یہ سب  اپنے گھروں کو لوٹینگے ۔
یہیں  دریا کنارے ہم نے ایک 18 سالہ نوجوان کی نعش رکھی دیکھی ۔  جو کسی سرکاری یا غیر سرکاری یمبو لینس کے انتظار میں تھی ۔  شدید  گرمی اور حبس میں جہاں  ہمارے کپڑے  بھی تقریبا  بھیک چکے تھے ۔  یہ لاش دھوپ میں رکھی تھی ۔  اور اسکی بوڑھی ماں نے   شاید  اپنے آنچل  سے اس پر کچھ سایہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ ماں   ۔ جو  زندگی بھر  اپنے بچے  کو زمانے کے گرم و سرد سے بچاتی ہے ۔ اور تحفظ کی اسی جستجو میں اپنی پوری زندگی بتا دیتی ہے  ۔ آج  مرنے کے بعد بھی اپنے بچے کو   سورج کی  تپش سے بچا نے کی کوشش میں مصروف تھی ۔  ایک ایسی بوڑھی عورت۔۔۔۔  جسکے چہرے کی چمک کو افلاس کا میل کھا چکا تھا ۔ اور  محرومیوں کی داستان  اسکے جھریوں بھرے چہرے سے عیاں تھی ۔
پوچھنے پر معلوم ہوا کہ  نوجوان کا نام صدام حسین تھا ۔قریب ہی ہمیں اسکی بہنیں  بھی بین کرتی ہوئی نظر آگئیں ۔ صدام حسین کی ماں نے بتایا کہ جب سیلاب آیا  تو فوجی جوانوں   نے سب سے پہلے  بچوں اور خواتین کو  نکالا ۔ اور اسکے بعد مردوں  کو ۔۔ لیکن جنکی جمع پونجی پانی کی نذر ہو گئی تھی ۔ وہ اپنے مال مویشی اور سامان  چھوڑنے  کو تیار نہ تھے ۔ اور صدام حسین بھی ایسے ہی لوگوں کی صف میں تھا ۔ اور جو شخص سامان کے بغیر  نکلنے پر تیار نہ تھا  اسے وہیں چھوڑ دیا گیا ۔  صدام حسین بھی اپنے گرے ہوئے گھر کے چھپروں پر کمر تک  پانی میں ڈوبا ۔۔۔موجود تھا ۔۔۔کہ اسے سانپ نے کاٹ لیا ۔ ۔۔ شاید سانپ کو بھی کوئی پرانا  بدلا آج چکانا تھا ۔  یا اس نے آج صدام حسین کو   قدرت  کے آگے بے بس پاکر حملہ کیا تھا ۔  صدام حسین کو  ایک اور کشتی کے زریعے   دریا کے بچاو بند تک لایا گیا ۔ اور جگہ جگہ  میڈیکل کیمپ کے نام پر  کھلی دکانوں  میں گھمایا گیا ۔ لیکن  سانپ کا کاٹا  ایک ڈرپ  سے بھلا کہاں  جانبر ہو سکتا تھا ۔۔۔۔ سو یہی ہوا ۔۔۔  اور صدام حسین اپنی  جمع پونجی اور مال مویشی کی محبت  میں جان کی بازی ہار گیا ۔۔۔۔۔  ہائے رے محبت  تیرے روپ ۔۔ دریا کی محبت سمندر سے ۔۔۔۔  ماں کی  محبت  بیٹے سے ۔۔۔ بیٹے کی محبت  اپنے مال مویشی سے ۔۔۔۔ اپنے جوان سال  بیٹے کی کہانی سناکر بوڑھی اماں  پھر بین کرنے لگی ۔ اور غم کے ھاتھوں نڈھال ہوگئی ۔  جو گذرشتہ ایک گھنٹے سے اپنے جگر گوشے کی لاش کو   دھوپ میں رکھ کر کسی ایمبو لینس کی منتظر تھی ۔۔۔۔۔  اور ہم  ۔۔۔۔  ہم کہ ایک حساس دل رکھتے ہوئے بھی ۔۔ بے حس بن کر  آگے بڑھے ۔۔۔۔کہ ہمیں تو اور  کہانیاں  بھی ڈھونڈنی تھیں ۔ 

Saturday, 9 November 2013

شہادتوں کا سفر


اس ملک میں پرو پیگنڈے کی جنگ  اور اسکے نتیجے میں لکھی جانے والی تحریروں  نے میرے ملک کو عملا  دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے ۔پوری قوم کو دو انتہاوں پہ پہنچا دیا ہے۔  اس قوم میں  ایک ایسی ذہنی خلیج  پیدا کردی ہے  جسے پاٹنے میں شاید   کئی برس بیت جائیں ۔
میرے ملک کے  کے وہ نامہ نگار اور کالم لکھنے والے جنکی روزی روٹی  کا منبع  بیرونی آمدنی ہی ہے ۔  جس شدو مد کے ساتھ  میری قوم کی تاریخ کو مسخ کر رہے ہیں ۔ اس پر اہل علم اور اہل قلم کی خاموشی حیران کن  ہی نہیں   فکر انگیز بھی ہے ۔  ان روشن خیال لوگوں میں سے ایک  کو  تو صرف اس بات پر چڑ ہے کہ میری قوم کی شہادتوں کی تاریخ اور فہرست لمبی کیوں ہوتی جا رہی ہے ۔ ؟ وہ تو اس بات  کو لیکے روتے ہیں کہ انہوں نے تو بچپن میں صرف  لیاقت علی خان شہید ، اور راشد منہاس شہید کے بارے میں  اسکول میں پڑھا تھا ۔ یہ فہرست اتنی لمبی کیوں ہوتی جا رہی ہے ۔
انہیں کون    بتائے کہ  شہادتوں کایہ  سفر تو اس عظم ہستی کی معیت میں  جنگ بدر سے شروع ہو اتھا ۔ جس پر  غیر متزلزل  یقین کے بغیر شاید ہمارا ایمان  بھی  مکمل نہیں  ہوتا ۔ اور  پھر شہادتوں کے اس سفر کو نکتہ عروج پہ  نواسہ  رسول حسین ابن علی نے پہنچایا ۔ اور رہتی دنیا تک  شہادتوں کا راستہ متعین کر گئے  کہ ظلم کے خلاف  ڈٹے رہنا ، مظلوموں کا ساتھ دینا ،  خدا کی برتری کے آگے  کسی کی برتری تسلیم نہ کرنا ہی   شہادتوں کا  راستہ ہے ۔ اسی راستے  پہ  محمد بن قاسم ، طارق ابن زیاد اور  موسیٰ بن نصیر اورصلاح الدین ایوبی چلے ۔  اور جب کبھی  شہادتوں کا یہ راستہ میری قوم کی نظروں سے اوجھل ہوا ۔  شہادتوں کے امین لوگوں نے اس  راستے اور اس منزل  کے  نشان راہ کو اپنی قوم کو دکھایا ۔  بالاکوٹ   کی وادیوں میں  اپنے سر ہتھیلی پہ سجاکر پیش کرنے والے   سید  احمد شہید  اور احمد  شاہ ابدالی  بھی اسی شہادتوں کے  راستے کے امین تھے ۔ اس ملک کی جغرافیائی سرحدوں  کے پاسداری کیلئے اگر راشد منہاس شہید اس قافلے میں شامل ہوئے تو اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کیلئے
افغانستان میں  لڑنےو الے عبداللہ عزام شہید بھی اسی راستے کے  راہ رو تھے ۔  تو جنرل اختر عبد الرحمان اور جنرل ضیاء الحق  بھی اس قافلے کا حصہ تھے ۔ یہ سب اس قوم کے ھیروں ہیں ۔ جنہوں نے  اس قوم کو  جہاد کا بھولا ہوا سبق ایک بار  پھر تازہ کرکے شہادتوں کے سفر پر گامزن  کیا ۔ اس ملک میں تو ایسی ھزاروں   مائیں ہیں جنہوں نے  اپنے جگر گوشوں کو شہادتوں  کے اس قافلے  کا حصہ بنا کراس  سفر کے تسلسل کو برقرار رکھا ۔

شہادت تو ایک سفر ہے ۔ ایک راہ ہے اور اس راہ پہ چلنے والوں  میں ایک تسلسل ہے جو کبھی نہیں ٹوٹا ، کل کوئی حسین ابن علی نانا کے دین سے پیا ر کرتے ہوئے اس راہ پہ چلا ۔ اور آج  وزیرستان  کا کوئی بچہ  اس کلمے سے محبت  کی وجہ سے اس درجے پہ فائز ہوتا ہے ۔  صرف کردار  تبدیل ہوئے ہیں ۔ تسلسل  تو نہیں ٹوٹا ۔۔صرف مقامات بدل گئے ہیں ۔ سفر تو ایک ہی ہے ۔ جذبہ تو ایک ہی ہے ۔  اس قوم کے نام نہاد روشن خیال  سمجھتے ہیں کو  وہ اپنی تحریروں سے یہ تسلسل  توڑ دینگے تو یہ انکی خام خیا لی ہے ۔یہ شہادتوں کے امین ہی اس قوم کے اصل ہیرو ہیں ۔ یہی اس قوم کیلئے  عظمتوں کے مینار ہیں  جنکی زندگیوں میں یہ اپنے  لئے بلندیوں کی   اور شہادتوں کی منزل تلاش کرتی ہے ۔ یہی  شہادتوں کا سفر اس قوم کیلئے    مایوسیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں  چراغ  راہ کا کام کرتا ہے ۔  لیکن میری قوم کے نام نہاد  روشن خیال  ان سے امید کا یہ چراغ بھی چھیننا  چاہتے ہیں ۔ ان سے ان کے ھیرو چھین کر انہیں  زیرو بنانا  چاہتے ہیں۔ پروپیگنڈے کی اس جنگ میں دہشت گردی کا  لیبل لگاکر  انہیں  شہادتوں کے اس سفر سے ہٹانا چاہتے ہیں ۔ ایک مسلسل  جنگ ہے جسکے نتیجے میں یہ اپنے قلم کے زریعے  اس قوم میں  سوچ کی ایک ایسی خلیج  بنانا چاہتے ہیں جسے پاٹنا اسکے لئے نا ممکن ہو جائے ۔
یاد رکھئے جب کبھی اس قوم پہ بیرونی تسلط کی صورت میں برا وقت آیا ۔ شہادتوں کے  قافلے کے  امین  یہ لوگ ہی اپنے سروں کی فصل کٹوائینگے ۔    بیرونی آقاوں کے پیسوں پر یہ کالم لکھنے والے  اس ملک سے  بھاگ چکے ہونگے

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں  ہونا


Friday, 8 November 2013

دائروں کا سفر


ہم وہ قوم ہیں  جو دائروں میں سفر کرتی ہے ۔  اور دائروں کا کبھی کوئی آغاز اور کوئی اختتام نہیں  ہوتا ۔  جیسے موت کے کنویں کا دائرہ ۔ کولہو کے بیل کا دائرہ ،  مولوی کی مسجد کا دائرہ ۔    
اور دائروں کا یہ سفر نہ ختم ہونے والا سفر ہوتا ہے ۔   جب دائروں کا سفر لا متناہی ہے تو ایسے سفر کی کبھی کوئی منزل نہیں  ٹہرتی ۔ اور جس سفر کی کوئی منزل نہ ہو ، اس راہ کے مسافر  کبھی   آشنائے راز نہیں ہو پاتے ۔   سفر اور  راہ ، یہاں تک راہ رواں بھی  اسکے لئے ایک بھید بن جاتے ہیں ۔ جسےدائروں کے مسافر کبھی کھوج نہیں پاتے۔۔۔ جان نہیں پاتے ۔ ۔اس لئے دائروں کا یہ سفر دنیا کا سب سے برا بھید بھی ہے ۔
اور پاکستانی قوم کو بھی کولہو کے بیل کی طرح  دائروں کے اس سفر میں الجھا دیا گیا ہے ۔کبھی اسے سمجھایا جاتا ہے ۔ مظلوم مسلمان بھائیوں کیلئے لڑنا جہاد ہے ، تو کبھی اسے کہا جاتا ہے ۔ کہ پرائے معاملات  میں  ٹانگ  اڑانا  دہشت گردی ہے ۔  کبھی اسے بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے ہر خطے میں بسنے والا مسلمان  تیرا بھائی ہے تو کبھی کہا جاتا ہے ، سب سے پہلے پاکستان ۔  کبھی اس پہ تیس لاکھ مہاجرین کا بوجھ  لاد دیاجاتا ہے ۔ تو کبھی ایک سفیر کا بوجھ بھی برداشت نہیں کیا جاتا اور دنیا کے سارے مسلمہ اصولوں کو نظرانداز کرکے اسے غیروں کے ھاتھوں بیچ دیا جاتا ہے ۔
 کبھی اخبار میں ایک خبر لگانے والا ، اور بلوچستان کے پسماندہ علاقے کا  ایک  روٹی مانگنے والا  غدار ٹہرتا ہے ،  تو کبھی   44ملکوں کے ایجنٹوں کو  ویزے جاری کرکے انہیں غدار بھرتی کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے  
کبھی کمشنری نظام ، کبھی ضلعی نظام حکومت ،  پھر کمشنری سسٹم اور پھر وہی ضلعی  بلدیاتی نطام ۔ وہی دائرے کا سفر ۔
شاید  یہی ہمارا المیہ ہے کہ ہر شخص  نے اپنی ذات کےگرد ایک دائرہ  کھینچ دیا ہے ، اور وہ کسی کو اپنے دائرے میں جھانکنے  نہیں دیتا ۔ یہ دائرہ  اسکے لئے مسجد کی طرح مقدس  بن گیا ہے ۔ اور انہی دائروں میں رہتے رہتے ہم نے شاید خود کو انہی دائروں کا قیدی بنا ڈالا ہے ۔ زندگی کو مختلف  دائروں میں بانٹ دیا ہے ۔ ایک مذھب کا دائرہ ۔ ایک سیاست کا دائرہ ۔ ایک معیشت کا دائرہ ۔ کوئی بھی کسی کو بھی اپنے دائرے میں گھسنے نہیں دیتا اور دوسرے کو اپنے دائرے میں آنے نہیں دیتا ۔ ایسا لگتا ہے ۔ ہم دائروں کے قیدی بن کر رہ گئے ہیں ۔ شاید کبھی دائروں سے  نکل کر دیکھیں تو ایک دوسرے کو سمجھ سکیں ۔ 
اگر اپنے دائروں سے نکل نہ سکیں تو کم از کم اپنے دائرے دوسروں کے دائروں سے ملا ہی دیں ۔ تو شاید ہمارے دائروں ہی میں کچھ طاقت آ جائے ۔ بھنور کے دائرے بھی تو ایک دوسرے سے ملے ہوتے ہیں ، جڑے ہوتے ہیں ۔ کتنے مضبوط ہوتے ہیں ۔ ہلا کے رکھ دیتے ہیں ۔   
   دائروں کے اس سفر کی  کوئی سمت نہیں ، کوئی منزل نہیں ۔ اور اب تو  میڈیا کے زریعے  کولہو کے بیل کی آنکھوں پہ پٹی بھی باندھ  دی  گئی ہے ۔  اب جہاں چاہو  جس طرح چاہو  اسے گھماو ، جس طرح چاہے  چلاو  ۔  یہ قوم ہمیشہ  یہی سمجھے گی کی یہ آگے کی طرف بڑھ رہی ہے ،  سفر  کٹ رہا ہے ۔   لیکن  اسے کون سمجھائے کہ دائروں کے سفر میں  ، سفر کبھی نہیں کٹتا ۔۔ کون بتائے  کہ دائروں کا سفر  ، سفر ہی نہیں ہوتا ۔   ۔اب اس قوم کے لئے  سفر ، اور راہ  ۔۔یہاں تک کے  راہ رواں بھی ایک بھید  بن چکے ہیں ۔